تبلیغی جماعت پر پابندی اور مسلم قائدین کا رد عمل
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
سعودی عرب میں پھیلتی فحاشی اور ساتھ ہی تبلیغی جماعت پر پابندی جیسی خبریں، اہل ایمان کے دلوں کے ٹکڑے کر رہی ہیں۔پچھلے دنوں دین کی دعوت دینے والی تبلیغی جماعت کے خلاف جو کچھ بولا گیا اور سعودی عرب کی جانب سے دو الگ الگ پیغامات کی تصدیق ملی ہے۔
ایک سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ کے اس تحریری ہدایت نامے کی ہے، جس میں انہوں نے الاحسا کے علما اورائمہ مساجد کے نام پاکستان سے جانے والی تبلیغی جماعت کی نصرت اوراس کو مساجد میں وعظ کرنے کی اجازت دینے کی ہدایت کی ہے ۔
دوسرا سعودی عرب کے حالیہ مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ کا پیغام ہے ۔ جس میں انہوں نے تبلیغی جماعت کی کچھ کمزوریوں کا تذکرہ کرکے اس سے محتاط رہنے کا پیغام دیا ہے ۔
موجودہ مفتی اعظم نے کہا ہے کہ ’’ہمارے تبلیغی بھائیوں کو اللہ تعالی ہدایت نصیب کرے ۔ان لوگوں نے تصوف کا طریقہ اختیار کر رکھا ہواہے ۔ انہوں نے صبح وشام اور سونے جاگنے کے اذکار کو لازم کررکھا ہوا ہے ۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی کو غلطی کرتے دیکھے تو اسے درست بتانے کے بجائے اپنا طریقہ اپنانے کی تلقین کرتے ہیں ۔ یہ علما کی صحبت اختیارنہیں کرتے اوراہل علم سے مستفید نہیں ہوتے بلکہ وقت نہ لگانے والا علما سے اجتناب بھی کرتے ہیں اور اس سے دور رہنے کی تاکید کرتے ہیں ۔
یہ سہ روزہ،چلہ اور چار ماہ لگاتے ہیں، مگر علم اورفقاہت کی عدم موجودگی کے باعث بے علم لوٹ کر آتے ہیں اور کسی تبدیلی کے بغیر وہی کرتے ہیں، جو اس سے قبل کرتے تھے ۔ ان کا علم نافع اورعمل صالح کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں بنتا ۔
ہم ان سے یہی کہتے ہیں کہ علما کی صحبت میں رہ کر سیکھو ۔ ریاض الصالحین ٹھیک تو ہے، مگر اس کی تطبیق بھی تو کرو۔ حیاۃ الصحابہ میں مقبول کے ساتھ مردود بھی ہے۔ ‘‘
یہ بات تو ہوئی جماعتوں کی۔اس کے ساتھ سرزمین عرب کی تاریخ میں پہلا فلمی شو بھی ہوا جس میں ہالی ووڈ ، بالی ووڈ اور دنیا بھر کے فلمی ستاروں کی شرکت ہوئی۔اس پاک زمین پر اس سے پہلے بھی خواتین کی کشتی wrestling کرائی گئی، شراب جوئے کے اڈے کھولے گئے، سنیما حال کا افتتاح ، بچوں کے نساب میں گیتا کی تعلیم وغیرہ کیا کیا گنایا جائے ۔
سوشل میڈیا پر عرب حکام کے اس تیزی سے بدلتے رویے پر صارفین ماتم کناں ہیں۔ یہ خطہ جس تیزی کے ساتھ روشن خیالی کی راہ پر گامزن ہے، اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کچھ عرصے بعد یہ بھی سیکیولر ملک بن کر ابھرے گا۔ سوائے مکہ و مدینہ کے کوئی علاقہ اب ایسا نہیں بچا، جہاں رقصِ ابلیس کی محافل نہ سجائی گئی ہوں۔ عین اسی جگہ بھی دنیا کا سب سے بڑا میوزیکل شو منعقد کرایا، جہاں قوم صالح (ثمود) پر عذاب آیا تھا اور تبوک کے سفر میں اس وادی (حجر) سے نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو تیزی سے گزرنے کا حکم دیا تھا۔ پھر بطور خاص ایسے فنکاروں کو بلایا جاتا ہے، جو ہم جنس پرست ہیں۔
ہمارے یہ آزاد خیال مفکرین کا حال دیکھیں کہ سعودیہ عرب کے حالات پر خوش ہوتے ہیں۔ حالاں کہ سعودیہ عرب اصلاََ بادشاہت ہے۔ جمہوریت کا وہاں سرے سے کوئی تصور نہیں۔خدا کے دین کی بات کرنے پر لوگوں پر دہشت گردی کا الزام لگادیتے ہیں۔ جبکہ ادنیٰ سا کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں۔ صرف الزامات اور افتراء کی بنیاد پر جماعتوں پر پابندیاں لگاتے ہیں اور اہلِ علم کو قید کرتے ہیں۔ حکومت پر تنقید کا وہاں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں حکومت کی توہین کی نہیں، تنقید کی بات کر رہی ہوں۔ خواہ وہ علمی بنیادوں پر ہی کیوں نہ ہو۔ اس کو بھی دہشت گردی قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ سعودیہ عرب نے کوئی سائنس اور علم و حکمت کی دنیا میں بڑا نام نہیں کرلیا ہے۔مگر ہمارے آزاد خیال مفکرین کے بقول سعودیہ عرب اکیسویں صدی میں جی رہا ہے اور ہم چودہ سو سال پہلے جی رہے ہیں۔ ہم تو پیچھے رہ گئے۔ اگر ایسا ہی نظام اکیسویں صدی کا نظام ہے تو پھر یہاں بھی بادشاہت لانے کی ڈیمانڈ کریں، لوگوں کے حکومت کے خلاف بولنے پر پابندیاں لگانے کی باتیں کریں۔ گانا گانے، برہنہ ہونے، اسرائیل کی حمایتیں کرنے اور مسلمانوں پر بم برسانا واقعی ترقی ہے؟ کیا واقعی یہی چیز ہے جس کو آپ اکیسویں صدی کی تعمیر قرار دیتے ہیں؟
یہ صرف خدا کی رحمت تھی کہ ان کو دولت کی فراوانی ملی، صرف خدا کی رحمت تھی ورنہ انہوں نے تو کچھ نہ کیا تھا۔ جو قوم خدا کی نعمت کی ناشکری کرتی ہے، پھر انجام بھی دیکھتی ہے۔اس قوم کو شرم نہیں آتی۔ انہوں نے نہ سائنس میں کچھ کیا، نہ علم و حکمت میں کچھ کیا، نہ فنون میں کچھ خاص کیا۔ سب لوگ باہر سے بُلوائے۔ ان کو سب بیٹھے بٹھائے ملا۔ صرف خدا کی رحمت تھی مگر ان کو ذرا حیا نہیں آتی، جب یہ خدا کی معصیت کو کھل کر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ خدا کے دین کی تبلیغ دہشت گردی قرار پاتی ہے اور گانوں کی محافل کو آرائش دی جاتی ہے۔معاملہ صرف کسی ایک ملک تک محدود نہیں اور ہدف صرف کوئی ایک جماعت نہیں ہے۔ بات رسوائی سے بھی آگے کی کسی کیفیت تک گئی ہے۔
’’دار العلوم دیوبند ‘‘نے تبلیغی جماعت کی حمایت کرتے ہوئے سعودی کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ مولانا الیاس گھمن نے اس فیصلے کو رد کیا ہے۔مولانا محمود مدنی بھی سخت مزاج نظر آئے ہیں ۔ مولانا محمد حجازی ( مولانا مکی ) نے صحن حرم سے تبلیغ کی تائید کی ہے۔مولانا ارشد مدنی سعودی سفارتخانے پہنچے ہیں ۔امیر جماعت اسلامی کے ہند سید سعادت اللہ حسینی نے بھی اس فیصلے کو نامناسب اور غلط قرار دیا ہے۔
ایک اور چیز جو سامنے آرہی ہے کہ امریکی اسٹڈیز مراکز نے دس سے بیس ارب ڈالرز خرچ کرکے مذاہب عالم کے ماہرین سے ایک نیا کچڑی دین بنا رکھا ہے، جسے دین ابراہیمی کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گلوبلائزیشن کا نیا تحفہ ہے۔ پوری دنیا کے باسی ایک ہی دین کے پیروکار ہوں گے۔ اگر یہ حقیقت ہے تو مسیحیت،یہودیت اور اسلام کے اس ملغوبے سے ہمارے علماء خیر سے بے خبر ہیں۔
شیخ الازہر نے قرآنی دلائل سے اس ملغوبے پر رد کیا ہے۔ جبکہ مصر کے انٹیلیجنس کے سابق افسران نے بھی اس منصوبے سے پردہ اٹھادیا ہے کہ کہاں بنا تھا ۔کیسے بنا تھا اور اب کہاں تک پہنچ چکا ہے۔ عالمی منظرنامہ دیکھ کر یہی لگ رہا ہے کہ کچھ لوگوں کے علاوہ مسلم دنیا کا کوئی ملا اس وقت اتنی ایمانی غیرت نہیں رکھتا کہ اس کے آگے بندھ باند سکے۔

3 Comments

  1. خورشیداقبال

    تبلیغی جماعت کے عقائد پر بھی کچھ لب کشائی کرلیں جس جماعت کے رگ وریشہ میں شرک موجود ہو تصوف کوٹ کوٹ کر بھراہوا بھلا اسکی بھی کوئی اتنی تعریف کرے اف افسوس ہے ایسی تعلیم اور ایسے محرر پر
    یقینا سرزمین عرب پر ناچ گانا بےحیائی نہیں ہونی چاہئیے تھی دل تو بہت کڑھتاہے اور بڑی تکلیف بھی ہوتی ہے
    مگر افسوس اور ماتم کناں اس پر بھی کہ سعودی عرب کی تمام خدمات کو یکسر انکار کرکے یکطرفہ کسی ایک جماعت کی تملق بازی حددرجہ افسوس ہے توحید سے اتنی نفرت وعداوت جسکی توقع اغیار سے بھی ممکن نہیں
    یقینا سعودی نے ٹیکنالوجی میں کچھ نہیں کیا
    سوال یہ ہیکہ آپ جس جماعت کی جانبداری کررہی ہیں اس میں کتنے میزائل مین نکلے ہیں ذرا بتائیں ؟
    انگشت نمائی بہت آسان ہے کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک لیں

    Reply
    • Khursheed iquebal

      *تبلیغی جماعت اور برصغیر میں کچھ مولویوں کا شور بازار*

      *✍: فضیلۃ الشیخ عبد المعید مدنیؔ حفظہ اللہ (علی گڑھ)*
      ━════﷽════━
      *✵ پھر نکلی خبر:*
      خبر پھیلی سعودی عرب کے متعلق اور ساری خبریں اس کے متعلق چور بازاری کی ہوتی ہیں، پنچانوے فیصد گپ، جھوٹ افتراء اور جعلی ہوتی ہیں۔ اور بڑے بڑے مولوی جو اپنے کو جنتی سمجھتے ہیں، مرید انہیں برکت ورحمت کا خزانہ باور کراتے ہیں اور جبریل امین کا ہم پلہ بتاتے رہتے ہیں، چہار جانب ان کے تقدس کی بارش برساتے ہیں وہ بھی سعودی عرب آل سعود، اور علماء سعودی عرب کو ہر شر اور برائی کا سرچشمہ سمجھتے ہیں، یہ توحال ہے بر صغیر کی انتہا پسندانہ سوچ اور فکر کا۔ اور تحریکی بھائیوں کی بات کریں تو ان کا چوزہ بھی شیطان سے دوستی روا رکھتا ہے اور سعودی عرب آل سعود اور سعودی علماء سے دشمنی کو واجب گردانتا ہے، ایسے ماحول میں سچائی اور انصاف کہاں؟ صرف تعلی، دعویٰ داری، اور جمہوری ملک میں ہڑبونگ اور زبان درازی۔

      *✵ رعونت کی گرم بازاری:*
      حالیہ دنوں میں شور اٹھا تبلیغی جماعت پر سعودی عرب میں پابندی لگ گئی۔ تبلیغی جماعت کو دہشت گرد کہا گیا، اور حرم شریف میں خطبۂ جمعہ میں ایسا ویسا کہا گیا۔ شور اٹھتے ہی خاص حلقوں میں دانت تیز ہوگئے، پنجے زہر آلود اور زبانیں آتش بار، تہمتوں اور بدتمیزیوں کا طوفان، اور وہ ساری ناروا باتیں جن سے بغض وحسد کی سینوں میں تپتی ہوئی آگ ٹھنڈی ہو۔ یہی تبلیغی جماعت کے لوگ ہیں جو باہم ناختم ہونے والی جنگ بپا کئے ہوے ہیں اور خود دیوبند کے مدرسے میں اس پر پابندی لگی‘ وہی سعودی پابندی پر ایسے اچھل رہے ہیں جیسے ان کا آبائی حق چھین لیا گیاہے۔
      ان کے خود ساختہ شیوخ الاسلام، اور شیوخ الہند، سعودی سفیروں سے مل رہے ہیں، دھمکیاں دے رہے ہیں، اور سعودی عرب پہونچنے کی بات کرے رہے ہیں، جیسے سعودی عرب ان کی خالہ کی سسرال ہے، کئی ایک کو دیکھا گیا منہ میں جھاگ، ذہن پر جنونی کیفیت، زبان پر گالیاں، جن کا اپنا دوپٹہ نہیں سنبھلتا وہ سعودی عرب کو طعنے دے رہے ہیں۔
      سعودی عرب کو گالی دینی ہو تو بر صغیر کے مولوی وعوام اپنے آپ کو فرشتہ بنا لیتے ہیں اور خود بھول جاتے ہیں کہ وہ ہیں کیا اور ان کا گرد وپیش کیا ہے؟ ان کی روزآنہ سرگرمیاں کیا ہیں؟ اکثر مدارس کو ذاتی ملکیت بنائے ملی سرمائے کو لوٹ کا مال بنائے ہوئے ہیں۔ آل اولاد انحراف کا شکار ہے، شرک سے لے کر اباحیت تک عام ہے، گردوپیش فحاشی، حرام خوری، دبنگئی، بے راہ روی سے اٹا پڑا ہے، اس پر نظر نہیں۔ بڑے بڑے علماء حکومت کی چاپلوسی کرنے اور ہاں میں ہاں ملانے میں تاک ہیں، اور چلانے والوں نے ہمیشہ یہی کیا، جاسوسی تک کرتے تھے، دور تک نہ جائیں، موجودہ حالات دیکھ لیں، ہر طرف فکر ونظر کا بحران ہے، لکھنؤ کے دو مولوی جو وہیں کے دانوں پر پلے سعودی عرب کے خلاف تبرابازی میں بہت آگے آگے رہتے ہیں، ان کی زندگی کا ہر لمحہ اور ہر سرگرمی افساد اور خیانت پر منحصر ہے۔ دنائت اتنی کی بازاری پن ہی بازاری پن، اور رعونت اتنی کہ ان کے سوا سب غلط اور باطل پرست، پاک بازی کا ایسا دعوی کہ ستر چوہے کھانے والی بلی سے آگے، فریب دہی ایسی کہ چانکیا اور میکاویلی فلسفہ ہیچ۔

      *✵ عجمی ذہنیت:*
      بر صغیر میں دین پسندوں اور مولویوں کی عجب ذہنیت ہے، یہاں دین کے نام پر خود پسندی، دعویٰ داری، دینی ٹھیکیداری، شدت پسندی، نفرت، فرقہ پرستی اور مسلکی تعصب اس قدر عام ہے کہ جب ان کا بخار اٹھتا ہے تو لوگ پاگل ہوجاتے ہیں، اس وقت ایسے اندھے بن جاتے ہیں کہ ساری سچائیاں دھواں بن جاتی ہیں، کبر وغرور کا ایسا نشہ چڑھتا ہے کہ مخالف کیڑے مکوڑے نظر آتے ہیں۔
      دوسری طرف جب پیسے کی لالچ وطمع کا زور بڑھتا ہے تو یہی مغرور کاسۂ سر مسکنت ذلت اور رسوائی سے بھر جاتا ہے اور ہر سرمایہ دار آقا نظر آتا ہے، اس کی آقائیت تسلیم کرنے کے لئے تصنع، جھوٹ، فریب کے سارے وظیفے پڑھ ڈالے جاتے ہیں، اس کا طواف اتنی بار ہوتا ہے کہ وہ خود کو سربرآوردہ روزگار سمجھنے لگتا ہے، یہ مخلوق بھولے بھالے لوگوں کو ٹھگتی اور ڈستی رہتی ہے۔ حصولِ زر کے لئے عجمی ذہنیت ایسی زرخیز بن جاتی ہے اور کردار اتنا رنگ برنگا بن جاتا ہے کہ تھیٹھر میں ناٹک کرنے والے ان سے ہنر سیکھیں۔
      سارے مفاد پرست اور موقع پرست اسی دہری ذہنیت اور دہرے کردار کے حامل ہیں اور اسی پر ان کی دینی دکانیں چلتی ہیں۔

      *✵ سعودی عرب کیا ہے؟*
      سعودی عرب چوتھی صدی سے لے کر مغل حکومت تک ہندوستان میں قائم تمام حکومتوں سے بہتر اور اس کے علماء اس پورے وقفے کے تمام علما سے برتر، سعودی حکومت پورے چھ سو سالہ عثمانی حکومت سے بدرجہا بہتر اور سعودی علماء اس کے علماء سے بدرجہا بہتر ہیں ان شاء اللہ ۔ سعودی حکومت بنی عباس کے دوسرے اور تیسرے دور کی حکومت سے بہتر ہے۔ سعودی حکومت وہاں قائم ہوئی جہاں کسی کی حکومت نہ تھی، نہ کسی کی توجہ تھی، وہاں طوائف الملوکی تھی پھر عثمانی خلافت کے غدار استقلال پسند حرمین میں استھانوں اورشرک کی دکانداری کرنے والے آل شریف کو ہٹایا اور حرمین کو بازار شرک سے نکال کر باہر کیا، امن قائم کیا۔ سعودی عرب نے اس وقت نجد میں موجود طوائف الملوکی کو ختم کیا اور اسلامی حکومت قائم کی اس وقت استعمار اپنے جزیرے میں تھا۔ اس وقت عثمانی حکومت کے علاوہ ایران میں صفوی حکومت قائم تھی، برصغیر میں مغل حکومت تھی، ماوراء النہر میں کئی مسلم ریاستیں تھیں، افریقہ میں بھی یہی حال تھا، مصر میں محمد علی نے مستقلاً اپنی حکومت قائم کرلی تھی، تیسرے مرحلے میں جب سعودی حکومت حجاز میں ۱۹۲٦ء میں قائم ہوئی، اس وقت حرمین میں آل شریف انگریزوں کا ایجنٹ بنا ہوا تھا اور عثمانی سلطنت ۱۹۲۵ء میں ختم ہوچکی تھی اور اس سے قبل دو دوہائی تک وہ زیرو تھی، سارا عرب ان کے لئے اچھوت تھا، ۱۹۱۸ء کے بعد موجودہ ترکی تک میں یونانی فوجیں داخل ہوچکی تھیں۔ دنیا کے سارے متعصب علم وآگہی کے دشمن استعماری قبوری رافضی اور ترکی پروپیگنڈے کو میٹھا شربت بنا کے پی لیتے ہیں۔
      دوسرے مرحلے کی سعودی حکومت کو مصری حکومت نے آستانہ عالیہ کے کہنے پر تاراج کیا جبکہ مصری حکومت عثمانی خلافت سے استقلال حاصل کرچکی تھی، بس دونوں نے سعودی حکومت کو اپنے لئے خطرہ جانا اور دونوں کی سازش ہوئی پھر درعیہ کی انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجادی اور حکمران مار دئے گئے، یا قیدی بنا لئے گئے۔ یہ حملہ مصری وترکی استعماریت کی کہانی ہے۔

      *✵ جھوٹ سے حقائق نہیں بدلتے:*
      جھوٹ بولنے سے حقائق نہیں بدلتے، صرف متعصبین کا اعمال نامہ سیاہ ہوتا ہے، ان کے منہ کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور ان کی عاقبت خراب ہوتی ہے۔
      سعودی حکومت قانون کا پابند اور شریعت کا پابند رہی، کسی کے لئے نہیں اللہ کی رضا کے لئےہی اس نے ہمیشہ دین کا فریضہ نبھایا، سعودی علماء اور سعودی حکومت کا حق کے فروغ اور حق کی پاسبانی کے لئے ہمیشہ ساتھ رہا۔ انہوں نے امر بالمعروف والنھی عن المنکر کا فریضہ اصولی اعتبار سے نبھایا، یہاں کی طرح وہ چورہاہوں پر گالی دینے کو امر بالمعروف نہی عن المنکر نہیں سمجھتے، اس فریضے کی نبھانے کے اصول وآداب اور تقاضے ہیں وہ انہیں بخوبی نبھانا جانتے ہیں اور انہیں برتتے ہیں۔

      *✵ عیب کی بات:*
      حالات بدلے ہیں، اب وہاں ہولی دوڈ، بولی ووڈ کے ننگوں، رقاصوں اور رقاصاؤں کا استقبال ہونے لگا ہے، عیب کی بات ہے، بلکہ سرزمین سعودی عرب پر زیادہ عیب کی بات ہے اسے بند ہونا چاہئے، یہ تمام مسلمانوں کی توہین ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ دیکھیں کہ ہر جگہ مسلم ممالک، مسلم سماج میں رقص ہورہا ہے، اس کا کیا ہوگا؟ ہم اس رقص سے ایسے مانوس ہوگئے ہیں کہ برا ہی نہیں لگتا۔ مولویوں کی بدکرداری، حرام خوری، بددیانتی کا رقص جاری ہے۔ تنظیموں کی نا اہلی اور خیانت کا رقص جاری ہے، خانقاہوں اور مشاہد ومقابر پر شرک کا، منشیات کا، آبروریزی کا رقص جاری ہے، اداروں میں فرعونیت کا رقص جاری ہے، اوربداخلاقی، گھٹیا پن اور جھوٹ کا رقص جاری ہے، سوشل میڈیا کی اباحیت پسندی کا رقص جاری ہے، اداروں میں فرقہ بندی کا رقص جاری ہے۔
      شیخ اپنی تو دیکھ سعودی عرب کو خوردبین سے دیکھنے کے عذاب میں کب تک مبتلا رہے گا۔
      سعودی عرب کے تینوں مراحل کی حکمرانی اسلامی تاریخ کا شاندار اور سنہرا باب ہے، عجمی دنیا کی تمام حکومتیں ایک طرف اور سعودی حکومت ایک طرف پھر بھی اپنے قائم نظام کے سبب سب پر دینی اعتبار سے وہ بھاری ہے، اور رقص، شرک وکفر سے بدتر تو نہیں، لوگ شرک کو بھی کمال بنائے بیٹھے ہیں، جبکہ شرک وبدعت‘ فسق وفجور کے کاموں سے بدرجہا بدترین ہیں، کیا سعودی عرب میں رقص کا ایک پروگرام شرک صریح کو جائز قرار دیدے گا اور سارے وحدت الوجودی شرک قبیح میں مبتلا دودھ کے دھلے بن جائیں گے؟

      *✵ دینی موقف:*
      دین موقف کا متقاضی ہے، موقف صحیح سمجھ اور سچی دین داری سے بنتا ہے، چرب زبانی اور عمامہ اطول سے نہیں بنتا، ذرے ذرے کا صحیح حساب رکھنے سے بنتا ہے، پروپیگنڈے اور جھوٹ سے نہین بنتا، تعصب اور فرقہ پرستی سے نہیں بنتا۔ سعودی عرب کے متعلق سارے جمہوری، قبوری، صوفی، تحریکی جھوٹ کے شکار ہیں، ان کے پاس اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ اس کے متعلق صحیح موقف اختیار کرسکیں۔

      *✵ سعودی حکومت ایک آزاد اسلامی ریاست ہے:*
      سعودی حکومت ایک آزاد اسلامی ریاست ہے، اس کے اپنے دینی ودنیای مصالح ہیں، ان کا تحفظ اس کی ذمہ داری بھی ہے، اور اس کا حق بھی ہے، وہ کسی مولوی اور کسی تنظیم وجماعت کی جائداد نہیں ہے، نہ اس نے کسی غیر کو اپنا محتسب بنایا ہے، اس کا اپنا نظام واتنظام ہے، وہ کسی سلفی پر پابندی لگائے، وہ کسی تبلیغی پر پابندی لگائے، وہ کسی رافضی پر پابندی لگائے اس کو اختیار ہے، اس کا یہ معنی نہیں کہ اس نے ان کی حیثیت چھین لی، ان کا دین چھین لیا، ان کو کافر مرتد قرار دیدیا، ایک سلفی بھی اگر اصول وضابطہ سے باہر نکل کر دینی و دعوتی کام کرے وہ بھی پابند کیا جاسکتا ہے، ایک سلفی کی بھی اگر مشکوک سرگرمیاں ہوں تو اس پر بھی پابندی لگ سکتی ہے۔ بڑے بڑے علماء پر وہاں پابندی لگ جاتی ہے۔ سلفی عالم کو بھی گورنر کسی شہر سے نکال دیتا ہے، نہ معلوم کتنے غیر سعودی علماء تک وہاں سے نکال دئے گئے۔
      حکومتوں کی مصلحتیں ومجبوریاں ہوتی ہیں، اور حکمرانی کی نزاکتیں بھی ہوتی ہیں، انہیں حکمران ہی جانتے ہیں، اگر سعودی عرب میں موجود تبلیغیوں پر پابندی لگی تو واویلا کیوں؟ تبلیغی وہان جس طرح حکومت کی ہدایات کے برخلاف چوری چھپے اپنی دینی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں، اور جس طرح حکومت کے تئیں بغض ونفرت کا اظہار کرتے ہیں تو کیا یہ پابندی اور سرزنش کا پیش خیمہ نہیں ہے۔ اندر وباہر کے تبلیغیوں نے غیر قانونی طور پر کتنے تبلیغیوں کو سعودی عرب میں پال رکھا ہے، ان کی غیر قانونی معاشی اور دینی سرگرمیاں جارہی رہتی ہیں، کیا یہ درست ہے؟
      وہاں حکومت نے دعوت وتبلیغ کا بہتر سے بہتر نظام قائم کر رکھا ہے اور دعوت کے ہر ممکن ذرائع سارے میدان کار میں زیر استعمال ہیں اور وہاں کا خالص دینی منہج ہے اور خالص دینی تبلیغ ہے، پھر کسی غیر مانوس، اجنبی، عجمی منہج کی ان کو ضرورت کیا؟

      *✵ انصاف فرمائیے:*
      سعودی عرب کو گالی دینے والے اور چلانے والے انصاف کریں، توحید الوہیت کے متعلق سعودی عرب اور وہاں کے علماء اتنہائی حساس ہیں، اللہ کے حقوق اور رسول ﷺ کے حقوق کا تحفظ ان کا اصل سرمایہ ہے، کیا وہ تبلیغی جماعت کے انحرافاتِ دینیہ کو برداشت کرسکتے ہیں، انصاف سے بتائیں تبلیغی جماعت میں کونسی بدعت اور کون سا شرک موجود نہیں ہے؟
      تبلیغی جماعت میں تصوف کی ساری بدعتیں موجود ہیں، قبوری شرک ہے، قصصی شرک ہے، وحدت الوجودی شرک ہے، غلو فی الصالحین فی الاحیاء والأموات کا استمدادی شرک ہے، حضوری اور غیب دانی کا شرک ہے، مراقبات کی نوع بہ نوع شرک ہے، تصوراتی شرک، توہماتی شرک ہے۔ ایسی دعوت سے تو ہر مسلمان کو اجتناب کرنا شرعی فریضہ ہے، حکومت کی بات ہی الگ ہے۔ اگر سعودی عرب نے ان کی دعوت پر پابندی لگا دی ہے تو دینی فریضہ پورا کیا ہے، اور اگر پابندی نہیں لگی ہے تو فریضے سے کوتاہی ہے۔
      یہاں تو خیراتی مدرسوں میں مسلک اہل حدیث پر پابندی ہے اور سر پھرے مولوی اہل حدیثوں کے کفر وارتداد کا فتویٰ دیتے ہیں اور اپنی عوام، ائمہ اور مؤذنوں کو ان پر چڑھ دوڑنے کا فتویی جاری کرتے ہیں اور سارے چلانے والے مولویوں کو اس پر حسین عنوان ’’تحفظ سنت‘‘ اور ’’تحفظ شریعت‘‘ کے تحت اتفاق کرتے دیکھا گیا ہے، آج چلانے والے مولویوں نے کل ہی تال کٹورہ اسٹیڈیم دہلی میں اور دیوبند میں یہ کام کیا تھا اور لکھنؤ کے ’’ملّا شوبازار‘‘ نےبنگلور میں اہل حدیثوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور حکومت کو للکارا تھا کہ انہیں گرفتار کرو!
      ذرا سوچئے آج بڑا درد اٹھ رہا ہے۔ کل کس نے ان کو حق دیا تھا وہ کرنے کو جو انہوں نے کیا، یہی حق وہ سعودی عرب کو دیدیں۔ چلاتے کیوں ہیں، منہ سے جھاگ کیوں نکل رہا ہے؟ انصاف کی بات کرو کل کی ناروا حرکتیں آج سامنے ہیں، مکافاتِ عمل بن کرآئی ہیں ہمارا درد اب محسوس کرو، دینی اصلاح ضروری ہے، ہڑبونگ نہیں، ایسے مواقع پر بازپرس ضروری ہے۔
      بات جماعت تبلیغ کی دہشت گردی کی چلی ہے، آؤ اس پر غور کرلیں، کیا یہ سچ نہیں ہے کہ برصغیر میں تبلیغی احباب ہر سال دو چار اہل حدیث مساجد ڈھادیتے ہیں اور ہر جگہ اہل حدیث مساجد کی تعمیر میں رکاوٹ بنتے ہیں، اور اٹھتے بیٹھے اہل حدیثوں کی تکفیر اور اتداد کی بات کرتے ہیں، آپ بتائیں کیا یہ شدت پسندی دہشت گردی اور فرقہ پرستی نہیں ہے؟ اگر یہ شدت پسندی دہشت گردی اور فرقہ پرستی نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟ سعودی گورنمنٹ کو اگر سعودی عرب میں تبلیغیوں کے متعلق کوئی کلو ملا ہو جس سے ان کی دہشت گردانہ سوچ عیاں ہوتی ہے تو چیخ وپکار کیوں؟ سعودی حکومت کے ساتھ تعاون کیجئے اورسعودی عرب میں غیر قانونی طور پر اقامت پذیر تبلیغیوں کو واپس گھر بلائیے۔
      ہمارے تبلیغی احباب کی شکایت بجا ہے کہ اہل حدیث حلقے کے بعض مولوی اپنی خطابت میں جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں، ہمیں بھی تسلیم ہے، یہ لوگ ایسا کرکے منہج سلفی اور تعلیمِ کتاب وسنت کو بدنام کرتے ہیں اور اہل حدیث علماء کو بدنام کرتے ہیں اہل حدیث حلقے کے ذمہ دار حضرات ان چلانے والے مناظرہ باز شیخی خور مولویوں پر لگام لگائیں اور اصول وضوابط کے دائرے میں ان کو لائیں۔

      *✵ آخری بات:*
      ہر طرف سے کفار کی مسلمانوں پر یلغار ہے، اسے کوئی نہ بھولے، ایک کی غلطی کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا، اس لئے احتیاجی اتحاد توقائم رہے، ہر فریق اپنی شناخت کے ساتھ رہنا چاہتا ہے رہے، لیکن اختلاف کرنے اور حل کرنے کا سلیقہ تو رہنا ہی چاہئے، ممکن حد تک امن، باہمی تعاون تو لازم بنتا ہے، فتوی اور مناظرہ کی زبان نہیں تفاہم کی زبان ضروری ہے، اتہامات، سب وشتم اکاذیب سے پرہیز کرنا ہی پڑے گا، حق کی وضاحت کے لئے چھوٹ تو ہونی چاہئے، آخرت کی بازپرس کا خیال ہر ایک کورہنا چاہئے۔ اصلاح حال اور اصلاح نیت سب کے لئے ضروری ہے، ہر ایک کو معلوم تو ہے کہ قلم قتلے نقصاندہ ہیں، سرپھرے پن سے صرف دین وملت کا نقصان ہوتا ہے، احداث وواقعات میں تحقیق حال، صبر وضبط ضروری ہے، شدت اور نفرت سے کام بگڑ جاتا ہے۔
      اللہ تعالیٰ سب کو حق جاننے اور حق سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین
      •┈┈•┈┈•⊰⊙⊱•┈┈•┈┈•

      Reply
      • توقیر

        ماشاءاللہ بہترین معلومات لکھتے رہیں

        Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢