درس حد یث تو ابھی رہ گزر میں ہےقید مقام سے گزر
زمرہ : النور

عَبْدِ اللَهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَهُ عَنْهُمَا، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَهِ صَلَّى اللَهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي ، فَقَالَ : كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ : إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ،وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ.
(صحیح البخاری۔6416)

ترجمہ:

(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا: ’’دنیا میں اس طرح رہو، جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو۔‘‘عبداللہ بن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو۔اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے۔)

مذکورہ حدیث میں درج ذیل امور پر روشنی ڈالی گئی ہے:
1۔دنيا اورسامانِ دنيا کی آرزو کم رکھنا۔
2۔دنياوی معاملات میں آخرت کو پیش نظر رکھنا۔
3۔نيک اعمال کرنے کی ترغیب نیز توبہ اور رجوع الیٰ اللہ میں تاخیر نہ کرنا۔
4۔صحت مندی کو مرض لاحق ہونے سے پہلے اورفراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جاننا۔
یہ حدیث گویا ایک پیغام عمل ہے کہ دنیا کے بازاروں میں نہ ٹھہرو، بلکہ یوں چلو جیسے کسی نہر یا ندی کو عبور کررہے ہو یا کسی شاہ راہ سے گزر رہے ہو۔ایک اجنبی جس احتیاط سے سفر میں اپنے آپ کو رہزن اور چور سے بچاکر اپنی جان و مال کی حفاظت کرتا ہے،ویسے ہی مومن کو بھی چاہیے کہ وہ بھی دنیا کے امتحان میں نفسانی خواہشات اور شیطان کے بہکاوے سے اپنے آپ کو بچاکر ایسے تمام تر اعمال سے بچے، جو اسے اللہ اور جنت سے دور کردیں۔
اس دارفانی کی حقیقت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ ہمیں احساس بھی نہیں کہ ہم بے خبر اپنی موت کے قریب ہوتے جارہے ہیں ۔راستوں کی رنگینیوں میں الجھ کر رہ جانا دانشمندی کا تقاضہ نہیں۔اصل آزادی تو جنت الفردوس میں ملی گی، ان شاءاللہ۔ جس کے لیے دنیا کی قید سے گزرنا ضروری ہے۔اگر دنیا کی قید سے نہ گزرے تو آخرت قید میں گزرے گی۔اس لیے ہر انسان کے لیے ایک قید ضروری ہے، چاہے اِس جہاں میں یا اُس جہاں میں!
ماہ و سال کا بدلنا ابتدائے آفرینش سے جاری ہے۔زمانے کی گردش لیل و نہار، بڑھتی عمر پر خوشیاں اور گھٹتی عمر سے غافل انسان۔آہ! ہم اپنی دنیاوی زندگی میں ایسے مصروف اور منہمک ہیں کہ لگتا ہے کہ ہم کو اس دنیا سے کبھی رخصت نہیں ہونا ہے۔ حالاں کہ عقل مند اور نیک بخت وہ ہے جو دنوں کے تیزی سے جانے اور سال وموسم کے بدلنے کو اپنے لیے عبرت بنائے، وقت کی قدر وقیمت سمجھے کہ وقت صرف اس کی وہ عمر ہے جو اس کے ہر سانس پر کم ہورہی ہے اور اچھے اعمال کی طرف راغب ہوکر اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرے۔زندگی کے گزرتے لمحات گویا زندہ انسان کی مدتِ حیات پر کلہاڑیوں کی بوچھار کر رہے ہیں ۔ انسان کا ہر اٹھنے والا قدم قبر کی تاریک راہوں پر گامزن ہے۔وہیں عصرحاضر انقلابی دور سے گزر رہ ہے،حالات برابر نیا رنگ اختیار کرتے جارہے ہیں۔ قومیں آئندہ کا نقشہ بنا رہی ہیں۔ اس ترقی یافتہ دنیا میں جہاں ملکوں کا پرانا نظام بدل رہا ہے ، وہیں دوسری طرف اسلام دشمن قومیں مادی اور ظاہری طور پر مضبوط ہو رہی ہیں اور مسلمانوں کی دینی وملی اور تہذیبی خصوصیات کو مٹانے کی پیہم کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ تاریخ نے بے شمار مشکل ادوار دیکھے، لیکن اس وقت اسلامی دنیا میں ایسا جمود طاری ہے جس کی نظیر شاید ایام گزشتہ میں نہ ملے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم دنیا تاریخ سے ناآشنا، حال سے غافل اور مستقبل سے بے پرواہ ہو کر خواب غفلت میں جی رہی ہے۔ اوجِ ثریا کی بلندیوں کی مانند عروج پانے والی امت غیر محسوس انداز سے پستیوں کی طرف بڑھنے لگی۔وقت کے ساتھ بڑھنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اندر کی طاقت کو مضبوط اور جلا بخشنے کی ضرورت ہے۔
انفرادی طور پر کرنے کے کام:
1۔دین کا صحیح مفہوم،شعور ،ادراک نیز اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا۔
2۔ اپنے مقصد سے گہری وابستگی،نصب العین سے محبت،لگن میں پختگی اور مستقل مزاجی پیدا کرنا۔
3۔ ذکر ِ الٰہی کی کثرت کے ساتھ اپنی ہمت و فکر کے مطابق اپنے سال ِ ماضی کا بھر پور جائزہ لینااوراپنے ماضی کے آئینہ میں جھانک کر مستقبل کے لیے بہترین پروگرام مرتب کرنا ۔
4۔ اپنے اندر فکر و عمل کے اتحاد کو بیدار کرنا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی کامیابی کی شرائط رکھی ہیں۔
5۔اتحاد، ثابت قدمی اور خدا کی یاد سے دل کو تازہ کر کے کفر و ضلالت میں ڈوبی قوم کو اسلام کی آفاقی تعلیمات سے واقف کروانا۔
اجتماعی طور پر کرنے کے کام:
1۔ مسلمان کلمہ کی بنیاد پر متحد اور منظم ہوں۔
2۔امت مسلمہ کی فلاح اسلامی تعلیمات، غور و فکر اور عقل و دانش میں پنہاں ہے۔ اس بات کو از سرِ نو تازہ کرنا۔
3۔ معاشرے میں رائج نام ونہاد روشن خیالی اور ضعیف الاعتقادی کی جڑیں ختم کرنا ۔
4۔نوجوان نسل کو دنیا کی رنگینیوں سے نکال کر عملی زندگی میں ایک فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دلانا۔
5۔ کلمۂ طیبہ کو سمجھ کر، دین اسلام کی خدمت کے لیے امت مسلمہ کو ابھارنا۔
مختصراً یہ کہ قلیل مدت زندگی میں نہ صرف اپنی جنت بنانے کی فکر کرنا ہے، بلکہ ایک صالح معاشرہ بناکر دوسروں کو بھی راہ نجات بتانا ہے۔ کیوں کہ کل کا دن گزرا، گویا وہ گواہ بننے کے لیے آگے بڑھ گیا۔ تب آج کا دن آیا، جو اس وقت گواہی اکٹھی کر رہا ہے۔ یہ بھی اپنا کام سمیٹے گا اور پھر کبھی نہ پلٹے گا۔ البتہ اس میں جو بھیجا جارہا ہے، وہ لوٹ آنے والا ہے۔
علامہ اقبال کہتے ہیں کہ اے مُسلم! تُو ابھی راستے ہی میں ہے۔ کسی مقام یا منزل کا پابند نہ ہو، کیوں کہ ابھی تیری منزلِ مقصود نہیں آئی۔ یورپی تصورِ قومیت یا جغرافیائی حدود کے حوالے سے قومیت کا تصور اختیار نہ کر، کیوں کہ تجھے ابھی اس دنیا میں بہت کچھ کرنا ہے۔بقول اقبال
تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر
مصر و حجاز سے گزر پارس و شام سے گزر
جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزربادہ و جام سے گزر

انسان کا ہر اٹھنے والا قدم قبر کی تاریک راہوں پر گامزن ہے۔وہیں عصرحاضر انقلابی دور سے گزر رہا ہے،حالات برابر نیا رنگ اختیار کرتے جارہے ہیں۔ قومیں آئندہ کا نقشہ بنا رہی ہیں۔ اس ترقی یافتہ دنیا میں جہاں ملکوں کا پرانا نظام بدل رہا ہے ، وہیں دوسری طرف اسلام دشمن قومیں مادی اور ظاہری طور پر مضبوط ہو رہی ہیں اور مسلمانوں کی دینی وملی اور تہذیبی خصوصیات کو مٹانے کی پیہم کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

  1. JAVERIA

    Allah Tala hum sab is hadeese mubareka pe amal karne ki taufeeq ata farmaye

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢