اولاد کی تربیت کے جدید ذرائع اور اسلامی تعلیمات
خواتین کی ایک بڑی ذمے داری بلکہ بنیادی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں۔ اللہ کے رسول ؐ کی مشہور حدیث ہم ہمیشہ سنتے ہیں کہ آپ ؐ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
’’تم میں سے ہر فرد ایک طرح کا حاکم ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا ۔ اس حدیث میں دیگر باتوں کے ساتھ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ:
وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا
’’عورت اپنے شوہر کے گھر کی حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ ‘‘
اس طرح خواتین اپنے گھر اور اپنے بچوں کے لیے ذمےد ار ہیں۔قیامت میں اس کے بارے میں سوال ہوگا۔بچوںکی تربیت پر ماں کا رول بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر ماں نے اچھی تربیت کی تو زندگی بھر اس کا اثر باقی رہتا ہے۔ آج ہم سمجھیں گے کہ اسلامی تربیت کیا ہے؟ اس سلسلے میں جدید ذرائع نے کیا چیلنج پیدا کیے ہیں اور کیا مواقع پیدا کیے ہیں؟ اور ان حالات میں ہم کیسے اپنے بچوں کی تربیت کریں؟اس سلسلے میں چند بنیادی باتیں میں آپ کے سامنے رکھوں گی۔
مسلمان ماں کو اصلاً تربیت کس چیز کی کرنی چاہیے، یا یہ کہ تربیت کے مشمولات کیا ہوں؟ میں سمجھتی ہوں کہ اس سلسلے میں بڑی واضح رہنمائی اس وصیت سے ہوتی ہے جو حضرت لقمانؑ نے اپنے بیٹے کو کی تھی اور جسے قرآن نے بیان کیا ہے:
وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ(لقمان:13)
’’یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اس نے کہا :بیٹا! خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘
یہ سب سے پہلی بات تو جو لقمان نے کہی تھی۔
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَهُ ۚ إِنَّ اللَهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ‎۔‏ يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ۔‏ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ‎۔‏ وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ (لقمان 16 تا 18)
’’(اور لقمان نے کہا تھا کہ) بیٹا، کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو، اللہ اُسے نکال لائے گا وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔بیٹا! نماز قائم کرنے کا حکم دے، بدی سے منع کر اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔ اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔‘‘
ان آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تربیت میں سب سے پہلی چیز عقیدے کی تربیت ہے۔ بچوں کو اللہ پر، توحید پر اس کی صفات پر گہرا یقین ہو، اس پر بھروسہ ہو، اس کا ڈر ہو،اس سے محبت ہو، یہ سب سے پہلی اور بنیادی کوشش ہونی چاہیے۔ اسلامی شخصیت اسی عقیدے کی بنیاد پر تعمیر ہوتی ہے۔
دوسری اہم چیز اللہ سے تعلق اور اپنے فرائض کی ادائیگی کی فکر ہے۔ بچے نماز کے عادی ہوں۔ نماز کے عادی ہوں گے تو اپنے دیگر فرائض کے سلسلے میں بھی حساس ہوں گے۔ اللہ سے تعلق رکھنے والے فرائض بھی ادا کریں گے اور بندوں سے تعلق رکھنے والے بھی۔
تیسری اہم تربیت مزاج کی تربیت ہے۔ صبر اس کی سب سے بڑی علامت ہے۔ یعنی بچوں کے اندر برداشت کی قوت ہو۔ اپنے غصے کو، خواہشات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت ہو۔مشکلات میں وہ پریشان نہ ہوجائیں اور حوصلہ باقی رکھیں۔
صبرمتوازن شخصیت بناتی ہے۔ ہمیں بچپن ہی سے بچوں کے مزاج اور ان کے جذبات کی اس طرح تربیت کی کوشش کرنی چاہیے اور چوتھی چیز اخلاق و آداب کی تربیت ہے۔ یہاں دو تین باتیں بیان کی گئی ہیں۔قرآن و حدیث میں اور جگہ اور تفصیل بھی ہے کہ غرور نہ ہو، چال میں اعتدال ہو، آواز مہذب ہو، یعنی وہ جنیےکے ٓاداب بھی وہ سیکھیں۔ لیکن قرآن نے جس طرح اسے بیان کیا ہے اس میں ترتیب بھی ہے۔مضبوط عقیدہ سب سے اہم چیز ہے۔اس کے بعد فرض کی ادائیگی ہے، جو عقیدے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔پھر صالح مزاج اورمتوازن شخصیت ہے۔یہ عقیدے اور فرائض کی ادائیگی کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اخلاق و آداب ان تینوں کے بغیر ممکن نہیں۔
قرآن و حدیث کی تعلیمات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بچوں کے اندر وہ خصوصیات بھی ہونی چاہییں جو آج کے زمانے میں دنیا کو فتح کرنے، عزت کی زندگی گزارنے اور اسلام کو فروغ دلانے کے لیے ضروری ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بچوں کو گھڑ سواری سکھانے کا حکم دیا۔ تیر اندازی سکھانے کا حکم دیا۔ اس لیے کہ اس زمانے میں یہ سب فنون اور طاقت ضروری تھی۔آج کے زمانے میں علم، صلاحیت کا یہی مقام ہے۔ہمارے بچے مختلف علوم و فنون میں خوب آگے بڑھیں اور اعلی درجے کی صلاحیت پیدا کریں۔ان کی جو بھی صلاحیت ہے وہ کمال کو پہنچے اور انسانیت کے لیے وہ مفید بنیں ، یہ بھی تربیت کا ایک اہم مقصد ہے۔رسول اللہ ﷺ نے علم نافع کی خواہش کی۔ یہ بھی ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارے بچوں کا علم و صلاحیت اس طرح ترقی کرے کہ وہ نافع یعنی انسانیت کے لیےفائدہ پہچانے والاہو۔
پہلی بات ایمان و عقیدہ، دوسری بات فرائض ،تیسری بات مزاج ،چوتھی بات اخلاق و آداب اور پانچوں بات علم و صلاحیت۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ جدید ذرائع وسائل سے کیا چیلنج درپیش ہیں۔اور ان کا اس کے لیے کیسے استعمال ہوسکتا ہے؟
جدید ذرائع وسائل یا میڈیا کی پہنچ بہت گہری ہے۔تاریخ میں ایسی کوئی چیز ابھی تک ایجاد نہیں ہوئی تھی، جو ہماری پرائیوٹ زندگیوں میں اس قدر اندر تک دخیل ہو۔اس کے تین بڑے نقصانات ہیں:
پہلا نقصان تو عقیدے کا اور ویلیوز کا نقصان ہے۔یعنی وہ بات جو مقاصد میں پہلے اور چوتھے نمبر پر ہے۔اس وقت جس میڈیا کے ٹارگیٹ پر ہم ہیں، وہ مغربی قدروں کی خدمت کے لیے ہے۔
جدید میڈیا کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کی پوری ڈیزائننگ ہی کچھ ایسی ہے جوان ویلیوز کے مطابق ہے۔ میڈیا کی پوری اسکیم میں نہایت خاموش طریقے سے مغربی قدروںکو فروغ دیا جارہا ہے ۔ٹام اینڈ جیری بچوں کا رٹون ہے۔ بظاہر یہ چوہے اور بلی کا بے ضرر کارٹون لگتا ہے۔ لیکن اس کارٹون کے ذریعہ بھی مخلوط صنف، کھلے عام بوسہ بازی وغیرہ جیسی دسیوں ایسی باتیں بچوں کےلاشعور میں نقش ہوجاتی ہیں جن کا گہرا تعلق بنیادی تہذیبی قدروں سے ہے۔ پیپا پگ نامی کارٹون کا کم سے کم نتیجہ جو نکل سکتا ہے وہ یہ کہ بچوں کے اندرسے خنزیر کی کراہیت کا تصور ختم ہوجا تا ہے۔ٹی وی کے سیریل اور ریالیٹی شو، خاندان سے متعلق ہماری بہت سی اہم ترین قدروں کی بنیادیں منہدم کرتے ہیں۔
میڈیا کی اس یلغار کی زد صرف قدروں پر نہیں پڑتی، بہت سے بنیادی تصورات بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ حجاب کے بارے میں اس یلغار کے ذریعہ یہ ذہن بنتا ہے کہ یہ عورت پر ظلم اور مرد کے تسلط کی علامت ہے۔ اس کے ذریعے عورت چہار دیواری میں قید ہوجاتی ہے اور ایک قیدی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہے۔ جہاد کے بارے میں یہ کہ آج دنیا بھر میں دہشت گردی کے لیے اسلام کا یہ اہم رکن ذمہ دار ہے بلکہ جہاد کا مطلب ہی دہشت گردی ہے۔لباس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ اس کا اولین مقصد ستر کی حفاظت ہے ۔
يا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا
جب کہ میڈیا سے لباس کا جو تصور قائم ہوتا ہے، اس میں لباس حسن کی نمائش اور اسٹیٹس کے اظہار کا ذریعہ اور فیشن کی علامت قرار پاتا ہے۔میڈیا کے دھیمے زہر کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ہمارے لیے بھی دھیرے دھیرے ستر کی حفاظت کا مقصد غیر اہم ہونے لگتا ہے اور بے حیائی اور نیم عریانی میں کوئی تکلف محسوس نہیں ہوتا۔
سب سے بڑھ کر یہ خدا سے غافل کرتا ہے۔ہمارے بچے جس طرح کے کارٹون دیکھتے ہیں،اس سے وہ ایسی زندگی اور لائف اسٹائل کا تصورپیدا کرتے ہیں، جس میں خدا کا کوئی ذکر نہیں ،جہاں مذہب کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہے۔
دوسرا بڑا نقصان ذمہ داریوں کا نقصان ہے۔قرآن میں کہا گیا ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۔
’’اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے، جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے۔‘‘
یہاں قریش کے ایک شخص نضر بن حارث کا ذکر ہے، جو گانے والیوں اور داستان سنانے والوں کی پرکشش محفلین منعقد کرتا تھا تاکہ لوگ اللہ کے رسول کی محفل میں نہ جائیں۔جدید میڈیا بھی یہ رول ادا کرتا ہے۔ اس میں حد سے زیادہ انہماک ہمیں ذمے داریوں اور فرائض سے غافل کردیتا ہے۔
تیسرا نقصان مزاج کا نقصان ہے۔لقمان حکیم نے تیسری بڑی نصیحت صبر کی تھی۔ جدید وسائل اور میڈیا کا انداز صبر ختم کردیتا ہےاورجلد بازی، بے صبرا پن پیدا کرتا ہے۔
لیکن اس کے صرف نقصانات ہی نہیں ہیں بلکہ بہت سے فائدے بھی ہیں۔ جیسے علم میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔زبان بہتر ہوسکتی ہے۔منٹوں میں دنیا بھر کی سیر ہوجاتی ہے۔ صلاحیتں بڑھتی ہیں اور ان سب سے بڑھ کر بچپن ہی سے چیلنجوں سے واقفیت ہوتی ہے۔
اس طرح صلاحیتوں کے ڈیولپمنٹ کے لیےجو پانچواں مقصد ہے، وہ بے حد مفید ہے۔اس کے ساتھ اب ایسی چیزیں بھی موجود ہیں:
۱۔ ایسے پروگرام، جو اچھے طریقے سے اسلامی عقیدے کو ذہن میں بٹھادیتے ہیں۔
۲۔ ایسے کارٹون اور پروگرام جو اسلامی تاریخ کو پیش کرتے ہوں۔
۳۔ دنیا بھر کی اہم ترین اسلامی شخصیتوں کی تقریریں اور لیکچرز۔
اچھی چیزوں کی طرف بچوں کی رہنمائی کریں۔اسلامی پروگرام دکھائیں اورسمجھائیں۔ اس طرح ہمارا اپروچ یہ ہونا چاہیے کہ ان ذرائع کا اچھا استعمال ہو۔
قرآن و حدیث کی تعلیمات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بچوں کے اندر وہ خصوصیات بھی ہونی چاہییں جو آج کے زمانے میں دنیا کو فتح کرنے، عزت کی زندگی گزارنے اور اسلام کو فروغ دلانے کے لیے ضروری ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بچوں کو گھڑ سواری سکھانے کا حکم دیا۔ تیر اندازی سکھانے کا حکم دیا۔ اس لیے کہ اس زمانے میں یہ سب فنون اور طاقت ضروری تھی۔

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢