نیا تبدیل شدہ قانون، شادی کی کم از کم عمر 21 سال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ھادیہ ای- میگزین کے زمرہ گفت و شنید میں آپ کا استقبال ہے۔
آج ہماری گفتگو کا موضوع ہے:’’شادی کا تبدیل شدہ قانون ‘‘۔
لڑکیوں کی شادی کی عمر کا قانون 18سال سے بڑھا کر 21سال کردیا گیا ہے۔ اس پر ہمارے سماج میں سوشل ورکر خواتین، سماجی کارکنان اور سماجی جہد کار خواتین کیا سوچتی ہیں؟کیا نظریہ رکھتی ہے؟ اور اس قانون کو وہ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟اس پر ہم گفتگو کریں گے۔
آج کی گفتگو میںدرج ذیل خواتین شریک ہیں:
۱۔ محترمہ ایڈوکیٹ نیلوفر اختر صاحبہ
(محترمہ پیشے سے وکیل ہیں۔ آپ مسلم پرسنل لا بورڈ کے میٹرس کو فیملی کورٹ اور ہائی کورٹ میں دیکھتی ہیں اور این ۔جی۔ اوز بھی چلاتی ہے۔)
۲۔ محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ
(آپ مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کی رکن ہیں اورمسلم پرسنل لا بورڈ ویمنز وونگ کی کو آرڈینیٹر ہیں۔ )
۳۔ ڈاکٹر اپیکشہ ہاڈولے ( Dr.Apeksha Hadole )
(آپ پیشے سے ڈاکٹر سونو لوجسٹ ہیں۔موصوفہ نے کیلیفورنیا یونیورسٹی سے women سائکولوجی میں ڈپلومہ کیا ہے۔ )
۴۔ محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ
(آپ شعبۂ خواتین جماعت اسلامی ہند سکریٹری ہیں۔ساتھ ہی ھادیہ ای-میگزین کی چیف اور Aura trust کی چیئر پرسن ہیں۔ )
سب سے پہلے ہم ڈاکٹر نیلوفر اختر صاحبہ سے جاننا چاہیں گے کہ وہ اس قانون کو کس نظر سے دیکھتی ہیں۔

مکمل گفتگو سننے کے لیے نیچے کلک کریں

ویڈیو :

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢