زاویۂ نگاہ
کانچ کے ایک صاف و شفا ف پیالے میں اصلی شہد ہے۔ اتفاق سے اس میں ایک بال گر گیا ہے۔
1۔صدیق کے سامنے جب یہ پیالہ پیش کیا گیا اور ان سے رائے لی گئی تو فرمایا: ’’میرے نزدیک مؤمن کا دل اس پیالے کی طرح چمک دار ہے اور اس کے دل میں ایمان شہد سے زیادہ شیریں ہے ۔لیکن اس ایمان کو موت تک بہ حفاظت لے جانا، بال سے زیادہ باریک ہے ۔‘‘
2۔ وہی پیالا جب ایک عادل خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ’’حکومت اس پیالے سے زیادہ چمک دار ہے اور حکم رانی شہد سے زیادہ شیریں ہے۔ لیکن حکومت میں عدل و انصاف کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔‘‘
3۔ عالم نے اس پیالے کو دیکھا تو فرمایا: ’’میرے نزدیک علم دین اس پیالے سے زیادہ چمک دار ہے اور علم دین سیکھنا شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ لیکن اس پر عمل کرنا بال سے زیادہ باریک ہے ۔‘‘
4۔ ایک مہمان نواز نے کہا: ’’میرے نزدیک مہمان اس پیالے سے زیادہ چمک دار ہے اور اس کی مہمان نوازی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور ان کو خوش کرنا بال سے زیادہ باریک ہے ۔‘‘
5۔اسی پیالے کو دیکھ کر ایک با حیا خاتون نے فرمایا: ’’عورت کی حق میں حیا اس پیالے سے زیادہ چمک دار ہے، اس کی چہرے پر پردہ شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور غیر مرد کی اس پر نگاہ نہ پڑے، یہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے ۔‘‘
6۔جنت کے ایک طالب نے کہا: ’’یقینا جنت اس پیالے سے زیادہ خوبصورت اور چمک دار ہو گی اور جنت کی نعمتیں یقیناً اس شہد سے زیادہ شیریں ہوںگی۔ لیکن جنت تک پہنچنے کے لیے پل صراط سے گزرنا ہوگا، جو بال سے زیادہ باریک ہوگا ۔‘‘
دیکھا زاویۂ نگاہ ۔ایک ہی چیز اور تعبیر الگ الگ ۔ آدمی کو وہی کچھ نظر آتا ہے جو وہ سوچتا ہے ۔آپ نے کیا سوچا ؟ضرور بتائیے ۔

1 Comment

  1. امۃ اللہ

    السلام علیکم
    یہ ایک واقعہ ہے جو دور نبوی ﷺ میں پیش آیا ہے
    رسول اللہ ﷺ ابوبکر صدیق ۔عمر فاروق، علی، فاطمہ رضی اللہ عنہم ، خود اللہ تعالیٰ نے اس مثال پر خیال پیش کیا ہے
    اس واقعے کو اس طرح پیش کرنا مناسب نہیں ہے

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢