مسلمانوں کے خلاف نسل کشی اور ہتھیاروں کے استعمال کے لیے کھلے عام مطالبات
ملکی منظر نامہ :
وشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر،جمعرات کو اس وقت بھڑک اٹھا جب متعدد تصدیق شدہ صارفین نے ہریدوار میں تین روزہ مذہبی اجتماع کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے مذمت کی، جس میں مقررین نے مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف کھلے عام تشدد اور نسل کشی کا مطالبہ کیا۔
واضح ہو کہ 17 تا19/دسمبر 2021ء کے مابین ہریدوار میں ’اسلامی ہندستان میں
سناتن دھرم:
مسائل اور حل‘ کے عنوان سے ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں بہت سے مقررین نے اشتعال انگیز اور منافرت پر مبنی تقاریر کیں، مسلمانوں کی نسل کشی کی کھلم کھلا اپیل کی اور پوری ہندو برادری کو مسلح ہونے پر زور دیا،جس نے غم و غصے اور مذمت کو جنم دیا ہے۔ لیکن تقریر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نفرت انگیز تبصروں پر قائم ہیں۔
ٹوئٹر کےذریعے نفرت انگریز پیغام دنیا بھر میں گردش کرنے لگے، جس کے بعد، سابق فوجی سربراہان، کارکنوں اور یہاں تک کہ ایک بین الاقوامی ٹینس لیجنڈ نے بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ لیکن چار دن گزرنے کے باوجود نفرت انگیز تقاریر پر ایف آئی آر تک نہیں ہوئی۔
زعفرانی لباس میں ملبوس اجتماع کو ’’صرف ہندو قوم‘‘کے لیے لڑنے کا عہد کرتے ہوئے دکھائے جانے والے ایک ویڈیو میں حلف لیا گیا کہ، ’’ہم ہندوستان کو صرف ہندو قوم میں تبدیل کرنے کے لیے [مسلمانوں] سے لڑنے اور مارنے کا حلف لیتے ہیں۔‘‘
اس کانفرنس کا انعقاد شر پسند یاتی نرسمہانند نے کیا تھا، جن پر ماضی میں اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے تشدد بھڑکانے کا الزام ہے۔ ترنمول کانگریس کے رہنما اور آر ٹی آئی کارکن ساکیت گوکھلے کی جانب سے درج کرائی گئی پولیس شکایت کے مطابق، اجتماع سے منسلک دیگر افراد میں ہندو رکشا سینا کے پربودھانند گری، بی جے پی کی خواتین ونگ کی لیڈر اڈیتا تیاگی اور بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے ہیں، جو نفرت انگیز تقریر کیس میں ضمانت پر باہر ہیں۔
پربودھانند گری ایک ویڈیو میں اجتماع کو بتاتے ہیں:
’’میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاست دانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھا کر صفائی ابھیان (نسلی صفائی) کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔‘‘
میڈیا سے بات کرتے ہوئے پربودھانند گری کہا کہ’’میں نے جو کچھ کہا ہے اس پر مجھے کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ میں پولیس سے نہیں ڈرتا۔ میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔ آپ کی اور میری سوچ میں فرق ہے۔ آئین کو پڑھیں۔ میرے تبصرے اشتعال انگیز نہیں تھے۔ اگر کسی نے مجھے مارنے کی کوشش کی تو میں جوابی جنگ کروں گا۔ میں قانون سے نہیں ڈرتا۔‘‘
سوامی نے بی جے پی کے ساتھ اپنے روابط کو ظاہر کیا۔ وہ اکثر بی جے پی لیڈروں بشمول اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ تصویر کھنچواتے رہے ہیں۔ ایک حالیہ تصویر میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر دھامی ان کے پاؤں چھوتے نظر آرہے ہیں۔
متنازعہ مجلس کی ایک اور ویڈیو میں پوجا شکون پانڈے عرف ’’سادھوی اناپورنا‘‘کو ہتھیار اٹھانے اور مسلمانوں کے خلاف تشدد پر زور دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ کہتی سنائی دیں کہ ’’اگر آپ انہیں (مسلمانوں)ختم کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں مار ڈالو۔ ہمیں 100 فوجیوں کی ضرورت ہے ،جو ان سے جیتنے کے لیے ان میں سے 20 لاکھ کو مار سکیں۔‘‘
میڈیا سے بات کرتے ہوئے، اس نے اپنے تبصروں کو دوگنا کیا اور کہا:’’ہندوستان کا آئین غلط ہے۔ ہندوستانیوں کو ناتھو رام گوڈسے (مہاتما گاندھی کے قاتل) سے دعا کرنی چاہیے۔ میں پولیس سے نہیں ڈرتی۔‘‘
اسی اسٹیج سے بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے ’’بھگوا (زعفرانی) آئین‘‘ کی کاپیاں تقسیم کرتے نظر آئے۔ ایک ویڈیو میں اپنا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صرف تقریب کے اختتام پر حاضر ہوئے تھے اور ان کے سامنے جو کچھ کہا گیا اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
مسٹر اپادھیائے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’جانے سے پہلے کیا ہوا، مجھے نہیں معلوم۔ میں آخری دن 30منٹ کے لیے گیا تھا۔ چونکہ میں دیر سے پہنچا تھا، اس لیے میرا وقت 30 سے کم کر کے 10 منٹ کر دیا گیا تھا۔ میں نے آئین کی کاپی لی تھی۔ میں نے کاپیاں تقسیم کیں۔ کچھ لوگوں سے اور آبادی پر قابو پانے، تبدیلیوں کی جانچ، دراندازی سے متعلق دفعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اگر آئین کو تقسیم کرنا یا اس پر بحث کرنا جرم ہے، تو میں نے جرم کیا ہے۔‘‘
ایک ویڈیو میں، اسپیکر، سوامی دھرم داس مہاراج، پارلیمنٹ میں ’’ناتھورام گوڈسے بننے‘‘اور منموہن سنگھ (سابق وزیر اعظم) کو گولی مارنے کے بارے میں بات کرتے سنائی دیے۔ دھرم داس کہتے ہیں: ’’اگر میں پارلیمنٹ میں اس وقت موجود ہوتا جب وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ قومی وسائل پر اقلیتوں کا پہلا حق ہے، تو میں ناتھورام گوڈسے کی پیروی کرتا، میں ریوالور سے ان کے سینے میں چھ گولی مار دیتا۔‘‘
ملک بھر میں ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹویٹر کے ذریعے افسران نے تشویش کا اظہار کیا۔ سابق بحریہ کے سربراہ ارون پرکاش لکھتے ہیںکہ”اسے کیوں نہیں روکا جا رہا؟ ہمارے جوانوں کو دو محاذوں پر دشمنوں کا سامنا ہے، کیا ہم فرقہ وارانہ خون کی ہولی، گھریلو انتشار اور بین الاقوامی بدنامی چاہتے ہیں؟ کیا یہ سمجھنا مشکل ہے کہ قومی ہم آہنگی اور اتحاد کو نقصان پہنچانے والی کوئی بھی چیز ہندوستان کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
’’ سابق آرمی چیف جنرل وی پی ملک نے ٹویٹ کیا کہ “اس طرح کی تقریریں عوامی ہم آہنگی کو متأثر کرتی ہیں اور قومی سلامتی کو متاثر کرتی ہیں۔ سول انتظامیہ کو کارروائی کی ضرورت ہے۔‘‘
واضح ہو کہ اس دھرم سنسد کے مقررین میں سے بہت سارے مجرمین ہیں۔ جو بار بار نفرت پھیلانے کی بنا پر سرخیوں میں رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر، پوجا شکون نے 2019 میں اس وقت سرخیاں بنائیں جب اس نے مہاتما گاندھی کے مجسمے پر گولی چلائی، ناتھورام گوڈسے کی تعریف کرتے ہوئے نعرے لگائے اور پتلے کو آگ لگا دی۔
اقلیتوں کے خلاف اس نفرت انگیز منصوبہ بندی کے بعد ملک و بیرونی ملک سے اس پر روک لگانے اور کاروائی کے لیے مطالبات تیز ہوچکے ہیں۔ مولانا مدنی نے ملک کے وزیر داخلہ شری امت شاہ، اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی، قومی اقلیتی کمیشن اور نیشنل ہیومن رائٹس کو خط لکھ کر اس پر فوری توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔مولانا مدنی نے اپنے مکتوب میں ان بیانات کا حوالہ دے کر سرکار کو متوجہ کیاہے کہ وہ ملک کے آئین او ر قانون کی حکمرانی و بالادستی کی حفاظت کرے اور آئینی عہدے کی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر ملک میں انارکی اور نفرت پھیلانے والے عناصر کو کیفرکردار تک پہنچائے۔
عالمی منظر نامہ
افغانستان کی صورتِ حال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی امدادی پہل
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور اقوامِ متحدہ کے اداروں کے ساتھ مل کر افغان عوام کی مدد کے لیے کام کرے گی۔پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ممبر ممالک کے وزرائے خارجہ کا افغانی صورتحال پر اجلاس عمل میں آیا۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچے۔ اس کے علاوہ اسلامی ترقیاتی بینک کے سربراہ، خلیج تعاون کونسل کے جنرل سیکریٹری اور افغانستان کے لیے یورپین یونین، اٹلی، جرمنی کے نمائندہ خصوصی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اس اجلاس کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے قومی اسمبلی ہال کا انتخاب کیا گیا تھا۔
اس کانفرنس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ افغانستان کے لیے انسانی بنیادوں پر ملکوں کی برادری میں یک جہتی پیدا کی جائے اور دنیا کو یہ بتایا جائے کہ افغانستان کو اس وقت جس مدد اور تعاون کی ضرورت ہے وہ اس سے قبل فراہم کی جائے کہ وہاں حالات قابو سے باہر ہو جائیں اور افغان حکومت کی جو رقوم امریکہ سمیت دوسرے ملکوں میں منجمد ہیں، انہیں واپس کیا جائے تاکہ وہاں کی حکومت اپنے معاشی حالات کو بہتری کی جانب لے جا سکے۔
کانفرنس کے افتتاحی سیشن اور کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے بند کمرہ میں اجلاس کے بعد او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ رُکن ممالک نے افغانستان کی فوری امداد کے لیے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ غذائی قلت سے دوچار ملک کے لیے فوڈ سیکیورٹی پروگرام بھی شروع کیا جائے گا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے لیے او آئی سی کی جانب سے ایک خصوصی نمائندہ مقرر کیا جائے گا۔اُن کے بقول اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ افغانستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے فنانشل اور بینکنگ چینلز بحال کرنا ناگزیر ہے۔زیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ رُکن ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ افغانستان پر عائد عالمی پابندیوں کی زد میں انسانی امداد کے منصوبے نہیں آنے چاہئیں۔
شاہ محمود قریشی کے بقول انسانی بحران افغانستان پر منڈلا رہا ہے۔ اگر بروقت مدد فراہم نہ کی گئی تو بہت بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔اُنہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر معاملات مزید خراب ہوئے تو نہ صرف افغانستان کے پڑوسی ممالک بلکہ پوری دنیا متاثر ہو گی۔اس سے قبل کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر افغانستان کی فوری مدد نہ کی گئی تو ملک افراتفری کا شکار ہو جائے گا، جس سے لامحالہ دہشت گردی کو فروغ ملے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو طالبان حکومت اور چار کروڑ افغان شہریوں کو الگ نظر سے دیکھنا ہو گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موسمِ سرما عروج پر ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہاں موسم کی شدت کتنی خطرناک ہوتی ہے۔ لہٰذا عالمی برادری بالخصوص امریکہ اور مغربی ممالک کو افغانستان کی مدد کے لیے آگے آنا ہو گا۔ ورنہ انسانوں کی وجہ سے سامنے آنے والا یہ سب سے بڑا انسانی بحران ہو گا۔
طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں انسانی بحران نے شدت اختیار کی تو وہاں حکومت کمزر ہو گی، جس سے دہشت گرد گروپس بشمول دولتِ اسلامیہ (داعش) کو پنپنے کا موقع ملے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بینک بند پڑے ہیں، جب کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی افغان حکومت کے پاس رقوم نہیں ہیں۔پاکستانی وزیرِ اعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر افغانستان کی فوری مدد نہ کی گئی تو مہاجرین کی ایک نئی لہر آئے گی جس سے پاکستان اور ایران کے علاوہ یورپی ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی بہت دیر کر چکے ہیں۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ افغانستان کی مدد کی جائے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے عبوری وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اس اجلاس میں شریک ہوئے۔پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے چھ نکاتی تجاویز پیش کر دیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر افغانستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک ایسا گروپ بنانا ہو گا جو افغانستان کو درپیش مالی چیلنجز اور بینکاری نظام کی عدم موجودگی کا حل تلاش کرے۔شاہ محمود قریشی نے زور دیا کہ طالبان سے روابط کے ذریعے ہی ان سے بین الاقوامی برادری کی توقعات پوری کروانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
واضح ہو کہ عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دنیا کا بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔افغانستان کی نصف آبادی کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے، لہٰذا دنیا کو اُن کی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ خدشات ہے کہ خوراک کے بحران کا نتیجہ آبادی کے انخلا اور دہشت گردی کے فروغ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں او آئی سی کے رُکن ممالک کے نمائندوں سمیت امریکہ، چین، روس اور یورپی یونین کے مندوبین بھی شریک ہوئے۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان بھی اسلام آباد پہنچے۔ اس موقع پر اپنے بیان میں تھامس ویسٹ کا کہنا تھا کہ طالبان سے سفارت کاری میں افغان عوام ہمیشہ ہماری ترجیحات میں ہوں گے۔
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے اپنے خطاب میں افغانستان کے لیے ایک ارب ریال امداد کا اعلان کیا۔اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اور ملک مکمل تباہی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعودکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیرِ خارجہ مولود چاوش اولو نے کہا کہ افغانستان کے استحکام کے لیے طالبان کے ساتھ رابطے رکھنا ضروری ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ انسانی اور اقتصادی بحران ہجرت کا باعث بنتا ہے، جس سے لامحالہ ہمسایہ ممالک اور دنیا متاثر ہو سکتی ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کے معاملے پر ایران، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان کے فعال رابطوں کو سراہتے ۔پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق 20 سے زائد وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے جب کہ متعدد ممالک کی نمائندگی نائب وزرائے خارجہ، سیکریٹری خارجہ اور اعلیٰ حکام نے کیں۔
سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعودکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیرِ خارجہ مولود چاوش اولو نے کہا کہ افغانستان کے استحکام کے لیے طالبان کے ساتھ رابطے رکھنا ضروری ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ انسانی اور اقتصادی بحران ہجرت کا باعث بنتا ہے، جس سے لامحالہ ہمسایہ ممالک اور دنیا متاثر ہو سکتی ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢