جلتا جُھولا
سچائی کا پیکرِ لازوال، محبت، شفقت، تڑپ ، قربانی، مہربانی جب یہ تمام لفظ یکجا ہوجائیں تو لفظ ’ماں ‘ بن جاتا ہے ۔
اس تصویر میں جھولا جَلانے والی خاتون اور کوئی نہیں بلکہ ایک ماں ہی ہے۔ وہ ماں جس نے اس جھولے میں اپنے چھ بچوں کو زندگی کے مشکل حالات سے لڑتے ہوئے پال پوس کر بڑا کیا اور اپنی پوری زندگی ان کی پرورش و پرداخت کے لیے وقف کردی۔ اپنی خواہشات کو نہ دیکھتے ہوئےاولادکی ہر چھوٹی اور بڑی خواہش کو پورا کیا ۔ اب جب کہ وقت تبدیل ہوا، جس ماں نے ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، وہ اب ان بیٹوں کے ہاتھ پکڑکر چلنے کی محتاج ہوگئی۔ لیکن بجائے سہارا دینے کے، ایک ایک کرکے سب نے ماں کا ساتھ چھوڑ دیا۔ زندگی کے اس آخری لمحے میں ماں کو تنہا چھوڑ کر اپنی زندگی میں مصروف ہوگئے۔
ماں کہتی ہے کہ ’’میں وہ جھولا جَلارہی ہوں، جسے دیکھ کر ہر روز میں خود جلتی ہوں۔آج میں نے وہ یادیں بھی جلا دی ہیں ۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے والدین کا فرماں بردار بنائے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔
اُجڑے باغوں میں بہار نہیں آتی
سوکھے پھولوں میں نکھار نہیں آتی
گزرجاتی ہے زندگی انکاروں پر
ماں بچھڑ جائے تو بار بار نہیں آتی

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢