نیا سال نئے عزائم
زمرہ : ادراك

ہر سال کی طرح سال 2021 بھی احتساب کے لیے کچھ سوالات ہماری ہتھیلی پر دھرکر ہمیشہ کی طرح گزر گیا ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی کے ماہ وسال گنواتا جارہا ہے اور اپنی مہلت عمل گنواتا جارہا ہے ۔ اس حوالے سے کبھی کسی دینی فکر کے تحت اسے اپنے احتساب کا خیال گزرتا بھی ہے تو اس کا محور اپنی ذات ہوتی ہے۔ یہ احساس نہیں ہوتا کہ ملک کے مظلوموں کے تئیں بھی اس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں ۔ اچھائی اور نیکی کا تصور بھی اپنی ذات تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا محور بھی صرف اپنا خاندان اور اپنے بچوں کی فکر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں ہمارے بچےپڑھیں، تاکہ خاندان کے لیے معاشی استحکام ہوسکے ۔ اگر لڑکیوں کے لیے محفوظ ماحول نہیں ہے تو اپنی بچی کو محفوظ ماحول میں پڑھا لیں۔ ہم میں سے ہر ماں کو فکر ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی کوکو ئی ہراساں نہ کرے۔ہمیں یہ خیال نہیں گزرتا کہ کبھی ہم ملک کے مظلوم خواتین کے لیے کیا کررہے ہیں؟ نہ یہ شعور ہمارا سماجی رفاہی کام کے لیے ہمیں تیار کرتا ہے نہ ہی الیکشن کے وقت اپنی رائے دہی اور ووٹ ڈالتے وقت یہ خیال گزرتا ہے کہ اپنی ذات کا احتساب اس حوالے سے بھی بہت ضروری ہے ۔
گزشتہ ماہ ممبئی میں گٹر میں نوزائیدہ بچی ملی تھی، جو زندہ تھی۔ اس کی تفصیلات پچھلے شمارے میں بیان کی گئی تھی اور 16 دسمبر کو شادی کی عمر بڑھانے کے فیصلے پر خبر پڑھ کر یہ خیال گزرا کہ سال نو پر مظلوموں کا ڈاٹاملک کے کرائم ریٹس چیک کرلیں۔ اسی خیال سے گوگل کی مدد سے کرائم برانچ کا ڈاٹا تلاش کیا۔

دی ھندو کی رپورٹ

دہلی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، 2020 کے مقابلے 2021 کے پہلے چھ مہینوں میں دارالحکومت میں خواتین کے خلاف جرائم میں 63.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ خواتین کی عصمت دری کے واقعات میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آئی۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال 15 جون سے اب تک عصمت دری کے واقعات میں 43 فیصد اضافہ ہوا، جو 580 سے بڑھ کر اس سال 833 ہو گیا۔ آج کوئی بھی ھندوستانی شہری ، کم سن بچی سے لے کر عمر رسیدہ خاتون تک، کوئی بھی محفوظ نہیں سمجھتا ہے۔
چھیڑ چھاڑ کے واقعات 733 سے بڑھ کر 1022 ہو گئے۔ خواتین کے اغوا کے واقعات 1026 سے بڑھ کر 1580 اور خواتین کے اغوا کے واقعات 46 سے بڑھ کر 159 ہو گئے۔ جہیز سے ہونے والی اموات 47 سے 56 تک پہنچ گئی ہیں۔
ان حالات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہے کہ ہر فرد یہ سوچے کہ وہ ان حالات پر کیسے قابو پا سکتا ہے؟ اس کی اپنی ذمہ داریاں کیا ہے ؟ کس طرح وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرکے حکومت کی   اصل مسائل کی جانب توجہ مبذول کرواسکتے ہیں۔
اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ ہمیں صرف اپنا سوچنا چاہیے، جیسا کہ آج کل دینی افکار پر کام کرنے والے عالمی کورسیز بھی اسی فکر کے حامل نظر آتے ہیں کہ صرف اپنی ذات تک اچھائی محدود ہوجائے ہم اپنی ذات کو برائی سے بچالیں۔اپنی ذات کی تعمیر تو ہونی ہی چاہیے، تاہم اپنی ذات سے پورے سماج کا کچھ فائدہ نہ ہو تو کیا حاصل ؟
شیخ حسن البنا شہید ؒنے یہ بات ایک دکان دار سے کہی تھی کہ
’’ برے لوگ نیک لوگوں سے زیادہ نہیں ہیں ۔صرف بات یہ ہے کہ برے لوگ اپنی برائی کے تحفظ کے لیے اکھٹے ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہیں۔جب کہ اچھے افراد اپنی انفرادی نیکیوں میں مگن ہیں۔اس فرض کی ادائیگی صرف انفرادی طریقے سے ادا نہ ہوگی، بلکہ اسے رائے عامہ پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘
ہمارے سامنے وہ صحابیات کی تاریخ ہے، جہاں حضرت خنساءؓ اور حضرت اسماءؓ اپنے بچوں کو میدان جنگ کے لیے تیار کررہی ہیں۔ اسی طرح محمد بن قاسمؒ کا کسی خاتون کی مدد سے ھندکا سفر کرنا ،ماضی میں یہ ہماری تاریخ کی خواتین کا طرز رہا ہے ۔
ھندوستان میں مسلمان اور بالخصوص مسلمان خواتین کیا کرسکتی ہیں۔ ھندوستان میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کا اندازہ لگائیں جیسا کہ دی ھندو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ گزشتہ سال ملک بھر میں خواتین کے خلاف جرائم کے کل 371,503 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جب کہ 2019 میں یہ تعداد 405,326 اور 2018 میں 378,236 تھی۔
2019 کے مقابلے میں سال 2020 میں شہروں میں خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں 8.3 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ حالاں کہ اس سال اوسطاً ہر روز ملک بھر میں عصمت دری کے تقریباً 77 واقعات درج ہوئے ہیں۔ خواتین کے خلاف جرائم میں عصمت دری، غیرت کے نام پر اشتعال انگیزی، جہیز کے لیے موت اور ہراساں کرنا اور تیزاب پھینکنے اور اغوا کے واقعات شامل ہیں۔ خواتین کے خلاف جرائم کے تحت زیادہ تر مقدمات شوہر یا اس کے رشتے داروں کی طرف سے ظلم کے تحت درج کیے گئے، جس کے بعد خواتین پر ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے ارادے سے حملہ کیا گیا۔
ملک کے جرائم کے بڑھنے کی ذمہ داری پہلے خاندان کی ہے۔ اس کو روکنے کے لیے بچپن سے بچوں میں انسانیت کی بہی خواہی کا تصور پروان چڑھائیں۔ دوسری ذمہ داری مسلم مرد و خواتین کی ہے کہ ہم حکومت کے ان جرائم کے خلاف کیے گئے اقدامات کو کامیاب بنامنے کے لیے بیداری پیدا کریں۔ عصمت دری کے واقعات کے بڑھنے کے ممکن اسباب کی جانب عوام کی توجہ مبذول کروائیں ۔خواتین کی تنظمیں ہم وطن بہنوں کے ساتھ جرائم کی تعداد کو روکنے کے لیے کیا اقدام کرسکتی ہیں، اس پر ڈسکورس بنائیں ۔
ظاہر ہے کہ صرف مسلم خواتین حکومت کو متوجہ کرنے کی کوشش سے کیا ہوسکتا ہے ۔ کیا ہی اچھا ہے کہ ہم خواتین کے ایشوز پر پورے ملک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کریں ۔
جرائم کی ابتداجہاں سے شروع ہوتی ہے، اس میں سوشل میڈیا پر ہیجان انگیز مواد اور پورن سائٹس کے خلاف خواتین کو آواز بلند کرنی چاہیے ۔تشدد کے واقعات میں کمی کے اسباب پر غور کریں تو ھندوستان میں شراب کے نشے میں تشدد کے واقعات زیادہ رپورٹ ہوئے ہیں۔شراب پر پابندی کا مطالبہ بھی ہم خواتین کا بنیادی حق ہے۔ اسی طرح شادی کی عمر کے قانون کے نفاذ کو بھی خواتین تحریکات کو منظم کرکےروکنے کی کوشش کی جاسکتی ہے ۔بے حیائی کے خلاف آواز بلند کر نا اور متبادل کے طور پر حیا کو پیش کرنا بھی مسلم خواتین کی بہت بڑی ذمہ داری ۔جرائم میں اضافے کا سبب مجرم کی سزا میں تاخیر اور سزا نہ ملنے سے مجرم کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، اس پر بھی بہتر لائحہ عمل کی تجویز پیش کرنا چاہیے ۔
ایسا محسوس ہورہاہے کہ ہم، خواتین پر ظلم، تشدد، ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات کو میڈیا پر سن سن کر نارمل بنارہے ہیں۔ہمیں اس کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت کی جانب توجہ مبذول کرنے کی مکمل کوشش کرنی چاہیے۔ اتنی آواز بلند ہو کہ 2022 میںان جرائم کی تعداد کم ہوسکے ۔

اٹھو وگر نہ حشر ہوگا نہ پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال
قیامت کی چل گیا

اچھائی اور نیکی کا تصور بھی اپنی ذات تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا محور بھی صرف اپنا خاندان اور اپنے بچوں کی فکر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں ہمارے بچےپڑھیں، تاکہ خاندان کے لیے معاشی استحکام ہوسکے ۔ اگر لڑکیوں کے لیے محفوظ ماحول نہیں ہے تو اپنی بچی کو محفوظ ماحول میں پڑھا لیں۔ ہم میں سے ہر ماں کو فکر ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی کوکو ئی ہراساں نہ کرے۔ہمیں یہ خیال نہیں گزرتا کہ کبھی ہم ملک کے مظلوم خواتین کے لیے کیا کررہے ہیں؟

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢