عدل و انصاف
زمرہ : النور

عَنْ عَبْدِالّٰلہِ بْنِ عَمْرِوبْنِالْعاَصَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ إِنَّ الْمُقْسِطِیْنَ عِنْدَاللّٰہِ عَلیٰ مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ عَنْ یَمِیْنِ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ، وَکِلْتَا یَدَیْہِ یَمِیْنٌ: اَلَّذِیْنَ یَعْدِلُوْنَ فِيْ حُکْمِھِمْ وَأَھْلِیْھِمْ، وَمَا وَلُوْا۔

(صحیح مسلم:1837)
’’حضرت عبداللہ عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: عادل و منصف خدا کے یہاں نور کے منبروں پر خدائے رحمٰن عزوجل کے دائیں جانب ہوں گے اور اس کے دونوں ہی ہاتھ اپنے ہاتھ ہے، یعنی وہ عادل و منصف جو اپنے احکام ،اپنے اہل و اپنی ولادیت و حکومت میں عدل کرتے ہیں۔ ‘‘ اس حدیث کی روٗ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان کو حضور ﷺ نے اپنی حدیث مبارکہ میں بیان فرمایا ہے کہ عدل و انصاف کرنے والے وہ لوگ جو اللہ کے یہاں بڑے مرتبہ پر فائز کیے جائے گے، وہ لوگ جو عدل کے معاملے میں ہر ایک کو یکساں نظر سے دیکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جس کا نام ’العدل‘ ہے جو کہ عدل کو پسند فرمانے والا ہے ۔
اسلام اپنے عدل و انصاف کی وجہ سے پورے ارض پر دائم و قائم ہوا ۔اسلام اپنے طریقۂ انصاف کے ذریعے کافروں کے دلوں میں اپنی جگہ پیدا کرتا ہے۔ حضرت عمر ؓ انصاف کے معاملے میں ہمارے لیے ایک نمونہ ہیں ۔ پوری اسلامی حکومت وعدل و انصاف کے معاملے میں سخت ترین ہے ۔
اسلامی قوانین کا جائزہ لینے کے بعد یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں عدل و انصاف کو بڑا اہم مقام حاصل ہے۔ اس کے قوانین چاہے معاشیات سے متعلق ہوں یا حقوق سے، اسلام ہر جگہ منصفانہ اور یکسانیت کا درس دیتا رہا ہے ۔ مثال کے طور پر ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح ہر ذی نفس کو آکسیجن درکار ہے، اسی طرح نفاذ اسلام کے لیے عدل و انصاف اہمیت کے حامل ہے ۔ کیوں کہ قیام عدل کے بغیر کوئی نظام صحیح صورت میں نشوونما نہیں پا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡابِالۡعَدۡلِ‌ (النساء: 58 )

اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو ۔
عدل و انصاف ہی وہ پیمانہ ہے، جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے۔ اگر معاشرہ عدل و انصاف سے عاری ہوجائے تو صالح معاشرے کی تشکیل ناممکن ہے ۔ عدل و انصاف ہی سے انسانی زندگی کا لطف حاصل ہوتا ہے، ورنہ اس کے بغیر معاشرہ دہشت و درندگی کا مرکز بن جاتا ہے۔ انصاف کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے، جو انسان کو دنیا و آخرت کی بلندی کی طرف لے جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ رب العزت نے جہاں اخلاقی اور معاشرتی احکام کو بیان فرمایا ہے وہیں عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے ۔
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :

اِنَّ الّلہَ یَا مٌرٌوْبِالْعَدْلِ وَالاِحْسَانَ (النحل:90)

’’اللہ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے ۔‘‘
اس آیت میں ہمارے رب نے مطلقاً عدل و انصاف کا حکم دیا ہے۔ عدل کا ایک حکم نازل فرمایا ہے کہ عدل سے یہاں مراد مطلق ہے۔ جو فرد بھی اور معاشرے کو بھی اسی میں شمار کرتی ہے ۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی خاص مقام اور کسی خاص جگہ کے لیے اور خاص انسان کے لیے ہی یہ حکم نازل فرمایا ہے، بلکہ مخصوص یہ ہے کہ انصاف ، انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں ہو ۔مثلاً بادشاہ اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کرے اور رعایا اپنے بادشاہ کے ساتھ ۔ اسی طرح آقا اپنے غلام کے ساتھ اور غلام اپنے آقا کے ساتھ، طالب علم اپنے استاذ کے ساتھ اور استاذ اپنے طالب علم کے ساتھ اور ماں باپ اپنی اولاد کے ساتھ اور اولاد اپنے والدین کے ساتھ عدل و انصاف قائم رکھیں۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَاِذَا قٌلْتٌمْ فَاعْدِلٌوا وَلَوْ کَانَ ذَا قٌرْبٰی ( الانعام:152)

’’انصاف کی بات کرو چاہے اس کی زد میں تمہارا رشتہ کیوں نہ آئے ۔‘‘
انسان جہاں کہیں بھی رہے، عدل و انصاف کا دامن نا چھوڑے ، گھر میں ہو ، عدل و انصاف پر دائم و قائم رہے، اسی طرح دکان ، دفتر ،اسکول ، کالج اور ہر وہ جگہ جہاں ہمارا سابقہ سماجی سطح پر ہو، ہمیں انصاف کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہاں تک کہ انسان جب بھی بولے انصاف کے ساتھ بولے انصاف کی آواز بن کر بولے۔ اگر کوئی فیصلہ کرو، تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

اِنَّ اللہَ یٌحِبٌّ الْمٌقْسِطِیْنِ (الحجرات:09)

’’بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔ ‘‘
اسلام میں عدل کا تصور ہمہ گیر اور آفاقی ہے اور اسی پر پورے دین کی بنیاد دائم و قائم ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں اللہ عزوجل بیان فرماتا ہے کہ انصاف کرو اور اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔
عدل کے حوالے سے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا وہ خطبہ معاشرے کے لیے مشغل راہ ہے، جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ ’’تم میں ہر کوئی میرے سامنے کم زور ہے، جب تک میں اس سے کم زور حقدار کا حق واپس نہ دلاؤں۔‘‘
عدل و انصاف کی راہ میں عموماً روکاوٹ آتی ہیں۔ عداوت اور قربت یعنی انسان کبھی کسی قوم یا کسی فرد کی عداوت اور دشمنی کی وجہ سے نا انصافی کر بیٹھتا ہے یا پھر اپنے رشتہ دار کی وجہ سے ظلم و نا انصافی کرتا ہے۔ اللہ رب العزت ارشار فرماتا ہے:’’ خبردار کسی کی دشمنی تمہیں اس کے ساتھ نا انصاف کرنے پر آمادہ نہ کرے۔‘‘
غزوۂ بدر کے موقع پر قیدیوں کے ساتھ رسول اکرمﷺ کے چچا حضرت عباس بھی گرفتار ہوئے تھے۔ قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں رہا کیا جا رہا تھا۔ فدیہ کی رقم چار ہزار درہم تھی، لیکن امیر ترین لوگوں سے فدیہ کی رقم کچھ زیادہ لی جا رہی تھی۔ چوں کہ حضرت عباس حضور ﷺ کے چچا تھے، اس لیے چند صحابہ کرام نے عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ﷺ ا اجا زت دیجیے کہ عباس کا فدیہ معاف کر دیا جائے۔‘‘
یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ ہر گز نہیں۔ بلکہ عباس سے ان کی امیری کی وجہ سے حسب قا عدہ چار ہزار درہم سے زیادہ وصول کیے جائیں۔‘‘ (صحیح بخاری)
اس واقعے سے رسول اکرم ﷺ نے اس طرف رہنمائی فرمائی کہ اسلام کی نظر میں رشتہ ناطے بعد میں، قانون پہلے ہے۔ اسلام کی نظر میں قرابت بعد میں ہے عدل و انصاف پہلے ہے۔
ہر مرحلے میں ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ ہمیں اسلامی طرز عمل کے مطابق عدل وانصاف کو ترجیح دینی چاہیے اور اسی پر قائم رہنا ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جب کسی شے کو پسند کرتا ہے تو اس میں ہمارے لیے آزمائش و مصائب بھی ہوتی ہیں تاکہ وہ جان سکے کون رحمن کے بندےہیں؟ صالح اشخاص الله کے دائیں جانب نور کے منبروں پر فائز ہوں گے ، جو انصاف کو منظم طرح سے قائم کر پائے، جس طرح کا حق ہو۔ الله رب العزت سے دعا گو ہوں کہ ہمیں بھی عدل و انصاف پر تا حیات قائم رکھے ، آمین ۔

عدل و انصاف ہی سے انسانی زندگی کا لطف حاصل ہوتا ہے، ورنہ اس کے بغیر معاشرہ دہشت و درندگی کا مرکز بن جاتا ہے۔ انصاف کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے، جو انسان کو دنیا و آخرت کی بلندی کی طرف لے جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ رب العزت نے جہاں اخلاقی اور معاشرتی احکام کو بیان فرمایا ہے وہیں عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے ۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢