غارت گر(Predator)

شیطان ہماری ذات کا سب سے بڑا غارت گر ہے اور اسی کی وجہ سے دوسرے غارت گر جنم لیتے ہیں، جو انسانی نظامِ فطرت کو متأثر کرتے ہیں۔ ہم اپنے زعم میں ان غارت گر صفات کو ایک مضبوط قلعہ سمجھ بیٹھتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اتنے کم زور، بے ثبات اور بے وقعت ہوتے ہیں کہ ایک جھونکے میں انسانی شخصیت کو مجروح کر دیتے ہیں اور ہمیں ان کے بودے پن کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

ہر جان دار دوسرے جان دار کے لیے غارت گر (Predator) ہے اور یہ قدرت کا قانون ہے۔ غذائی زنجیر (Food chain) کو اگر بہ غور دیکھا جائے تو ہر طاقت ور جان دار ،کم زور جان دار کے ذریعے اپنا پیٹ بھرتا ہے اور توانائی حاصل کرتا ہے۔
غارت گر (شکاری) اپنے شکار کا انتظار کرتا ہے اور جب شکار اس کے قریب آتا ہے تو وہ اس پر جھپٹ پڑتا ہے اور اس کو ختم کر دیتے ہے۔غارت گر، کئی شکلوں اور سائز کے ہوتے ہیں۔ بہت سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ان کی تعداد بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔
غارت گر(predator) کی شناخت اور اُس سے بچنے کے طریقے جاننا ہر جان دار کی بقاء کے لیے ضروری ہے۔ جانوروں کو اس سلسلے میں ایک خاص قدرتی فہم اور Instinct عطا کیا گیا ہے کہ وہ خطرے کو محسوس کر لیتے ہے۔ predator جب شکار کے قرب و جوار میں ہوتا ہے تو اس کا قدرتی فہم اسے اس خطرے سے مطلع کر دیتا ہے ۔
اﷲ تعالیٰ نے غارت گر اور شکار کے درمیان ایک دفاعی اصول وضع کیا ہے۔ اگر شکار(prey) اپنے غارت گر کی Range سے باہر رہے تو وہ اپنا بچاؤ کرسکتا ہے، لیکن اگر وہ اس کی Range میں چلا جائے تو پھر غارت گر، شکار پر غالب آ جاتا ہے۔
چوں کہ میں قرآن اور سائنس دونوں کی اسٹوڈنٹ (Student)ہوں اور یہ دونوں مجھے غور و فکر پر ابھارتےہیں۔ میرے تحت الشعور سے نِدا آئی کہ خواہشاتِ نفس، غصّہ، غرور، تکبر، انا، حسد، بغض، خودسری اور فحش گوئی وغیرہ،جنہیں ہم پانے یا حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، یہ ہماری ذات کے غارت گر (Predator) ہیں، جن کا ضرر مسلسل جاری رہتا ہے اوریہ ہمیں کم زور بناتے ہیں۔
شیطان ہماری ذات کا سب سے بڑا غارت گر ہے اور اسی کی وجہ سے دوسرے غارت گر جنم لیتے ہیں، جو انسانی نظامِ فطرت کو متأثر کرتے ہیں۔ ہم اپنے زعم میں ان غارت گر صفات کو ایک مضبوط قلعہ سمجھ بیٹھتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اتنے کم زور، بے ثبات اور بے وقعت ہوتے ہیں کہ ایک جھونکے میں انسانی شخصیت کو مجروح کر دیتے ہیں اور ہمیں ان کے بودے پن کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
جس طرح جانور، predator کی شناخت اور اس سے بچنے کے طریقے جانتا ہے اُسی طرح انسان کو بھی اپنی ذات کے غارت گر کی شناخت بتائی گئی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے قانون کے مطابق جو دفاعی اصول وضع کیا گیا ہے اُس کے ذریعے غارت گر کے حدود سے بھی مطلع (Inform) کردیا گیا ہے کہ’’ اگر انسان اُن حدود کے قریب بھی گیا تو بات واضح ہے کہ وہ اُن کا شکار ہوجائے گا۔‘‘لیکن انسان کو اپنے اِن غارت گروں کی شناخت مشکل سے ہوتی ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے حضرت انسان کو احسن تقویم پر پیدا فرمایا، مخلوقات میں انسان سے زیادہ خوبصورت کوئی چیزپیدا نہیں کی اور اسے عظیم صفات سے متصّف فرمایا۔ انسان کو عقل اور اختیار کی صفت سے نوازا ۔اس اعتبار سے کوئی اور مخلوق انسان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
انسان ذی ارادہ ہستی ہے اور یہ بشری کم زوری ہے کہ وہ اپنے غارت گر کی صفات کو جاننے کے باوجود ان کا شکار ہو جاتا ہے۔ غارت گر صفات، جن کے ذریعے ہم اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی اصل قوتیں ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سب ظاہری قوتیں ہیں۔لیکن ہم ان ظاہری قوتوں سے دھوکہ کھا کر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان قوتوں سے اوپر ایک عظیم قوت موجود ہے، جو ان ظاہری قوتوں کی تسخیر کرتی ہے۔

فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے ان گھات لگانے والوں(Lurkers) کو جانے، شخصیت کو برباد کرنے والے اِن عوامل کو غور و فکر کا موضوع بنائے، اُن کے نقصانات کو جانے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اُن کی گھات(lurk)سے بچنے کی تدابیر کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:

“يٰاَيُّهَا النَّاسُ قَد جَآءَتكُم مَّوعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌلِّمَا فِى الصُّدُورِ وَهُدًى وَّرَحمَةٌ لِّـلْمُؤمِنِينَ”(سورۂ يونس:57)

’’لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے، یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔‘‘
ہم اپنی زندگی میں کتاب ﷲ اور سنتِ رسولﷺ کے ذریعےاُن صفات حسنہ کو پروان چڑھائیں جو فرد کی زندگی اور آخرت میں روشنی کا سامان بنیں،تاکہ فرد کے دونوں جہان حسنات کے نور سے منوَّر ہو جائیں۔ اگر کوئی شخص ان پر عمل پیرا ہوتا ہے تو وہ اُن تمام ظاہری قوتوں کو مسمار کر ڈالتا ہے، جو اس کی شخصیت کی تعمیر کے درمیان میں حائل ہوتی ہیں۔
شخصیت کے اِن غارت گروں سے بچنے کے لیے آپؐنے جو دعائیں سکھائی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ، وَالْأَعْمَالِ، وَالْأَهْوَاء (سنن الترمذی: 3591)

’’اے ہمارے پروردگار ! میں برے اخلاق اور برے اعمال اور خواہشاتِ نفس سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘
اے اللہ! ہمیں اپنے اِن غارت گروں کو جاننے، اُن سے بچنے اور احسن تقویم پر قائم رہنے والا بنا دے، آمین

کسی بستی میں آگ لگ جائے تو اسے بجھانے کے لیے ہر شخص دوڑ پڑتا ہے ، لیکن اس میں اہم کردار فائر بریگیڈ کا ہوتا ہے ، اس لیے کہ اس کے پاس ماہر اور تجربہ کار عملہ ہوتا ہے ، جسے آگ بجھانے کی خصوصی تربیت حاصل ہوتی ہے _ سماجی برائیوں کے ازالہ میں علماء اور ائمہ کی حیثیت فائر بریگیڈ کے عملہ کی سی ہے ، جو اپنی دینی بصیرت سے اسے فساد اور انتشار سے بچاسکتے ہیں اور اس کو پاکیزگی عطا کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢