بیٹیاں زخم سہہ نہیں پاتیں
بیٹیاں درد کہہ نہیں پاتیں
بیٹیاں آنکھ کا ستارہ ہیں
بیٹیاں درد میں سہارا ہیں
بیٹیوں کا بدل نہیں ہوتا
بیٹیوں سا کنول نہیں ہوتا
خواب ہیں بیٹیوں کے صندل سے
اُن کے جذبات بھی ہیں مخمل سے

بیٹیوں کو ہراس مت کرنا
ان کو ہرگز اداس مت کرنا
بیٹیاں نور ہیں نگاہوں کا
بیٹیاں باب ہیں پناہوں کا
باپ کا بھی یہ مان ہوتی ہیں
بیٹیاں ہیں سکون ماؤں کا
بیٹیاں ہیں ثمر دعاؤں کا
بیٹیوں کے ہیں موم جیسے د ل
درد کی آنچ سے پگھلتے ہیں

بیٹیوں کو سزائیں مت دینا
ان کو غم کی قبائیں مت دینا
بیٹیاں چاہتوں کی پیاسی ہیں
یہ پرائے چمن کی باسی ہیں
مارنا مت جنم سے پہلے ہی
بوجھ ان کو کبھی سمجھنا مت
بیٹیاں بے وفا نہیں ہوتیں
یہ کبھی بھی خفا نہیں ہوتیں

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢