درس قرآن
زمرہ : النور

English Text

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَا تَنۡكِحُوۡا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ‌ ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقۡتًا ؕ وَسَآءَ سَبِيۡلًا ۞حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ اُمَّهٰتُكُمۡ وَبَنٰتُكُمۡ وَاَخَوٰتُكُمۡ وَعَمّٰتُكُمۡ وَخٰلٰتُكُمۡ وَبَنٰتُ الۡاٰخِ وَبَنٰتُ الۡاُخۡتِ وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِىۡۤ اَرۡضَعۡنَكُمۡ وَاَخَوٰتُكُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَآئِبُكُمُ الّٰتِىۡ فِىۡ حُجُوۡرِكُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِىۡ دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ فَاِنۡ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَاۤئِلُ اَبۡنَآئِكُمُ الَّذِيۡنَ مِنۡ اَصۡلَابِكُمۡۙ وَاَنۡ تَجۡمَعُوۡا بَيۡنَ الۡاُخۡتَيۡنِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ‌ؕ اِنَّ اللهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۙ‏ ۞ (النساء: 22,23)

ترجمہ:

(اور جن عورتوں سے تمھارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے ہرگز نکاح نہ کرو،مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا۔در حقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے، ناپسندیدہ ہے اور برا چلن ہے۔تم پر حرام کی گئی تمھاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں  اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تم کو دودھ پلایا     اور تمھاری دودھ شریک بہنیں اور تمھاری بیویوں کی مائیں اور تمھاری بیویوں کی لڑکیاں، جنھوں نے تمھاری گودوں میں پرورش پائی ہے۔ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمھارا تعلق وزن و شو ہوچکا ہو۔ ورنہ صرف نکاح ہوا ہو اور تعلق زن و شونہ ہوا ہو تو (انھیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کرلینے میں) تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب میں سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو، مگر پہلے ہوگیا سو ہوگیا۔اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔) نساء کے معنی ہیں ’’عورت ‘‘کے ہیں۔ اس سورہ میں عورت کے بہت سے اہم مسائل کا تذکرہ ہے۔ اس لیے اسے سورۃ النساء کہا جاتا ہے۔

وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُم مِّنَ النِّسَآءِاِلَّا مَا قَدسَلَفَ‌ ۔اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقتًا وَسَآءَسَبِيۡلًا (النساء 22)

زمانہ جاہلیت میں سوتیلے بیٹے اپنے باپ کی بیوی (یعنی سوتیلی ماں سے) نکاح کرلیتے تھے، ان سے روکا جارہا ہےکہ یہ بہت بے حیائی کا کام ہے۔ اسلام ایسی عورت سے نکاح کو ممنوع قرار دیتا ہے، جس سے اس کے باپ نے نکاح کیا۔ یہاں تمدنی اور معاشرتی مسائل میں جاہلیت کے غلط طریقوں کو حرام قرار دیا جارہا ہے۔ جو ہوچکا سو ہو چکا، سے مراد بے علمی اور نادانی میں جو غلطیاں تم لوگ کرتے رہے ہو ،ان کی گرفت نہیں کی جائے گی۔ بشرطیکہ حکم آنے کے بعد اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلو اور جو غلط کام ہیں، انہیں چھوڑ دو۔ دوسرے یہ کہ پچھلے زمانے میں اگر کسی کام کو کم یا کسی طریقے کو حرام ٹھہرایا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پچھلے قانون یا رسم و رواج کے مطابق جو کام پہلے ہوچکے ہیں ان کو ختم کیا جائے اور ان سے پیدا شدہ نتائج کو ناجائز اور عائد شدہ ذمہ داریوں کو لازماً ساقط بھی کیا جارہا ہے:

حُرِّمَت عَلَيكُم اُمَّهٰتُكُم وَبَنٰتُكُم وَاَخَوٰتُكُم وَعَمّٰتُكُم وَخٰلٰتُكُم وَبَنٰتُ الاٰخِ وَبَنٰتُ الاُختِ وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِىۡۤ اَرضَعنَكُم وَاَخَوٰتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُم وَرَبَآئِبُكُمُ الّٰتِى فِىۡ حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ الّٰتِى دَخَلتُم بِهِنَّ فَاِن لَّم تَكُونُوا دَخَلتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيكُم وَحَلَاۤئِلُ اَبنَآئِكُمُ الَّذِينَ مِن اَصلَابِكُمۡ وَاَن تَجۡمَعُوا بَينَ الاُختَينِ اِلَّا مَا قَد سَلَفَ‌۔ اِنَّ اللٰهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيما (النساء:23)

اس آیت میں جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے، ان کی تفصیل بیان کی جارہی ہے۔ ان میں سات محرمات نسب، سات رضائی اور چار سسرالی بھی ہیں۔ اس کے علاوہ حدیث رسولﷺ سے ثابت ہے کہ بھتیجی اور پھوپھی ، بھانجی، خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔
سات محرمات میں مائیں ، بیٹیاں، بہنیں ، پھوپھیاں ، خالائیں ، بھتیجی اور بھانجی ہیں اور سات رضاعی محرمات میں رضاعی مائیں، رضاعی بہنیں رضاعی بھتیجیاں اور رضاعی بھانجیاں ہیں اور سسرالی محرمات میں سات ساس، ربائب (مدخولہ بیوی) کے پہلے خاوند سے لڑکیاں، بہو اور دو سگی بہنوں کا جمع کرنا ہے۔
اس کے علاوہ باپ کی منکوحہ (جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے) اور حدیث کے مطابق بیوی جب تک عقد نکاح میں ہے۔ اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ اور اس کی بھتیجی اور اس کی بھانجی سے بھی نکاح حرام ہے۔
محرمات نسبی کی تفصیل: امہات( یعنی مائیں ) میں ماؤں کی مائیں(نانیاں ) ان کی دادیاں اور باپ کی مائیں (دادیاں پردادیاں، پردادیاں اور ان کے آگے تک شامل ہیں۔ بنات (بیٹیاں ) میں پوتیاں، نواسیاں، نواسیوں کی بیٹیاں نیچے تک شامل ہے۔ زنا سے پیدا ہونے والی لڑکی بیٹی میں شامل ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔ ائمہ ثلاثہ اسے بیٹی میں شامل کرتے ہیں اور اس سے نکاح کو حرام سمجھتے ہیں۔ البتہ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ وہ بنت شرعی نہیں ہے۔ جس طرح(یوصیکم اللہ فی اولاد کم) ’’اللہ تعالی تمہیں اولاد میں مال تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے۔‘‘اس حکم کے مطابق وہ وارث نہیں۔
اخوات : بہنیں عینی ہوں، یا اخیافی علاتی ۔
عمات : (پھوپھیاں) اس میں باپ کے سب مرکز اصول یعنی نانا دادا کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔
خالات : (خالائیں ) اس میں ماں کے سب مونث اصول یعنی نانی دادی کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔
بھتیجیاں: اس میں تینوں قسموں کے بھائیوں کی اولاد بواسطہ اور بلد واسطہ (صلبی و فرعی) شامل ہیں۔
بھانجیاں: اس میں تینوں قسم کی بہنوں کی اولاد شامل ہیں۔
محرمات رضاعیہ: رضاعی ماں جس کا دودھ تم نے مدت رضاعت یعنی دو سال کے اندر پیا ہو۔
مِن اَصلَابِكُمۡ (تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویوں) سے مراد(لفظ سمجھنے سے قاصر )بیٹوں کی بیویوں سے نکاح حرام نہیں ہے۔
دو بہنوں(رضاعی ہو یا نسبی) سے بیک وقت نکاح حرام ہے۔ البتہ ایک کی وفات کے بعد یا طلاق کی صورت میں عدت گزرنے کے بعد دوسری بہن سے نکاح جائز ہے۔ اسی طرح چار بیویوں میں سے ایک کو طلاق دینے سے پانچویں نکاح کی اجازت نہیں، جب تک طلاق یافتہ عورت عدت سے فارغ نہ ہو جائے۔
رضاعی بہن: وہ عورت جس کو تمھاری حقیقی یا رضاعی ماں نے دودھ پلایا۔ تمہارے ساتھ پلایا یا تم سے پہلے یا بعد تمہارے اور بہن بھائیوں کے ساتھ پلایا۔ یا جس عورت کی حقیقی یا رضاعی ماں نے تمہیں دودھ پلایا۔ چاہے مختلف اوقات میں پلایا۔ رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہوجائے گے جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ رضاعی ماں بننے والی عورت کی نسبی و رضاعی اولاد دودھ پینے والے بچے کے بہن بھائی، اس عورت کا شوہر اس کا باپ اور اس مرد کی بہنیں اس کی پھوپھیاں، اس عورت کی بہنیں خالائیں اور اس عورت کے جیٹھ، دیور اس کے رضاعی چاچا تایا بن جائیں گے

زمانہ جاہلیت میں سوتیلے بیٹے اپنے باپ کی بیوی (یعنی سوتیلی ماں سے) نکاح کرلیتے تھے، ان سے روکا جارہا ہےکہ یہ بہت بے حیائی کا کام ہے۔ اسلام ایسی عورت سے نکاح کو ممنوع قرار دیتا ہے، جس سے اس کے باپ نے نکاح کیا۔ یہاں تمدنی اور معاشرتی مسائل میں جاہلیت کے غلط طریقوں کو حرام قرار دیا جارہا ہے۔ جو ہوچکا سو ہو چکا، سے مراد بے علمی اور نادانی میں جو غلطیاں تم لوگ کرتے رہے ہو ،ان کی گرفت نہیں کی جائے گی۔

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

  1. Shazia

    Masha allah bohat khoob bohat sahi saaf aur aasani se samajh mae aaya magzin mae aaya hua darse quraan jazakallah hu khair

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جنوری ٢٠٢٢