جدید ٹیکنالوجی کے منفی اور مثبت اثرات

ٹیکنالوجی کی وجہ سے زراعت کی پیداواری اور کارکردگی میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ گھر بیٹھے پیسے کمانے کے نئے اور بہترین طریقوں سے لوگ استفادہ کررہے ہیں۔ مشینوں نے گھر کے سارے کام آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ہمارا بہت سارا وقت
بھی بچایا ہے۔ انسانی بقا کے لیے
ٹیکنالوجی بہت ضروری ہے۔

جدید ٹیکنالوجی نے جس طرح سے ہمارے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں، اسی طرح اس کے نقصانات بھی بڑی تعداد میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جہاں ایک چیز کے فائدے ہوتے ہیں، وہی اس کے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔
ماضی میں جو مشکلات ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے درپیش تھی، وہ اب کافی حد تک حل ہوچکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے ہماری بہت سی مشکلات کو آسانی میں تبدیل کر دیا ہے۔ وسائل نقل و حمل کا مسئلہ ہو یا مواصلات کا ،جہاں پہلے ہم دنیا جہان میں ہونے والے واقعات سے بے خبر رہتے تھے، آج ٹیکنالوجی کی بدولت پل پل کی خبروں سے واقف ہوتے ہیں۔ پہلے کوئی ضروری کام کے لیے دور دراز کا سفر طے کرنے کے لیے ہی کئی دن اور مہینے لگ جاتے تھے، آج ٹیکنالوجی کی مدد سے اس درکار وقت میں انسان کے سیکڑوں کام نمٹ جاتے ہیں۔ لوگ مہینوں اور سالوں تک اپنوں سے بے خبر رہتے تھے، آج ٹیلی فون اور موبائل کی وجہ سے ان سے ہر پل آگاہ رہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی وجہ سے زراعت کی پیداواری اور کارکردگی میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ گھر بیٹھے پیسے کمانے کے نئے اور بہترین طریقوں سے لوگ استفادہ کررہے ہیں۔ مشینوں نے گھر کے سارے کام آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ہمارا بہت سارا وقت بھی بچایا ہے۔ انسانی بقا کے لیے ٹیکنالوجی بہت ضروری ہے۔
لیکن ٹیکنالوجی جہاں ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہورہی ہے وہیں اس کے نقصانات بھی خطرناک ہیں۔ اس نے ہمیں بہت ساری مختلف فکروں میں مبتلا کردیا ہے۔اس کے لگاتار استعمال نے معاشرے میں بڑی خرابیاں پیدا کردی ہیں۔ اس کے زیادہ استعمال سے ہم جسمانی طور پر تو سماج میں ہیں، اپنوں کے ساتھ ہیں، لیکن اگر دیکھا جائے تو اس نے ہمیں ہمارے اپنوں کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر سب سے جدا کردیا ہے۔ ایسے مسائل، جن کے بارے میں پہلے سوچا بھی نہیں جاتا تھا، آج وہ ہر دن اخبار کی ہیڈ لائن ہوتے ہیں۔ بے حیائی اور فحش بالکل نہیں کے برابر تھی، لیکن ٹیکنالوجی نے تو اب ہمارے ضمیروں کو اتنا مار دیا ہے اور انسان کو اتنا ڈھیٹ بنا کر رکھ دیا ہے کہ اب وہ برائی کو بھی برائی نہیں سمجھتے جوں جوں ٹیکنالوجی میں ترقی حاصل ہو رہی ہے، انسان اخلاقی گراوٹ میں مبتلا ہو رہا ہے۔ وہ اب اخلاقیات، محبت، شفقت، ادب، احترام، انسانیت، شرافت وغیرہ سب کو بھول کر صرف مشین بن کر رہ گیا ہے۔
اب وہ اخلاقیات کو بھلا کر بداخلاق ہو چکا ہے۔ محبت نے نفرت کی شکل اختیار کرلی ہے۔ شفقت بے دلی میں، ادب و احترام بدتمیزی میں، انسانیت ظلم و ستم میں اور شرافت غنڈہ گردی میں بدل گئی ہے۔ رحمدلی کی جگہ اب نفرت نے لے لی ہے۔
پہلے خواتین اپنے ماں باپ کی اجازت سے باہر جایا کرتی تھیں، اب انھیں بتانا بھی ضروری نہیں سمجھتیں۔ ایسے ہی کچھ معاملات میں ٹیکنالوجی مضر ہے۔لوگ زیادہ تر بے روزگاری میں مبتلا ہورہے ہے۔ اس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بے ہودہ طرز زندگی اور تفریح کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ لوگ نہ جانتے بجھتے بھی سائبر کرائم کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ موبائل فون کا لگاتار استعمال بالکل نشہ جیسا ہوتا ہے اور انسانی دماغ کے لیے انسانی صحت کے لیے یہ کافی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے اثرات سب سے زیادہ بچوں پر دیکھنے کو ملے ہیں، جس میں وہ اپنا قیمتی وقت برباد کررہے ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢