دل کی خوبصورتی
اقصیٰ نے امتحان کی پڑھائی بہت اچھے سے کی تھی، اس لیے جب امتحان کے رزلٹ آئے تو سب دنگ رہ گئے۔ کیوں کہ اقصیٰ نے کلاس کی ٹاپر صالحہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ یہ وہی صالحہ تھی، جو اقصیٰ کا کلاس میں سب سے زیادہ مذاق اڑاتی تھی۔ صالحہ جل بھن کر رہ گئی اور اب تو وہ پہلے سے زیادہ اقصیٰ کے پیچھے پڑ گئی۔ لیکن اقصیٰ نے اس کے برے سلوک کا کوئی جواب نہیں دیا۔
ایک وقت کی بات ہے۔ احمر نگر گاؤں میں اقصیٰ نام کی ایک لڑکی رہا کرتی تھی۔ اقصیٰ کے چہرے پر بچپن سے ہی کا فی سارے داغ تھے اور اس کے چہرے کا رنگ سانولا بھی تھا، جس کی وجہ سےاقصیٰ بدصورت لگتی تھی۔ اقصیٰ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔اس نے اپنے والدین سے کہا کہ مجھے اسکول پڑھنے جانا ہے، لیکن اس کے والدین نے اسے منع کر دیا۔ اقصی کو بہت دُکھ ہوا۔ لیکن اس نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری۔ اپنے والدین سے ضد کرتی رہی۔ آخر کار اقصیٰ کی ضد دیکھ کر اس کے والدین ، اقصیٰ کو اسکول بھیجنے کے لیے راضی ہو گئے۔ اگلے ہی دن اس کے والد نے اقصیٰ کا داخلہ قریب کے اسکول میں کر وا دیا۔
اقصی کو اگلے دن اسکول جانا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ صبح جلدی اٹھ کر اچھی طرح تیار ہوکر وہ اسکول پہنچ گئی۔ لیکن جیسے ہی وہ اپنی کلاس میں داخل ہوئی، کلاس کے سب طلبہ اس کا مذاق اڑانے لگے کہ یہ لڑکی کتنی بدصورت ہے۔ لیکن اقصیٰ خاموش رہی۔ اس نے کسی کو کچھ بھی نہیں کہا۔ وہ چپ چاپ جاکر اپنی بینچ پر بیٹھ گئی اور پڑھا ئی کر نے لگی۔ اسے روز کلاس میں مذاق کا نشانہ بنایا جاتا، لیکن وہ اس پر دھیان نہیں دیتی اور محنت سے اپنی پڑھائی کرتی۔ کچھ دنوں بعد امتحان شروع ہو گئے۔ اقصیٰ نے امتحان کی پڑھائی بہت اچھے سے کی تھی، اس لیے جب امتحان کے رزلٹ آئے تو سب دنگ رہ گئے۔ کیوں کہ اقصیٰ نے کلاس کی ٹاپر صالحہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ یہ وہی صالحہ تھی، جو اقصیٰ کا کلاس میں سب سے زیادہ مذاق اڑاتی تھی۔ صالحہ جل بھن کر رہ گئی اور اب تو وہ پہلے سے زیادہ اقصیٰ کے پیچھے پڑ گئی۔ لیکن اقصیٰ نے اس کے برے سلوک کا کوئی جواب نہیں دیا۔
اب اقصیٰ کلاس میں اپنے اچھے اخلاق سے سب کا دل جیتنے لگی۔ وہ پڑھائی میں اپنی سہیلیوں کی مدد کرتی۔ اپنا ٹفن بانٹ کر کھاتی اور سب کی مدد کرنے میں ہمیشہ آگے آگے رہتی۔ اکثر وہ اپنی ساتھیوں کے ساتھ کلاس کی صفائی بھی کردیتی، جس کی وجہ سے وہ اپنے اساتذہ کی پسند کی طالبہ بن گئی تھی، مگر یہ سب صالحہ کو بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ اب اقصی کی دشمن بن گئی تھی۔ اس کے ساتھ بہت برا برتاؤ کرتی۔ وہ اسے پریشان کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی تھی۔
ایک دن کی بات ہے۔ ریسیس میں تمام بچے اسکول کے میدان میں کھیل رہے تھے۔ صالحہ بھی کھیل رہی تھی ،وہ بے بہت تیزی سے دوڑ رہی تھی کہ ایک بڑے سے پتھر سے ٹکرا کر گر پڑی۔ اس کے گھٹنوں میں گہرا زخم لگا اور خون بہنے لگا۔ یہ دیکھ کر اس کی سہیلیاں ڈر کر بھاگ گئی۔ صالحہ درد کے مارے زور زور سے رو رہی تھی۔ اقصیٰ نے جب یہ دیکھا تو وہ جلدی سے صالحہ کے پاس پہنچی اور اپنے رومال سے زخم کو باندھا کہ خون رک جائے۔ پھر وہ دوڑی دوڑی اسکول آفس پہنچی، اس حادثے کی خبر اپنے اساتذہ کو دی اور فرسٹ ایڈ باکس لے کر جلدی جلدی وہ صالحہ کے پاس گئی۔ اقصیٰ نے صالحہ کے زخم کو صاف کیا اور مرہم پٹی کردی۔ اتنے میں وہاں دیگر اساتذہ بھی آگئے۔ سبھی نے اقصیٰ کی بہت تعریف کی۔ صالحہ بھی اپنے کیے پر بہت شرمندہ تھی۔ اس نے اقصیٰ سے معافی مانگی۔ اب دونوں گہرے دوست بن گئے۔ اس دن کے بعد سے اقصیٰ کو کسی نے نہیں چڑایا۔ اب وہ سب کی فیورٹ بن گئی تھی۔ صالحہ کا تو یہ حال تھا کہ وہ ایک پل کے لیے بھی اقصیٰ کا ساتھ نہیں چھوڑتی تھی۔
سچ ہے کہ انسان کی اصل خوبصورتی چہرے سے نہیں بلکہ دل سے ہوتی ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢