پیسوں کادرخت
آخر کار وہ دوپہر میں نانا کے گھر پہنچ گئے۔ نانی امی نے ان کے جاتے ہی خاطر مدارت شروع کردی۔ ٹھنڈا پانی پلایا اور بعد نماز ظہر کھانا ہوا۔ کھانے میں بریانی اور سلاد تھا۔ اسے نانی امی کے ہاتھ کی بریانی بہت پسند تھی۔کھانے کے بعد نانا ابو انھیں سیر پر لے گئے۔ باغ میں انھوں نے بہت سے جانور دیکھے اور نانا ابو نے انھیں جانوروں کی تفصیلی معلومات سے آگاہ کروایا۔
کسی بستی میں ایک عرشان نامی ساتویں جماعت کا لڑکا رہتاتھا۔اس کی اپنے نانا ابو سے بہت اچھی دوستی تھی۔وہ جب بھی گرمی کی چھٹیاں منانے اپنی نانی کے یہاں جاتا تو نانا سے بہت سی سبق آموز باتیں سیکھتا تھا۔اس دفعہ کی گرمی کی چھٹیوں کا اسے بے چینی سے انتظار تھا۔ماہِ اپریل میں اس کے امتحان تھے۔ آخری پیپر کے دن وہ بہت خوش تھا، کیوں کہ اب وہ نانی کے ہاں رہنے کے لیے جانے والے تھے۔ پورے سال اس نے ان دنوں کا انتظار کیا تھا۔
امی تہجد سے اٹھ کر سارے کام سر انجام دے چکی تھیں اور فجر سے اسے اٹھانے لگی تھیں۔ سفر طویل تھا۔ ٹرین سے جانے میں 5,6گھنٹے لگ جاتے تھے۔ صبح6بجے ان کی ٹرین تھی۔عرشان کوخوشی کی وجہ سے رات کو دیر سے نیند آئی تھی، اسی لیے فجرکے لیے وہ لیٹ ہوگیا۔ جماعت چھوٹ چکی تھی،اسی لیے اسے نماز گھر میں ادا کرنی پڑی۔
آخر کار وہ دوپہر میں نانا کے گھر پہنچ گئے۔ نانی امی نے ان کے جاتے ہی خاطر مدارت شروع کردی۔ ٹھنڈا پانی پلایا اور بعد نماز ظہر کھانا ہوا۔ کھانے میں بریانی اور سلاد تھا۔ اسے نانی امی کے ہاتھ کی بریانی بہت پسند تھی۔کھانے کے بعد نانا ابو انھیں سیر پر لے گئے۔ باغ میں انھوں نے بہت سے جانور دیکھے اور نانا ابو نے انھیں جانوروں کی تفصیلی معلومات سے آگاہ کروایا۔پھر نانا ابو نے ان سب کو ایک آم کے درخت کے قریب لے گئے۔ سیر کرتے کرتے رک جانے کی وجہ سے بچے شور وغل کرنے لگے۔ خالہ کے بچے بھی چھٹیاں منانے آئے ہوئے تھے۔نانا ابو نے گلا کنکھارتے ہوئے کہا: ’’خاموش۔ ‘‘سبھی خاموش ہوگئے ۔
’’یہ کس چیز کا درخت ہے۔ ‘‘آم کے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’آم کا درخت ہے۔ ‘‘عرشان نے بے ساختہ کہا۔
’’ہے تو یہ آم کا ہی درخت، لیکن میری نظر میں یہ پیسوں کا درخت ہے۔ ‘‘
نانا ابو نے کہا۔
فاطمہ یہ بات سن کر ہنسنے لگی۔
سات سالہ صالحہ نے حیرت زدہ ہوکر کہا: ’’پیسوں کا درخت!‘‘
عبدالسمیع نے الجھتے ہوئے لہجے میں پوچھا: ’’وہ کیسے؟‘‘
نانا نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
یہ سب تو مختلف پھلوں کے درخت ہے جیسا کہ تم سب دیکھ سکتے ہو۔ دائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اس درخت کی چھاؤں میں مزدور آرام کررہے ہیں اور اسی درخت پر چڑیوں کے گھونسلے بھی ہیں، جہاں پر وہ خوشی سے چہچہا رہی ہیں۔
’’ یہ پیسوں کا درخت تو پھر بھی نہیں ہوا۔‘‘فاطمہ نے نانا ابو کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’صبر میری بچی۔‘‘نانا ابو نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔
پھر نانا ابو نے بائیں جانب کے درخت کی طرف اشارہ کیااور کہا:
’’تمہیں اس درخت پر شہد کی مکھیوں کا چھتہ نظر آرہا ہے۔‘‘
نانا کی بات کو کاٹتے ہو ئے عبدالسمیع نے پوچھا:’’کیا ہم جو شہد گھر میں کھاتے ہیں وہ؟‘‘
’’ہاں بیٹے وہی شہد۔‘‘نانا محبت سے کہا۔
پھر نانا ابو نے عبدالسمیع سے پوچھا:’’تمھیں پتہ اس کی کیا قیمت ہوتی ہے؟‘‘
’’نہیں نانا ابو۔‘‘ عبدالسمیع نے معصومیت سے کہا۔
’’بیٹاتم بتاؤ شہد کی قیمت فی کلو کیا ہے؟‘‘ عرشان سے پوچھا ۔
’’500روپے کلو ۔‘‘عرشان نےبلاجھجک جواب دیا۔
’’بالکل درست۔تو دیکھا بچو ہوا نا یہ اس طرح پیسوں کا درخت اور تمھیں یاد بھی ہوگا کہ پچھلی دفعہ ہم نے شہد کے فوائد کی معلومات حاصل کی تھی۔‘‘
’’جی نانا ابو ۔‘‘سبھی نے ایک ساتھ کہا۔
’’پھل تو سبھی کو بہت پسند ہیں جو ہم بازار سے خرید کر لاتے ہیں۔ہمارے یہاں جو بھی فرنیچر کا سامان ہے، وہ بھی ہمیں درخت کی لکڑیوں سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔تم لوگ جو بھی اسکول کے سامان استعمال کرتے ہو، جیسے:بیاضیں،کتابیں، پینسل،ربراور گوند وغیرہ، یہ سب ہمیں درخت ہی کی بدولت حاصل ہیں۔‘‘
عرشان نے نانا کی بات ختم ہوتے ہی کہا:’’نانا میں کچھ کہنا چاہتا ہوں !‘‘ اور بے ساختہ کہنے لگا: ’’ہمارے ٹیچر بتارہے تھے کہ ہم جو سانس لیتے وقت آکسیجن جذب کرتے ہیں، یہ ہمیں درختوں کے شعاعی ترکیب کے عمل کی وجہ سے بہ آسانی ملتی ہے ۔‘‘
’’شاباش!‘‘نانا ابو نے خوشی سے کہا۔
نانا ابو نے کہا :’’ تو دیکھو بچو یہ درخت ہمارےلیے کیاکیا کرتے ہیں۔ اس درخت کی لکڑی کو ہم ایندھن کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں جیساکہ پرانے زمانے میں لکڑیوں سے چولہا جلایا جاتا اور اس پر کھانا پکایا جاتا تھا اور یہی نباتات کی وجہ سے انسان اور جانور زندہ رہ رہے ہیں۔‘‘
نانا ابو نے بچوں سے پوچھا:’’اب تم سب ایک کرکے مجھے درخت کے فوائد بتاؤ، جو تمھیں اسکول بتائے گئے ہوں؟‘‘
فاطمہ نے چلا کر کہا:’’جی نانا ابو!میری ٹیچر نے بتایا تھا کہ درختوں کا استعمال میڈیسن (ادویات)بنانے میں کیا جاتا ہے۔‘‘
’’ارے واہ! واقعی درختوں سے ہمیں بہت سے طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔‘‘ نانا ابو نے کہا۔
عبدالسمیع نے کہا :’’نانا ابو میرے استاد نے بتایا تھا کہ درختوں کی جڑیں زمین کی بھیج کو روکتی ہیں، جس کی وجہ سے سیلاب اورزلزلے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔‘‘
’’صحیح کہا ہم درختوں کی وجہ سے قدرتی آفات سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔‘‘نانا ابو نے تھپکی دیتے ہوئے کہا۔
نانا ابو نے شفقت بھرے لہجے میں صالحہ سے پوچھا:’’تم بتاؤ بیٹا!‘‘
’’جی جی نانا ابو….. م م ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں۔‘‘صالحہ نے ڈرتے ہوئے کہا۔
’’ارے واہ،شاباش!‘‘
عرشان نے کہا :’’اور نانا ابو درخت درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے میں بھی کارآمد ہیں۔‘‘
’’ہاں بالکل صحیح کہا بیٹا۔‘‘ نانا ابو نے کہا۔
تو بچوں آج ہم نے درختوں کے فوائد کی معلومات حاصل کی۔تو چلیے پھر ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم ایک درخت لگائیں گے اوراس کی اچھے سے دیکھ بھال کریں گے۔ اور پھر سب لوگ گھر کی طرف روانہ ہوئے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢