غزل

بجز وہم و گماں کچھ بھی نہیں ہے
ہمارے درمیاں کچھ بھی نہیں ہے
جھلک ہم آرزو کی دیکھتے ہیں
حقیقت میں یہاں کچھ بھی نہیں ہے
ہمیں بے چین کیا رکھتا ہے آخر
اگر سوز نہاں کچھ بھی نہیں ہے
دل اک تاریک نگری ہے اور اس میں
برائے مہ وشاں کچھ بھی نہیں ہے
بذات خود فسانہ ہے سفر، سو
فریب ہم رہاں کچھ بھی نہیں ہے
سوائے رہبروں اور رہزنوں کے
متاع کارواں کچھ بھی نہیں ہے
مری پرواز کی وسعت کے آگے
تمھارا آسماں کچھ بھی نہیں ہے

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢