مجھے یاد ہے کہ ہماری شادی ایک Arranged Marriage تھی ۔ ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ لڑکی جتنا اچھا ریشمی کوفتہ بناتی ہے اتنی ہی لذیذ اس کی لکھائی بھی ہے ۔ ہم نے بھی یہی بتایا تھا کہ لڑکا( یعنی کہ میں) اتنا امیر ہے کہ ہر سال گاڑی بدلتا ہے لیکنOne Woman Man ٹائپ ہے۔ ایک دوسرے کے Strong Points کو Highlight کر کے ہماری شادی توہو گئی، لیکن ہمارے بڑے ہمیں یہ بتانا بھول گئے کہ شادی Strong Points نہیں بلکہ Weak Points کو اپنا لینے کا نام ہے، اور یہاں ’’ایڈجسٹ کر لینا‘‘جیسے الفاظ بالكل استعمال نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ پوری زندگی Adjust کر کے نہیں گزاری جا سکتی ،بلکہ پوری زندگی ساتھ گزارنے کے لئے چاہئے آپس میں دوستی ۔
آج اس نے پہلی بار مجھے بتایا تھاکہ منگنی والے دن سموسے نہ اس نے بنائے تھے نہ اس کی امی نے،بلکہ سموسے بازار سے منگوائے گئے تھے،اور یہ کہ اس کی انگلش میں سپلی آئی تھی۔آج میں نے بھی اس کوبتا دیا کہ ولیمے والے دن گاڑی میری نہیں میرے کزن کی تھی،اور میں ہر سال تو نہیں لیکن ہاں ہر سات سال بعد گاڑی ضرور بدل سکتا ہوں۔ہم دونوں کھل کھلا کر ہنس دیئے تھے ۔
ہمارے معاشرے میں شادی کی بنیاد کھوکھلی رکھی جاتی ہے۔لڑکا اور لڑکی کو یقین دلایا جاتا ہے کہ دنیا کے بہترین انسان سے ان کی شادی کی جا رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپنے شریک حیات کی پہلی چوٹ ، پہلی خامی ، پہلی کمی کو Accept کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے ۔ وہ چائے اچھی نہیں بناتی،مجھے معلوم ہے۔ہمیشہ میں ہی چائے بناتا ہوں،اچھی چائے ضروری نہیں ہے لیکن اچھا دوست بہت ضروری ہے۔

1 Comment

  1. Tasleem Tabassum

    Bilkul sahi hai
    Sachha rista hi acha rishta hai…
    aur
    bazboot
    Hota hai

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢