کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر ابھی بادل منڈلا رہے ہیں۔ مطلع ابھی صاف نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں آسمانِ تعلیم پر ایک نیا ستارہ نمودار ہوا ہے۔ جو اپنی مثال آپ ہے۔ اس کی روشنی سے امید کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ انجینئرنگ گریجویشن میں ایک باحجاب طالبہ نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ 16 گولڈ میڈلس حاصل کرنے والی اس طالبہ سے آج ہم ملاقات کر رہے ہیں۔
انٹرویور:
تو سسٹر بشری متین آپ کی اس کامیابی پر ’’ھادیہ ای میگزین‘‘کی جانب سے ڈھیر ساری مبارکبادیں قبول کریں۔سب سے پہلی بات آپ سے جاننے کے لئے ذہن میں ابھرتی ہے کہ اس کامیابی کا راز کیا ہے؟

بشریٰ متین:

الحمدللہ میں اللہ تعالی کی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اس کامیابی سے نوازا۔ مجھے جو کامیابی ملی ہے گریجویشن کے لیے ،اس کامیابی کا راز یہی ہے کہ اس میں کچھ میری محنت ہے۔ کچھ میری لگن ہے۔ کچھ Self Study ہے۔اس کے علاوہ جو نماز ہے یہ کامیابی کا ایک سچا راستہ ہے۔ تو نماز کے ساتھ میرا تعلق مضبوط ہے۔
انٹرویور:
محنت اور لگن سے آپ نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کیا شروع سے ہی آپ ایسی امتیازی رہی ہیں؟ اپنی ابتدائی تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیں۔

بشریٰ متین:

میں نے اپنی اسکولی تعلیم سینٹ میری کانوینٹ اسکول، رائچور سے حاصل کی۔ اس کے بعد پرمانا پری یونیورسٹی کالج، رائچور سے انٹرمیڈیٹ کیا۔ پھر وسویسوریا ٹیکنالوجی یونیورسٹی، کرناٹک سے ملحق SLN کالج آف انجینئرنگ، رائچور سے سول انجینئرنگ میںCGPA 9.73/10 کے ساتھ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ جس میں مجھے الحمد للہ مختلف کیٹیگریز میں 16 گولڈ میڈل دیے گئے۔اور الحمدللہ شروع سے ہی میں پڑھائی میں اچھی تھی۔ پڑھائی میں پہلے سے ہی مجھے Interest تھا۔
انٹرویور:
آپ نے سول انجینئرنگ ہی کو کیوں اہمیت دی؟ آج کل کمپیوٹر سائنس ہے۔الیکٹرانکس کو بھی اہمیت زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیکل فیلڈ بھی طلبہ میں مقبول عام ہے۔

بشریٰ متین:

میں نے پہلے ہی اپنا Mind سیٹ کیا تھا کہ مجھ کو انجینئرنگ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ مجھ کو رائچور میں رہ کر ہی Studies کرنی تھی۔ اور میرے والد بھی خود ایک سول انجینئر ہیں، تو کچھ ان سے بھی Inspiration تھی، اس لیے میں نے سول انجینئرنگ کو منتخب کیا۔
انٹرویور:
آپ کی ترقی میں آپ کے اہل خانہ اور اساتذہ کا کیا رول رہا؟

بشریٰ متین:

گھر میں میرے والدین نے مجھے ہمیشہ پڑھائی میں سپورٹ کیا۔ میرے والد صاحب کا خیال تھا کہ میں میڈیکل کروں۔ چونکہ میرا Interest سول انجینئرنگ میں تھا۔ اس لئے میں نے خود یہ Decision لیا کہ مجھے میڈیکل نہیں کرنی ،بلکہ انجینئرنگ کرنی ہے۔ اور میرے والدین میرے بڑے بھائی نے مجھے سپورٹ کیا۔ کبھی Pressurize نہیں کیا کہ آپ کو یہ پڑھنا ہے یا یہ نہیں پڑھنا ہے۔ اس کے علاوہ میرے کالج کے پروفیسرزاسکول کے ٹیچرس، میری کامیابی کے پیچھے ان ہی کی محنت ہے۔
انٹرویور:
آپ مستقبل کے لئے کیا سوچتی ہیں؟

بشریٰ متین:

فی الحال مجھ کو انجینئرنگ کے بعد بہت ساری نوکریوں کی پیش کش آئی ہے، لیکن میں ابھی یو پی ایس سی کی تیاری کر رہی ہوں۔ میری خواہش ہے میں ایک اچھی آئی ایس آفیسر بن کر ملک کے لیے خدمات انجام دوں۔
انٹرویور:

ماشاءاللہ!! اللہ آپ کو اور ترقی عطا کرے۔ آپ کی دلچسپیاں کون کون سی ہیں؟

بشریٰ متین:

میری دلچسپیاں پڑھائی سے Related ہیں۔ مجھے کتابیں پڑھنا پسند ہے۔ اس کے علاوہ Travelling کرنا پسند ہے۔ اور نئی نئی چیزوں کو Explore کرنا مجھ کو اچھا لگتا ہے۔
انٹرویور:
کالج کے Syllabus کے علاوہ بھی آپ اور کچھ مطالعہ کرتی ہیں یا Tuition وغیرہ سے متعلق ہے؟

بشریٰ متین:

کالج کی کتابوں کے علاوہ مجھے ناول پڑھنا پسند ہے۔ میں فکشن اور نان فکشن دونوں ہی پڑھتی ہوں،اور میں نے کبھی بھی ٹیوشن نہیں لی۔ میں نے صرف کالج کی کلاسزپابندی سے کی ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ Self Study کی ہے۔
انٹرویور:
ماشاءاللہ! آپ ٹیوشن کے بغیر ہی سیلف اسٹڈی کے ذریعہ اتنا آگے بڑھیں، کیا کبھی تعلیم کے دوران کوئی دشواری یا آزمائش پیش آئی؟

بشریٰ متین:

جی نہیں، الحمدللہ ایسی کوئی دشواری یا پریشانی کا مجھ کو کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا، لیکن یہ تھا کہ Covid -19 کی Situation تھی۔ کلاسز Online تھیں، لیکن امتحان Offlineتب تھوڑی محنت زیادہ کرنی پڑ رہی تھی، لیکن اللہ پر پورا یقین تھا۔
انٹرویور:
حجاب کا اہتمام آپ کب سے کر رہی ہیں اس کی وجہ سے کوئی پریشانی یا دشواری کا سامنا کرنا پڑا؟

بشریٰ متین:

الحمد للہ میں نے اب تک ایسا کچھ سامنا نہیں کیا ہے۔ جب کہ میں پری یونیورسٹی سے لے کر انجینئرنگ کی تعلیم تک حجاب کرتی آئی ہوں۔ حجاب کا مسئلہ ابھی2022ء میں آیا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے اس طرح کی بات نہیں تھی۔ انڈیا ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے، جہاں آئین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور وہی آئین ہمیں بنیادی حقوق عطا کرتا ہے۔ جس کی کسی بھی طرح خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔ حجاب بھی بنیادی حقوق کے ذیل میں آتا ہے۔
انٹرویور:

دینی تعلیم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

بشریٰ متین:

جی بالکل، دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے۔ میرا خیال ہے کہ دین کی تعلیم کی وجہ سے ہی دنیاوی تعلیم کی کامیابی ہے۔ میرے نزدیک نماز کی پابندی اول درجے پر ہے۔ اور قرآن کی تلاوت میرے لئے سکون کا باعث ہے۔ ہر کامیابی کا راز نماز میں ہے، اللہ کی رضا کے لئے میں نماز پابندی سے ادا کرتی ہوں۔ تہجد کی نماز کی بھی میرے نزدیک اہمیت ہے۔ میں نے جو بھی مانگا ہے اللہ نے مجھے عطا کیا ہے۔
انٹرویور:
ہادیہ کے قارئین کے لیے آپ کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟

بشریٰ متین:

میں تمام والدین سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ قوم و ملت کی ترقی کے لیے اپنی لڑکیوں کو ضرور زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں۔ اسکے علاوہ جو طلبہ ھادیہ کی قاری ہیں۔ آپ اپنی پڑھائی پر خوب فوکس کریں، محنت کریں، نمازوں کی پابندی کریں اللہ محنت کرنے والوں کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا ہے۔جیسا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال فرماتے ہے کہ
عطار ہورازی ہو رومی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی
انٹرویور:
بشریٰ متین صاحبہ! آپ کا بہت بہت شکریہ ۔بہت خوشی ہوئی ہے آپ سے مل کر۔
بشریٰ متین نے اپنے شوق و لگن اور مسلسل محنت سے کامیابی حاصل کی۔ ان کا اکیڈمکPerformanceبھی بہت خوب رہا۔ 16 گولڈ میڈلس حاصل کیے۔یہ ہم سب کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے۔ ان کی کامیابی نے امت مسلمہ کا سر فخر سے اونچا کر دیا، اور حجاب کو کامیابی میں رکاوٹ کہنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اسی کے ساتھ اگلے ماہ ایک نئی شخصیت کے انٹرویو کو لیکر پھر ہم حاضر ہونگے۔ تب تک کے لیے اللہ حافظ۔
(مندرجہ بالا متن سوشل میڈیا پر بشری متین کےدیئےگئے مختلف انٹرویوز سے ماخوذ ہے۔)

1 Comment

  1. Tasleem Tabassum

    Masha Allah zabardast interview hai.
    Hadiya e magzine aou Bushra Mateen dono ko bahot bahot Mubarak….
    ALLAH talaw aur taraqi ata farmaey……

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢