حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو روٹی کا ٹکڑا پڑا دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اٹھایا اور  فرمایا کہ عائشہ عزت والی چیز کو عزت دو کیونکہ اللہ تعالی رزق جب کسی قوم سے چلا گیا تو اس کی طرف لوٹ کر نہیں آتا ۔
اس حدیث کو سامنے رکھیے اور پھر ہماری دعوتوں کا تصور کیجیے جہاں دسترخوان انواع و اقسام کی لذیذ ڈشوں سے سجائے جاتے ہیں کچھ دیر بعد اس کھانے کا بڑا حصہ کچرے کے ڈھیر کی نذر ہوجاتا ہے۔
یا ڈھیر سارا بچا ہوا باسی کھانا، کسی فقیر کے کشکول میں انڈیل کر یا کام والی کے سر لادکر ہم خود کو حاتم طائی سمجھنے لگتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں جتنا اناج اگایا جاتا ہے اس کا 17 فیصد ضائع ہوتا ہے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بھوک کا اصل سبب کئی ہزار ٹن غذاکی ذخیرہ اندوزی ہے۔جس پر بھوکے اور غریب کا حق ہے۔ لالچی منافع خور اسے گوداموں میں سڑاکر سمندروں میں پھینک دیتے ہیں اور کروڑوں غریب لوگ بھوکے رہ جاتے ہیں بلکہ جو کسان تپتی دھوپ میں دن بھر کھیتوں میں اپنا خون پسینہ سکھاتا ہے وہ سوکھی روٹی سے اپنا پیٹ بھر لیتا ہے ،بلکہ بہت سے کسان بھوک کے مارے خودکشی تک کرلیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ اس غذا کو جو کروڑوں انسانوں کی بھوک مٹاسکتی تھی، ماتھے پر شکن لائے بغیرضائع کر دیتا ہے۔
قدرت نے آپ کو دولت دی ہے مگر وسائل ضائع کرنے کا حق نہیں دیا ہے، یہ وسائل معاشرے کی امانت ہے انہیں بے دردی سے ضائع نہ کریں۔

1 Comment

  1. نام *khairunnisa begum

    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    اللہ تعالی نے ہمیں اتنی ساری نیمتں دی ہیں
    ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے ماشاءاللہ بہت اچھا مضمون ہے

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢