الیکٹرانک ردّی (ای ویسٹ) ایک سنگین مسئلہ

الیکٹرانک ردّی یا الیکٹرانک فضلہ E-waste، اُن الیکٹرک اور الیکٹرانک اشیاء کو کہا جاتا ہے، جن کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور وہ کچرے میں پھینک دی جاتی ہیں۔ ضرورت باقی نہ رہنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ خراب ہوجانے کی وجہ سے وہ استعمال کے لائق نہیں رہتیں۔ بہت سے لوگ نئی اشیا خریدنے کے بعد پرانی اشیاء پھینک دیتے ہیں۔ اسٹور میں جو چیزیں فروخت نہیں ہوتیں اور پرانی ہوجاتی ہیں،وہ پھینک دی جاتی ہیں۔ ردّی میں پھینکے جانے والی ایسی الیکٹرک یا الیکٹرانک مصنوعات کو الیکٹرانک ردّی e-wasteکہتے ہیں۔ ان اشیا میں کمپیوٹر و لیپ ٹاپ، موبائل فون و ٹیبلیٹ، اسمارٹ گھڑیاں، ریفیریجریٹر،ایر کنڈیشنر، واشنگ مشین، مکسر، اوون، گیزر، میڈیکل آلات، فین و کولر وغیرہ سے لے کر ڈی وی ڈی، لائٹس و بلب، سوئچ بورڈ، ہارڈ ڈسک، پین ڈرائیو، بیٹری، وغیرہ جیسے پارٹ اور روز مرہ کی چیزیں شامل ہیں۔ الیکٹرانک ردّی میں صرف ناقابل استعمال اشیاء ہی نہیں ہوتیں۔ موجودہ دور میں اس ردّی کا بڑا حصہ کارگر، اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کی وجہ سے لوگ زیادہ سے زیادہ اچھی اشیاء استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ نئے فیچرز کے ساتھ کوئی فون بازار میں آتا ہے تو پرانا فون پھینک دیتے ہیں۔ پین ڈرائیو آتے ہی ڈی وی ڈی کا استعمال ترک کردیا گیا۔ اسمارٹ ٹی وی کی آمد نے پرانے ٹی وی سیٹس کو ردّی بنادیا۔ اشتہارات اور برانڈ کے پیچھے اندھی دوڑ بھی، اچھے سے اچھے برانڈ کی نئی چیزیں خریدنے کاشوق پیدا کرتی ہے۔ ان وجوہات سے دنیا میں تیزی سے الیکٹرانک ردّی بڑھ رہی ہے اور اب ایک ماحولیاتی چیلنج بن چکی ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم میں پیش کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق اس سال (2021میں) 5.7 کروڑ میٹرک ٹن الیکٹرانک ردی وجود میں آئی ہے۔ یہ کتنی زیادہ ہے، اس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ چین کی عظیم دیوار کا وزن اس سے کم ہے یا ہمارے ملک میں موجود تمام 130کروڑ افراد کا مجموعی وزن اس سے کم ہے۔ اس مقدار میں ہر سال بھاری اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2030تک دنیا میں تقریباً ساڑھے سات کروڑ میٹرک ٹن الیکٹرانک ردّی پیدا ہونے لگے گی۔ جو 2014کے مقابلے میں دو گنا ہوگی۔ یہ تخمینے موجودہ عالمی وبا سے پہلے کے ہیں۔ عالمی وبا کے دوران ٹیکنالوجی کا استعمال اچانک بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ دنیا کے ہر گھر میں الیکٹرانک آلات کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اس لیے حقیقی الیکٹرانک ردّی کتنی ہوگی؟ یہ آنے والے دنوں ہی میں واضح ہوگا۔
اس سال سب سے زیادہ الیکٹرانک ردّی، چین میں پیدا ہوئی۔ اس کے بعد امریکہ میں اور تیسرے نمبر پر ہمارے ملک ہندوستان میں پیدا ہوئی۔ ہمارے ملک میں گزشتہ سال تقریباً35لاکھ میٹرک ٹن الیکٹرانک ردّی پیدا ہوئی ہے۔
ہندوستان میں سب سے زیادہ الیکٹرانک ردّی ممبئی میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد بالترتیب دلّی، بنگلور، چینائی، کلکتہ، احمد آباد، حیدرآباد، پونہ، سورت، اور ناگپور میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ زیادہ تر شہروں سے متعلق ہے۔ ملک کے صرف65شہر، ساٹھ فیصدالیکٹرانک ردّی پیدا کرتے ہیں۔

الیکٹرانک ردی کے نقصانات

الیکٹرانک اور الیکٹرک اشیاء کا استعمال زمین کے اوپر تو محفوظ ہوتا ہے، لیکن جب یہ پھینک دی جاتی ہیں اورزمین کےاندر چلی جاتی ہیں تو بہت سے خطرات پیدا کرتی ہیں۔ ان کے اندرکئی زہریلی اشیا ہوتی ہیں جو مٹی میں شامل ہوکر ماحول کے لیے، پانی کے لیے، اور انسانوں و حیوانوں کی زندگیوں کے لیے خطرات پیدا کرتی ہیں۔ یہ اشیا ءزیر زمین پانی میں مل جاتی ہیں۔ وہاں سے ندیوں میں بھی در آتی ہیں۔ بعض ہوا میں شامل ہوجاتی ہیں۔ یورپی یونین نے خاص طور پر چھ کیمیکل کی نشان دہی کی ہے، جو نہایت زہریلی اشیاء ہیں اور ان کے استعمال کے سلسلے میں بہت سی تحدیدات Restrictions on Hazardous Substnacesلگائی ہیں۔ یہ چھ اشیاء یہ ہیں۔ سیسہ یا لیڈ، پارہ یا مرکیوری، کیڈ میم، ہیگزاویلنٹ کرومیم، Hexavalent Chromium پالی برائی نیٹیڈ بائی فینائلPBB، اور پالی برامی نیٹیڈ ڈائی فینائل ایتھرPBDE۔ایک اوسط کمپیوٹر اسکرین میں تقریباً دو سے تین کلو سیسہ ہوتا ہے۔ ایک اسٹڈی کے مطابق امریکہ میں ملبوں LANDFILLS میں جتنا سیسہ موجود ہے، اس کا چالیس فیصد صرف کمپیوٹر اسکرینوں کا ہے۔ ان اشیاء کی حامل ردّی جب زمین پر پھنک دی جاتی ہے تو وہ کئی طرح سے نقصانات پیدا کرتی ہے۔:

۱۔ ای ردی، مٹی کو متاثر کرتی ہے

سب سے پہلا اثر مٹی پر ہوتا ہے۔ جب الیکٹرانک اشیاء زمین پر پڑے پڑے یا زمین میں دفن ہوکر ٹوٹنے لگتی ہیں تو ان سے مذکورہ زہریلی دھاتیں اور دیگر کیمیائی اجزا باہر نکل آتے ہیں اور مٹی میں ملنے لگتے ہیں۔ یہ عناصر آپس میں کیمیائی تعامل کرکے اور زیادہ زہریلی اشیا بنانے لگتے ہیں۔ یہ سب مٹی میں مل کر مٹی کو زہر آلود کردیتے ہیں۔

۲۔ ای ردّی پانی کو متاثر کرتی ہے

مٹی سے یہ زہریلا مواد زیر زمین پانی میں مل جاتا ہے۔ کنووں، بورویل اور چشموں کا پانی زہر آلود ہوجاتا ہے۔ یہی پانی ندیوں، نالوں اور دیگر آبی ذخائر میں ملتا ہے۔ اس طرح سارا پانی زہر آلود ہوجاتا ہے۔ بعض کیمیائی اشیا کسی فلٹر سے بھی چھن نہیں پاتیں۔

۳۔ نباتات اور حیوانات پر اثر ڈالتی ہے

آلودہ مٹی سے اگنے والے پودے، ان میں سے بعض زہریلی اشیاء کو جذب کرلیتے ہیں۔ نتیجے میں غذائیں زہر آلود ہوجاتی ہیں۔ یہ زہر پانی اور غذا کے ذریعے جانوروں کے جسموں میں داخل ہوجاتا ہے۔ ان جانوروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ان میں سے بعض جانوروں کا گوشت انسان بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ زہر ان تک بھی منتقل ہوجاتا ہے۔

۴۔ فضا کو آلودہ کرتی ہے

بعض اشیاء کیمیائی تعاملات کی وجہ سے گیس میں بدل کر فضا میں شامل ہوجاتی ہیں۔ اکثر جگہوں پر کچروں کے ڈھیر کو آگ لگادی جاتی ہے۔ جس سے یہ زہریلا مواد جل کر بڑی مقدار میں ہائیدور کاربن اور دیگر آلودہ گیسیں خارج کرتا ہے۔ یہ گیسیں فضا کو زہر ناک بنادیتی ہیں۔ گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ کرتی ہیں، جن سے ماحولیاتی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2019میں جو ریفریجریٹر اور ایر کنڈیشنر ردّی میں پھینکے گئے، اُن سے نکلنے والی کاربن ڈائی اکسائیڈ کا تخمینہ 98میٹرک ٹن ہے۔

۵۔ قدرتی وسائل کا بحران پیدا کرتی ہے

الیکٹرانک اشیاء میں بہت سے قیمتی قدرتی وسائل استعمال ہوتے ہیں۔ جب یہ اشیاء ضائع کردی جاتی ہیں تو یہ وسائل بھی ضائع ہوجاتے ہیں۔ دس لاکھ سیل فون کی ری سائیکلنگ کی جائے تو ان سے سولہ ہزار کلو گرام تانبہ، ساڑھے تین سو کلو چاندی، 35کلو سونا، 15کلو پیلاڈیم وغیرہ حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک کمپیوٹر مانیٹر بنانے کے لیے ڈھائی سو کلو گرام ایندھن، 22کلو کیمیائی اشیا اور 1.5 ٹن پانی استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ضائع شدہ سیل فونوں اور مانیٹروں پر اتنی بڑی مقدار میں قیمتی قدرتی وسائل ہماری دسترس سے نکل جاتے ہیں۔ [جاری]

اس سال سب سے زیادہ الیکٹرانک ردّی، چین میں پیدا ہوئی۔ اس کے بعد امریکہ میں اور تیسرے نمبر پر ہمارے ملک ہندوستان میں پیدا ہوئی۔ ہمارے ملک میں گزشتہ سال تقریباً35لاکھ میٹرک ٹن الیکٹرانک ردّی پیدا ہوئی ہے۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ الیکٹرانک ردّی ممبئی میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد بالترتیب دلّی، بنگلور، چینائی، کلکتہ، احمد آباد، حیدرآباد، پونہ، سورت، اور ناگپور میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ زیادہ تر شہروں سے متعلق ہے۔ ملک کے صرف65شہر، ساٹھ فیصدالیکٹرانک ردّی پیدا کرتے ہیں۔

1 Comment

  1. سہیل بشیر کار*

    سعادت صاحب کی اہلیہ سعادت صاحب پر گیے ہیں یا سعادت صاحب ان پر، ہمیشہ منفرداور زندہ موضوع پر بہترین لکھتے ہیں

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢