ہوئی دین و سیاست میں جس دم جدائی
’سیاست‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب تدبیر و انتظام، مصلحت اندیشی اور حصول اقتدار ہے ۔اس کے برعکس اردو لغت میں اس کے معنی چالاکی اور تحفظِ مفادات کے لیے جدوجہد کے ہیں۔
آج ہر وہ انسان جو خود کو بہت نیک و پارسا سمجھتا ہے، کہتا ہے:
’الله بچائے میری جان سیاست سے‘ اور یہ سوچ کر مطمئن ہوجاتا ہے کہ وہ راست پر ہے۔ لیکن یہی ہماری کوتاہی اور غلط فہمی ہے، جو کم زوری کا رخ اختیار کر کے ہمیں حکومتی اداروں اور منصوبوں سے درکنار کر جاتی ہے، جس کے سبب آج ہم پر پچھڑے پن کا شکار ہیں ہے اور سیاسی اقتدار کھو چکے ہیں۔ایک عام انسان یہ بات کہے تو سمجھ آتی ہے، لیکن تاسف ہے مجھے اس بات پر کہ خود مسلمان بھی یہی سوچ رکھتے اور یہی زبان کہتے ہیں۔ جب کہ ہمارے پاس نبی ؐ کی سیاسی زندگی کا سبق موجود ہے، جو ہمارے لیے اسوہ اور مثال ہے۔
نبیؐکی سیاسی زندگی کا سبق ہمارے پاس موجود ہونے کے باوجود بھی اگر ہم یہی کہتے ہیں کہ الله مجھے سیاست سے بچا، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام میں وہ خوبی و طاقت موجود نہیں جو ’سیاست‘(جسے آپ گندگی سمجھتے ہیں)کو دھو ڈالے؟یا نبی ؐ کی سیاسی زندگی میں وہ فارمولا نہیں جو ہماری موجودہ سیاست میں سدھار پیدا کر دے؟جب کہ نبی ؐنے دین اور سیاست کی تفریق کو مٹایا۔ اسلام دین اور حکومت دونوں کا جامع ہے۔ چنانچہ آپؐبشیر بھی ہیں اور نذیر بھی، یعنی رسول بھی ہیںاور صاحب امر بھی۔ اسے دھو ڈالنے سے میری مراد یہ نہیں ہے کہ اس کا وجود ہی نہ باقی رکھا جائے، بلکہ اس کا وجود ایسا ہو جیسا الله کا فرمان اور جیسی نبی ؐکی سیاست۔
دنیا پرست سیاست دانوں نے آج سیاست کو دلدل میں ڈالا ہے، جن کے لیے انہوں نے اپنی عزت داؤ پر لگائی اور انسانیت قربان کر بیٹھے۔ چوں کہ نرم گرم روٹی، عمدہ کپڑے اور عالیشان مکان مع نفسانی خواہشات، جو انسان کی دنیاوی ضروریات سے تعلق رکھتی ہیں، اسے آج کا انسان کردار سے زیادہ ترجیح دے بیٹھا ہے اور اس سے زیادہ اعلیٰ و ارفع کسی چیز کو نہیں سمجھتا اور اسی کی حوس میں انسانیت ختم کرکے مقام حیوانیت کے قریب سے قریب تر ہوتا ہوا اُس کی آخری حد تک آن پہنچا ہے۔ انہی کے سبب سیاست ہمیں اتنی بری لگنے لگی ہے کہ اگر ہمارے گھریلو ممبرز کے ساتھ ذرا اونچ نیچ ہوجائے تو اس پر سیاست باز کا ٹھپا لگادیا جاتا ہے اور بھول جاتے ہیں کہ دو برتن کے آپس میں ملنے پر کھڑکھڑاہٹ تو ہوتی ہے۔

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

آج کی سیاست اور نبی ؐ کی سیاست میں زمین آ سمان کا فرق ہے۔ آج جو سیاست داں اپنے ذاتی مفاد کے لیے جتنی چوریاں کرتے ہیں، جتنےجابر بنتے ہیں، جتنے فسادات برپے کرتے ہیں،عوام کو فریب دے کر ووٹ بٹورتے ہیں، دغا بازیاں کرتے ہیں اور اپنی کرسی کے اصل منصب کا ناجائز استعمال کرتے ہیں، وہ اتنے ہی قابلِ احترام سیاست داں سمجھے جاتے ہیں۔
موجودہ وقت میں اہلِ سیاست کی توجہ کا مرکز ریاست کے معاملات چلانا نہیں رہ گیا ہے بلکہ کرسی کو حاصل کرنے کی دوڑ ہے۔مختلف پارٹیوں کے نیتاؤں میں ہر وقت سرد جنگ رہتی ہے۔ مقابل و مخالف جماعت کے کارکنان کو مفت میں عجیب و غریب القابات سے نوازا جاتا ہے۔ قانون کو تو بس کاغذات کی حد تک ہی محدودکر دیا گیا ہے۔ ان ساری آلودگیوں کے بغیر موجودہ سیاست ادھوری ہے۔ موجودہ سیاست آج اگر دلدل میں ہے تو نبی ؐ کی سیاسی زندگی سے سبق لے کر اسے کنول بنا کر کھلانا ہمارا کام ہے کہ کس طرح نبی ؐنے سیاست کو عبادت کی طرح ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔ نہ کبھی جھوٹ بولا اور نہ ہی معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔ جب کہ آج کی سیاست چند ووٹ کی خاطر ہم سے جھوٹے وعدوں کے دم پر گدی پر جابیٹھتی ہے۔ اسی گدی کے لیے عوام سے جھوٹ بول کر خود اپنی ہی عزت نفس کو پامال کرتی ہے۔ یہ ساری گندگی آج کی سیاست میں پھوٹ پھوٹ کر بھری پڑی ہے، جس کے مضر اثرات ہم پر کچھ یوں نمایاں ہو رہے ہیں کہ ہمارے لیے یہاں جینا دشوار ہوا ہے۔ بلکہ بات تو یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اب کوئی سیاست دان خود کو ان گندگیوں کے بنا تصور کرنا گوارا نہیں کرتا۔ ان ساری گندگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اکبر الہٰ بادی نے کہا تھا؎
گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ
گلے میں جو آئیں وہ تانیں اڑاؤ
کہاں ایسی آزادیاں تھیں میسر
اناالحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
اس گندگی سے جو ہم دوریاں بنائے رکھے ہیں یہ کہہ کر کہ الله بچائے اس سیاست سے، اس سے دوری بنا لینا حل نہیں ہے۔ اس کے لیے کوئی الگ مشین کی تخلیق ہوگی نہ آسمان سے کوئی مخلوق اتر کر اس کے زاویوں کو درست کرے گی! بلکہ ہمیں ہی اس آلودگی کو صاف کرنا ہوگا۔ ہم اس کی آلودگی سے بچنے کے چکر میں کنارہ کر بیٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس سے درکنار ہوگئے۔ اس لیے اس میں چھلانگ ماریں کیوں کہ اسے ہم ہی صاف کرسکتے ہیں۔ یہ آلودگی اب قدر ڈھیٹ ہو چکی ہے کہ سوائےنبیؐکے فارمولے کے اسے کوئی liquid صاف کرنے کی مقدرت نہیں رکھتی۔
آج جو سیاست داں اپنے ذاتی مفاد کے لیے جتنی چوریاں کرتے ہیں،جتنےجابر بنتے ہیں، جتنے فسادات برپے کرتے ہیں،عوام کو فریب دے کر ووٹ بٹورتے ہیں، دغا بازیاں کرتے ہیں اور اپنی کرسی کے اصل منصب کا ناجائز استعمال کرتے ہیں، وہ اتنے ہی قابلِ احترام سیاست داں سمجھے جاتے ہیں۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢