میری بہن! حیاکرو [قسط:1]
تین لڑکیاں جو بی ٹیک کی طالبات ہیں، ان میں ایک حسناء ہے،جو فیشن کی بہت شوقین ہے۔جب وہ کالج جاتی ہے تو فل میک اپ کے ساتھ اور برقع اس قدر چست پہنتی ہے کہ جسم کا ہر حصہ نمایاں نظر آتا ہے۔ لڑکوں سے دوستی اور اُن سے باتیں کرنا اس کی خصلت ہے۔اس کے مقابلے میں سدرہ اور رابعی دونوں بہت شریف اور صالح لڑکیاں ہیں۔وہ دونوں اسلامی تعلیمات کی پابند، اپنے کام سے کام رکھنے والی اوراسلامی حدود کا پاس و لحاظ رکھنے والی ہیں۔
رابعی بہت دیر سے کالج کے کینٹین میں بیٹھ کر حسناء کو دیکھ رہی تھی، جہاں حسناء لڑکوں کے ساتھ سیلفی لےرہی تھی۔
سدرہ:
رابعی کیا تم دیکھنے آئی ہویا کھانے آئی ہو؟جلدی کھاؤ! کلاس اسٹارٹ ہونے والی ہوگی۔
رابعی:
ارےنہیں! میں تو بس حسناء کو دیکھ رہی تھی ۔
سدرہ:
ارے بھائی! اِن جیسی لڑکیوں کا کچھ نہیں ہونے والا،وہ سمجھنے والی نہیں ہیں۔پتہ نہیںاللہ کے پاس جاکر کیا جواب دیں گی ؟
رابعی :
یا تم نے اسے صحیح راستہ بتانےکی کوشش کی ہے؟پھر ہم کیسے یہ بات کہہ سکتے ہیں؟ہدایت دینے والا تو اللہ رب العزت ہے۔

سدرہ:

ہاں،صحیح ہے۔ اللہ معاف کرے ۔جلدی چلو۔(دونوں اُٹھ کر کلاس کے لیے چلی جاتی ہیں۔ )
کالج کی چھٹی کے وقت کیمپس گراؤنڈ میں رابعی نے حسناء کو قریب آکر سلام کیا۔
رابعی: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حسناء!
حسناء:
علیکم السلام(نگاہیں رابعی پر ڈالتے ہوئے۔ تب ہی اُس کی کتابیں نیچے گرجاتی ہیں ۔رابعی اُسے اُٹھا کر دیتی ہے ۔)
حسناء:
ارے….رہنے دو رابعی میں اُٹھالوں گی۔ رابعی میں لے لوں گی۔
رابعی :
تمہاری زبان سے ’رابعی‘ سن کر بہت اچھا لگا۔یہ تو نیکی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے کام آئے۔
حسناء:
thanks رابعی ۔
فرحان:
hi حسناء! What’s up?(فرحان حسناء کا دوست ہے۔ )
فرحان کے آتے ہی رابعی دور ہٹ جاتی ہے۔
رابعی :
حسناء! بعد میں ملیں گے،اللہ حافظ۔
رابعی گھر جاتی ہے، مغرب کی نماز پڑھ کر حسناء کے بارے میں سوچنے لگتی ہے، اور اپنے آپ سے کہتی ہے:
’’یااللہ!حسناء بہت بڑے گناہ کے دل دل میں پھنس گئی ہے۔ تُو اس کو صحیح راستہ دکھا۔نیک عمل کی توفیق دے۔اِس گناہ سے معاشرے پر اثر ہوگا۔نسلیں برباد ہوجائیں گی۔ یاا للہ! حسناء کونیک بنادے،آمین ۔‘‘
اُسی وقت فون کی گھنٹی بجتی ہے اور رابعی جائے نماز رکھ کر فون کی طرف دیکھتی ہے کہ حسناء کا فون آرہا ہے۔
رابعی :
اللہ! حسناء کو صحیح راہ دیکھانے میںمیری مدد فرما۔
(آسمان کی طرف دیکھ کر کہتی ہے۔)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ حسناء! میں تمہیں ہی یاد کررہی تھی ۔
حسناء:وعلیکم السلام۔ کیسی ہو؟بھلا مجھے کیوں یاد کررہی تھیں؟اور تم کیا کررہی ہو؟
رابعی :
ابھی نماز پڑھ کر اٹھی ہوں اور تمہارا فون آگیا۔تم نے پڑھ لی نماز؟ اور کیسی ہو؟
حسناء:
نا۔۔نا۔۔نماز میری چھوٹ گئی۔ابھی سوکر اُٹھی ہوں۔(ہچکچاتے ہوئے ) اور میں ٹھیک ہوں۔
رابعی :
اچھاایک بات کہوں؟ بُرا تو نہیں مانوگی۔
حسناء:
ارے….نہیں رابعی بولو نا!تم نے میری بکس پورے کیمپس کے سامنے اُٹھاکر دیں، بھلا میں کیوں بُرا مانوں۔مجھے توتمہاری مدد کرکےبہت اچھا لگا۔
رابعی :
ارے بھائی! میں نےایسا کچھ بھی نہیں کیا ۔سنتِ رسول ﷺ ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کرنے میں پہل کرو چاہے، معمولی سی چیز ہی کیوں نہ ہو اور اللہ ہماری مدد کرتا ہے، جب ہم دوسروں کی مدد کریں گے ۔
اور ایک بات جو میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں…. کہ…وہ… مطلب(تھوڑا رُک رُک کر)کیمپس میں تم جو لڑکوں کے ساتھ بیٹھتی ہو،اُن کو جو دوست بناتی ہو،جس سے بُری نظریں تم پر جمی ہوتی ہیں۔یہ سب غلط ہے نا….اور یہ گناہ بھی ہے حسناء۔دیکھو میں تمہیں بہت پسند کرتی ہوں ،اس لیے بتا رہی ہوں ۔
(رابعی بول ہی رہی ہوتی ہے کہ فون کٹ کردیا جاتاہے اور رابعی فون دیکھ کر مسکراتی ہے۔)

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢