ہمارا ملک ایک زرخیز زرعی ملک ہے ،جو دنیا کے ایک بڑے حصے کو غذائی اشیاءپہنچاتا ہے،لیکن افسوس آج ملک کا بڑا حصہ سیلاب کی لپیٹ میں ہے ۔ہر سال طغیانی بارش، سیلاب کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جانیں ضائع ہورہی ہیں اور کروڑوں روپے کا مال تباہ ہو رہا ہے ۔ ہر زمانے میں انسان نے آفت سماوی کا سامنا کیا ہے۔سیلاب، سونامی ،بادل کا پھٹنا،اس کے علاوہ جنگل کی آگ،قحط وغیرہ۔
اس سے نمٹنے کی کی تدابیر اختیار بھی کی گئیں ۔کچھ حد تک کامیابی تو ملی، لیکن ہم اس پر مکمل طور پر قابو نہیں پا سکے ۔ عالمی طور پر دیکھا جائے تو یورپی ممالک آسٹریلیا، بیلجیم جرمنی ،اٹلی ، نیدرلینڈ، سوئٹزر لینڈ ،کینیڈا، ارجنٹینا، چلی،بھارت، پاکستان، چین، بنگلہ دیش یہ ممالک بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں بھارت کا نمبر آتا ہے ۔
بھارت میں سیلاب کی تباہ کاریاں
سیلاب سے متاثر ریاستوں کی لمبی فہرست ہے۔ بڑے پیمانے پر سیلاب کی زد میں آئے شہر ،علاقے کی فہرست پر نظر ثانی کرتے ہیں تو ہماری سیلاب سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔26/جولائی 2005ءمیں ممبئی میں 24گھنٹوں لگاتار 944ملی میٹر بارش نے پورے شہر کو جل تھل کر دیا تھا۔پورے کے پورے علاقے پانی میں ڈوب چکے تھے۔لوگ آفسز اورسڑکوںپر جہاں تھے وہاں پھنس گئے۔گاڑیاں ڈبل ڈیکر سب پانی میں ڈوب گئے۔ہزاروں جانیں ضائع ہوئی تھیں۔
2007ءمیں بہار کے 19اضلاع،4872 گاؤں سیلاب سے متاثر ہوئے۔زرعی زمین کا ایک ایکڑ حصہ پانی میں تھا۔بڑے پیمانے پر فضلیں تباہ ہو ئی۔2015ءمیں تامل ناڈو میں 1.8ملین اور بنگلہ دیش میں 9ملین آبادی متاثر ہوئی اور600سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔امسال آسام،مدھیہ پردیش،اتراکھنڈ،بہار،بہت متاثر ہوئے۔سینٹرل واٹر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 1953ءسے2016ءکے اعداد و شمار کے مطابق آسام میں سیلاب سے ہر سال اوسطاً 26لاکھ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔
’’دی ہندو‘‘ اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ریاست کو ہر سال 200کروڑ روپیوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
مانا کہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے،لیکن بھاری نقصان کےلئے اور بھی عوامل ذمہ دار ہیں،جیسےپانی کی نکاسی کا بہترین انتظام،سیوریج سسٹم،ڈیم بنانا سیلاب کو قابو میں رکھنے کےلئے ضروری ہے۔ جنگلات کی کٹائی ،جگہ جگہ نئی تعمیرات کی وجہ سے پہاڑ کو لینڈ سلائیڈنگ کمزور کر رہی ہے، جو نئے علاقوں میں پانی کے بہاؤ کے لئے روکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔مقامی سطح پر کچروں کے ڈھیر،سڑکوں پر گڑھے،سڑکوں اور پلوں کی تعمیرات میں خراب اور ضرورت سے کم میٹیریل کے استعمال کی وجہ سے پل کا گرنا،سڑکوں کا دھنسنا وغیرہ بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا رہے ہیں۔لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے جان و مال کا نقصان،ہیضہ،کالرا بخار،سردی،دمہ،وغیرہ بیماریوں کا حملہ، ہر سال غریب بستیاں اس طرح کے عذاب کو جھیل رہی ہے۔
سیلاب سے پہلے اس کی جانکاری لوگوں کو پہنچا ئی جائے،ہنگامی بنیادوں پر امدادی کام،وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مثال کے طورپر کینیڈا کے ٹورنٹو اور انٹاریو جھیل کے نشیب میں 500کلو میٹرز دور دریائے سینٹ لارنس میں طغیانی کا خدشہ تھا۔جس کے بارے میں صوبہ کیوبک کے وزیر اعظم فلاپی کوئیلرڈ نے دو روز پہلے ہی عوام کو متنبہ کر دیا،مکانات خالی کر دیے گئے۔مختلف شہروں میں 400فوجی اہلکار تعینات کیے گئے۔اس وجہ سے بہت بڑے نقصان سے بچ سکے۔اسی طرح چائنا میں سیلاب سے 3.75ملین لوگ متاثر ہوتے اور70.4ملین ڈالرز کا نقصان پہنچتا۔ صرف 6جانیں ضائع ہوئیںاور12لوگ لا پتہ ہوئے۔سیلاب سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔تب ہی جان و مال کے نقصان کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢