محترمہ ایڈیٹر صاحبہ اور عزیز قارئین!
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ تمام بخیر ہوں گے۔
جولائی کے شمارےکا سرورق اتنا خوبصورت اور بامعنی تھا کہ اسے دیکھ کر دل میں بے اختیار مختلف جذبات امڈ آئے۔
ہونٹوں پہ تبسم بھی آیا، آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت ہمیشہ دل پر ایسا ہی اثر ڈالتی ہے۔
مکمل شمارہ ہمیشہ کی طرح پوری آب وتاب کے ساتھ نظروں کے سامنے تھا، پھر انتظار کس بات کا؟مطالعہ کا آغاز کردیا۔
کچھ مضامین ایسے تھے جن پر بے اختیار قلم اٹھانے کا دل چاہا۔
جیسے:زمرہ فوز و فلاح میں منیرہ آپا سے متعلق مختلف افراد کے تحریر کردہ ان تعزیتی الفاظ کے ذریعہ منیرہ آپا سے متعارف ہوئی، ان کی زندگی کے مختلف پہلو سامنے آئے۔کبھی بے اختیار آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تو کہیں ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔امیر و مامور کے طور پر منیرہ آپا کا کردار اور تحریکی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ شادی شدہ زندگی کو بھی ان کا خوبصورتی سے نبھانا خصوصاً متاثر کر گیا۔تحریکِ اسلامی کی یہی خاصیت ہے کہ وہ انسان کو مقصد سے عشق کے ساتھ ساتھ ترجیحات کا بہترین تعین اور زندگی میں توازن برقرار رکھنا سکھاتی ہے۔
گرلز پلانٹ میں ادیبہ مسکان نے عصر حاضر کو بہترین پیغام دیا۔یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں میں عام ہوچکے علیحدہ قومی تصور کو جب تک ہم ختم نہیں کرتے ،سماج میں مطلوبہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہوں گے۔
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
اس پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔
کیس اسٹڈی میں پیش کیا گیا مسٗلہ ایک عرصے سے ذہن میں تھا۔ کئی دفعہ سوچا کہ اس پر قلم اٹھاؤں لیکن وائے سستی!
اپنے اس ناپختہ ذہن میں اس سے متعلق موجود نکات میں سے کچھ تحریر کر کے بھیجے ہیں ،امید ہے کسی کام آئیں گے۔
بنت ابراہیم نے امانت کے حق کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ واقعی یہ وقت دوسروں پر اظہارِ غضب کا نہیں بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے کا ہے۔ دنیا کے حالات کے ذمہ دار ہم بھی ہیں۔ اس موضوع پر مزید بات ہونی چاہیے جس کے ذریعے ہم اپنا لائحہ ٔ عمل طے کر سکیں اور اس سیاہ شب کے پردے سے ایک روشن آفتاب طلوع ہو۔
’’حج 2022 رہنما خطوط‘‘ کے ذریعہ جو رہنمائی کی گئی، اسے پڑھ کر احساس ہوا کہ زیادہ بہتر ہوتا اگر اسے مئی یا جون کے شمارہ میں جگہ دی جاتی۔
سیاسی منظر نامے میں پیش کی گئی تحریر ذہن پر ایک مایوسی کا تاثر چھوڑجاتی ہے۔ اس قسم کے مضامین جذبات کو منفی رخ دے کر بغاوت اور تشدد پر اکساتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جب بھی اس قسم کے حقائق کا ذکر کریں ساتھ ہی اس کا حل بھی دیں ، امید کی ایک کرن کے ساتھ۔
گوشئہ مطالعہ میں کتاب ’’راستے خاموش ہیں‘‘پر تبصرہ نگار کا بے لاگ تبصرہ لطف دے گیا۔ تبصرہ نگار نے اردو تحریر میں انگریزی الفاظ کے استعمال پر اعتراض کرکے ہمارے دل کی بات کہہ دی کہ ہم بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جو اردو میں کسی قسم کی ملاوٹ برداشت نہیں کر سکتے۔
اردو سے عشق ہے ہمیں اردو سے پیار ہے
دیگر تحریریں بھی قابل تحسین ہیں۔ درمیان میں چھوٹے چھوٹے اقتباسات اور تحریریں غور و فکر پر مجبور کر دیتی ہیں۔
اور زمرہ قاری کی رائے سے ہادیہ کے ہر دلعزیز ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
یہ یقیناً ٹیم ہادیہ کی عرق ریزیوں اور خدائے برتر کی رحمتوں کا نتیجہ ہے۔
اللّٰہ آپ تمام کی ان کوششوں کو قبول کرے اور آپ کے وقت میں برکت دے۔ آمی
وعلیکم السلام
آپ نے ایڈیٹر کے ساتھ قارئین کو مخاطب کرکے دل شاد شاد کیا ۔
جن مضامین کو پڑھا،دیانت داری سے اس کا ذکر کیا، نہ صرف ہمت افزائی کی بلکہ ایک اہم نکتے کی جانب توجہ بھی مبذول کروائی ۔
سیاسی منظر نامے میں امید افزاء بیانیے پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔آپ کا مراسلہ پڑھ کر برجستہ افتخار عارف کا شعر یاد آیا :
ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
قاری کی رائے کا ہمیں انتظار رہتا ہے، زیرک قارئین تو ھادیہ کا اثاثہ ہیں ۔
شاد و آباد رہیں ۔
شکرا جزیلا

ایڈیٹرھادیہ ای ۔میگزین

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢