شیطان کی کہانی
’’ رُک شیطان! بھاگنا نہیں ۔ابھی دو ہاتھ لگاتی ہوں۔رُک تو! شیطان کہیں کا! ‘‘
شیطان کا پر کالا رُکتا نہیں ! اس کے پیچھے بھاگ کر میری سانس پھول گئی ۔‘‘
امی صحن میں رکھی کرسی پر ڈھے گئیں اور یوسف گیٹ کھول کر جا ہی رہا تھا کہ دادی گھر کے اندر آئیں۔
’’ کیا ہوا بہو! کس کو دو ہاتھ لگانے ہیں۔باہر تک تمہاری آواز آ رہی تھی ۔‘‘
’’ امی! یہ یوسف بہت پریشان کرتا ہے۔بات سنتا نہیں پھر کیا کروں؟ ‘‘
’’ کیوں یوسف ! یہ میں کیا سن رہی ہوں ہاں! بات نہیں مانتے۔اچھے بچے ایسے ہوتے ہیں بتاؤ؟ ‘‘
’’ دادی جان! یہ امی ہمیشہ مجھے شیطان کہتی ہیں۔کیا میں شیطان سا دکھائی دیتا ہوں؟ مجھے بھی اچھا نہیں لگتا۔ اور ایک بات بتاؤں! ابو تو مجھے شیطان کا بچہ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔اب میں تو ابو کا بچہ ہوں نا۔آپ انھیں بھی تو کہیے۔‘‘
شیطان…شیطان کا بچہ! اُف! خود کے بچے کو تم دونوں اس نام سے مخاطب کرتے ہو ؟کیا یہ اچھی بات ہے؟ چلو ادھر آؤ تم دونوں، میں تمھیں شیطان کی کہانی بتاتی ہوں۔‘‘
دادی نے نقاب اتارا، لمبی گہری سانس لی اور بوتل سے پانی پینے لگیں۔
’’کیا سچ مچ ! شیطان کی کہانی! دادی میں بھی سنوں گی اور یہ اپنا چھوٹو سلیمان بھی سنے گا اور مریم بھی۔‘‘ عائشہ نے زور سے آواز لگائی:
’’ عزیر او عزیر! جلدی ادھر آؤ۔ دادی شیطان کی کہانی سنا رہی ہیں۔‘‘
دادی صحن میں بچھی دری پر بیٹھ گئیں۔
’’ہاں! ہاں ! تو سنو۔مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اللہ رب العالمین نے انسانوں کو بنانے سے پہلے جنوں کو اور ان سے پہلے فرشتوں کو بنایا ۔فرشتے ہمیشہ اللہ کی عبادت کرتے۔ جنوں و انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں بنایا۔‘‘
عائشہ درمیان میں ہی پوچھ بیٹھی: ’’ دادی! پہلے اللہ پاک نے جن بنائے یا انسان؟ ‘‘
پہلے جنوں کو بنایا گیا ۔جس طرح اللہ رب العالمین نے حضرت آدم ؑ اور بی بی حوّا کو بنایا، اسی طرح جنوں کو آگ سے بنایا اور اس کا نام ’جن‘ رکھ دیا۔جن یعنی چھپا ہوا۔ ان کے بھی انسانوں کی طرح معاملات ہوتے تھے ۔‘‘
’’دادی جان! مجھے ڈر لگ رہا ہے۔کیا یہ اس دنیا میں رہتے تھے؟‘‘ مریم نے عائشہ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی۔
’’یہ لڑکیاں تو بس کچھ سنا اور ڈرنے لگیں۔‘‘ مسکراتے ہوئے یوسف نے مریم کی چوٹی کھینچی۔
’’ بس موقعہ مل جائے اسے۔‘‘ امی نے گھور کر دیکھا۔
’’ دیکھو بیٹا! سننا ہے یا نہیں؟ شرارتیں بعد میں کر لینا۔‘‘
ہاں! تو آگے سنو! فرشتے اللہ کی عبادت کرتے ہی رہتے تھے ۔ جنوں کواللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا۔ اس وقت وہ بھی متقی،پرہیزگارتھے۔خوب عبادت کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر فرشتے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اللہ رب القدوس سے عرض کیا کہ ان میں سے بہترین جن کو آسمان پر بلائے۔اس طرح’ عزازیل‘ پہلے آسمان پر پہنچا ۔امام طبریؒ بیان کرتے ہیں کہ ’ئیل‘ ھبرو زبان کا لفظ ہے۔جس کے معنی اللہ ہے۔’ عزا‘ یعنی جسے طاقت دی گئی ہو۔اللہ تعالیٰ کی جانب سے جسے طاقت دی گئی ہو۔اب عزازیل فرشتوں کے ساتھ رہنے لگا اور اللہ کی عبادت کرنے لگا۔‘‘
دادی نے پان کی گلوری منھ میں رکھی اور بات آگے بڑھی۔اب بچے بھی ہمہ تن گوش سننے لگے۔
’’ پھر کیا ہوا دادی؟ ایسی کہانی میں نے سنی ہی نہیں ۔‘‘ عزیر بول پڑا ۔
’’ بیٹا یہ کہانی نہیں حقیقت ہے۔اچھا پھر یہ ہوا کہ دنیا میں ایک لمبے عرصے تک جن متقی رہے پھر ان میں نفاق پھیلنا شروع ہوا۔گروہ بندی شروع کر دی۔ اللہ نےان میں بھی تقریباً800 انبیاء بھیجے، پر انھوں نے قتل کرنا شروع کیا ۔اب اللہ رب العزت نے عزازیل سے خواہش کی کہ ان نا فرمان جنوں کو جا کر مقابلہ کرے۔عزازیل نے سر جھکا لیا اور وعدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ تیری خواہش میرے لیے حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ اسے زمین پر واپس بھیجا ۔اب سارےفاسق جن مارے گئے اور متقی رہ گئے ۔‘‘
’’ اچھا دادی! فاسق جنوں سے لڑائی یعنی خوب ڈِشوم….ڈِ شوم۔ ‘‘
یوسف سے رہا نہ گیا اور بول پڑا۔
’’ درمیان میں کچھ نہ کچھ کہنا ضروری ہوتا ہے ۔‘‘ امی نے ڈانٹا۔
’’ ہاں! تو اب اللہ رب العزت نے عزازیل کو اس کامیابی سے خوش ہو کر پہلے آسمان سے ساتویں آسمان تک جانے کی اجازت دے دی۔بڑا کام کیا تھا نا۔امام حسن البصریؒ کہتے ہیں کہ اس نے وہاں ستر سال سے زائد عبادت کی اور اپنا درجہ بڑھاتا رہا۔ اب اس نے جنت کے دروازے کا نگہبان بننے کی خواہش ظاہر کی اور اس کی یہ خواہش بھی پوری ہوئی ۔ہزار سال سے زیادہ وہ یہاں عبادت کرتا رہا۔تم سب سن تو رہے ہو نا ! ‘‘
’’ دادی! میں غور سے سن رہی ہوں اور یاد بھی رکھوں گی۔‘‘ مریم نے حامی بھری۔
’’ بیٹا! بہت خوب! دوسروں کو بھی سنانا۔ہاں! تو ایک دن اس کی نظر دروازے کے اوپری جانب پڑی،جہاں لکھا تھا : تم میں سے جو سب سے بہترین ہوگا، وہ اس دروازے سے داخل ہوگا اور جو نافرمان ہوگا اس پر اللہ کی لعنت ہوگی۔‘‘
اب وہ سوچنے لگا کہ کوئی کس طرح اللہ کا نافرمان ہو سکتا ہے؟ کیسے اپنے خالق کی حکم عدولی کر سکتا ہے؟ اب اس نے اللہ پاک سے اجازت چاہی کہ وہ بھی اللہ کے نافرمانوں کے لیے لعنت بھیجے۔پھر کئی سال وہ اللہ کی عبادت کرتا رہا اور نافرمانوں پر لعنت بھی بھیجتا رہا۔‘‘
’’ دادی! اتنی ساری عبادت! ہزاروں سال کی عبادت!لیکن آپ نے ابھی تک حضرت آدم ؑ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔‘‘ عائشہ نے پلیٹ میں رکھے آلو چپس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
’’ہاں ہاں!وہ بھی بتاؤں گی اور یہ چپکے چپکے کتنے چپس کھا چکی ہو؟ ‘‘
’’ ہاں! تو اس دوران مالکِ کون ومکاں نے حضرت آدم ؑ کو کھنکھناتی مٹی، گارے سے بنایا اور کچھ وقت کے لیے ایک غار میں رکھ لیا۔فرشتوں نے اس نئی ہستی کو دیکھا تو خوف محسوس کیا اور اس کے قریب نہ آئے۔ لیکن عزازیل اس کے پاس گیا۔گھوم پھر کر دیکھا۔سوچا کہ یہ نہ تو فرشتوں جیسا ہے، نہ جنوں سی مخلوق اور اس میں تو سوراخ بھی ہیں۔پھر وہ ان سوراخوں یعنی ناک، آنکھ، کان اورمنھ وغیرہ سے اس میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ یہ تو بہت کم زور سی چیز ہے۔وہ یہ بھی جان گیا کہ یہ سوراخ اس کی کم زوری ہوں گے۔‘‘
پھر ایک دن اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو اس ہستی کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، لیکن یہ یاد رہے کہ یہ سجدۂ عبادت نہ تھا، بلکہ سجدۂ تعظیمی تھا۔اللہ رب العزت کے حکم کو ماننا تھا۔ عزازیل کو اپنے وجود پر اپنی طاقت پر غرور آ گیا ۔اس نے انسان کو کمزور سمجھا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے انحراف کر بیٹھا اور اپنے معبود کے عتاب کا شکار ہوا۔اللہ تعالیٰ اس سے بے حد ناراض ہو گیا اور اس طرح وہ عزازیل سے’ ابلیس ‘ بن گیا ۔ابلیس یعنی ’مایوس ‘ بن گیا۔اس نے اللہ سے وعدہ کیا کہ جس کے لیے وہ عتاب کا شکار ہوا ہے، اسے وہ اپنے جال میں پھنسائے گا۔اللہ نے بھی اسے مہلت دے دی اور کہا کہ اس کے نیک بندے کبھی بھی اس کا شکار نہ ہوں گے اور کبھی ان سے غلطی ہو بھی جائے گی اور وہ اپنے گناہوں، کوتاہیوں کی معافی مانگیں گے۔تب اللہ انھیں معاف کر دے گا ۔ اس طرح ابلیس شیطان بنا کر زمین پر پھینک دیا گیا۔
مریم یک لخت بول پڑی: ’’ اللہ تعالیٰ کی اتنی عبادت کی، لیکن صرف ایک سجدہ نہ کیا۔اس نے صرف ایک حکم نہ مانا اور اپنی عزت گنوا بیٹھا! دادی! ہم تو دن میں کتنی بار حکم نہیں مانتے۔کیا ہوگا ہمارا؟ ‘‘
’’دادی! اب سے ہم اللہ کا ہر حکم مانیں گے۔ان شاء الله ۔‘‘ عزیر نے سر جھکا دیا۔
’’ اچھا! ایک بات اور وہ یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑمیں سر سے روح پھوں کی، تب روح ناک تک آئی اور حضرت آدم ؑ کو سرسراہٹ کا احساس ہوا ۔ساتھ چھینک آئی اور ان کے منھ سے ’’الحمد لله ‘‘ نکلا۔پھر اللہ پاک نے دنیا کی سبھی چیزوں کے نام انھیں سکھائے۔سورۂ البقرۃ کی آیات 31 تا 33 میں یہی قصہ درج ہے۔‘‘
دیکھو! یوسف کو نیندآنے لگی۔ چلو اب اللہ کا نام لے کر سو جاؤ اور اس قصے کو یاد رکھنا۔‘‘
’’ ہاں دادی! یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ چھینک آنے پر ’’ الحمد لله‘‘ کہنا ہے، ورنہ یہ یوسف تو اتنا بڑا منھ کھول کر چھینکتا ہے۔‘‘
’’ چلو! لحاف صحیح سے اوڑھو اور سو جاؤ۔‘‘
’’اور ہاں دلہن بیگم! اب سے بچوں کو شیطان نہیں کہنا۔ کبھی کا وقت کیسا کبھی کا کیسا! اللہ نہ کرے کہ کبھی یہ لفظ ان کی زندگی میں آئے۔تم بھی اب آرام کرو۔‘‘
دادی نے پان کی گلوری منھ میں رکھی اور بات آگے بڑھی۔اب بچے بھی ہمہ تن گوش سننے لگے۔
’’ پھر کیا ہوا دادی؟ ایسی کہانی میں نے سنی ہی نہیں ۔‘‘ عزیر بول پڑا ۔
’’ بیٹا یہ کہانی نہیں حقیقت ہے۔اچھا پھر یہ ہوا کہ دنیا میں ایک لمبے عرصے تک جن متقی رہے پھر ان میں نفاق پھیلنا شروع ہوا۔گروہ بندی شروع کر دی۔ اللہ نےان میں بھی تقریباً800 انبیاء بھیجے، پر انھوں نے قتل کرنا شروع کیا ۔اب اللہ رب العزت نے عزازیل سے خواہش کی کہ ان نا فرمان جنوں کو جا کر مقابلہ کرے۔

1 Comment

  1. اشہد شیرازی

    بہترین تربیتی کہانی

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢