اُستادِمحترم مولانا محمد یوسف اصلاحیؒ
21 دسمبر2021 ،بروز منگل کے دن کا آغاز نمازِ فجر کی ادائیگی کے ساتھ محترم چچا میاں (جامعہ میں استاذ کو چچا میاں کہا جاتا ہے ) کی رحلت کی خبر سے ہوا ۔ ایک بار پھر یتیمی کے احساس سے آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔آنکھوں سے جھلکتے ہوئے آنسوؤں اور محبت و عقیدت سے سر شار قلبِ مضطرب کو سنبھالتے ہوئے عزیز چچا میاں کے بابت کچھ تحریر کرنے کے لیے قلم اٹھایا۔ قلم تو اٹھالیا پر نہ موئے قلم ساتھ دے رہا تھا، نہ قلب و ذہن۔تادیر سوچتی رہ گئی کیا لکھوں؟کیسے لکھوں ؟
میں تھی اور دشتِ غم کا سناٹا
کوئی آواز دور دور نہیں
مولانا موصوف 1932 میں ایک جید عالم ،شیخ الحدیث مولانا عبدالقیوم خان کے یہاں پشاور کے ضلع اٹک میں قصبہ پرملی (موجودہ پاکستان ) میں پیدا ہوئے۔کم سنی میں ہی والدین کے ہمراہ شمالی ہندوستان کے ایک شہر بریلی میں آباد ہو گئے۔اس طرح ایک نایاب ہیرا ہندوستان کے حصہ میں آیا۔
قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد اپنے والد کی سرپرستی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر اسلامیہ کالج بریلی سے ہائی اسکول کیا ۔چوں کہ ایک عالم دین کے چشم و چراغ تھے اور دین سے رغبت اور مذہب سے لگاؤ آپ کے خمیر میں تھا، لہٰذا حق کی راہ اختیار کی۔سہارن پور کے ایک مشہور مدرسہ ’’مدرسہ مظاہر العلوم‘‘ میں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ پھر ہندوستان کی ایک معیاری درس گاہ ’’مدرسہ الاصلاح ‘‘ اعظم گڑھ پہنچے۔ جہاں مولانا اختر احسن اصلاحی کے تلامذہ میں بڑی امتیازی حیثیت سے فارغ التحصیل ہوئے۔
درس وتدریس کا جذبہ موجود تو تھا ہی، چنانچہ معاش کا ذریعہ یہی شوق و شغف ثابت ہوا۔ رام پور تشریف لائے اور یہاں جماعت اسلامی ہند کی مرکزی درس گاہ میں تدریسی فرائض کی خدمت انجام دینے لگے۔تدریسی خدمت کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ تفسیرِ یس ; ٓ ،
تفسیر سورۂ الصف ، گلدستۂ حدیث ، تفہیم الحدیث ، قرآنی تعلیمات، آسان فقہ،اسلامی معاشرہ،حسنِ معاشرت،شعورِ حیات، داعی اعظم، روشن ستارے، کے علاوہ ستر کتابوں کے مصنف تھے۔چچا میاں کی اہم ترین تصنیف ’’آداب زندگی‘‘ کو مانا جاتا ہے ۔دنیا کی بیش تر علاقائی قومی اور بین الاقوامی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔واقعتاً یہ کتاب قابلِ قدر ہے کہ بار بار پڑھا جائے اور حرزِ جاں بناکر رکھا جائے۔
محترم استاذ نے 1972 میں ماہنامہ ذکریٰ کا اجرا کیا ۔ جو آج تک جاری ہے۔ متعدد دینی و تعلیمی اور فلاحی اداروں کو چچا میاں کی سرپرستی و رہنمائی کا شرف حاصل ہے ۔جن میں جماعت اسلامی ہند کے مرکزی درس گاہ کا نام نمایاں ہے۔ابتدائے شباب سے ہی جماعتِ اسلامی ہند کے رکن منتخب ہوئے۔کئی سالوں سے مجلسِ شوریٰ میں بھی ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔
چچا میاں اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے۔ بین الاقوامی سطح پر کانفرنس اور سیمینار میں مدعو کیے جاتے تھے۔بہترین داعی حق و دین کی حیثیت سے یورپ و امریکہ میں ایک منفرد و ممتاز مقام رکھتے تھے۔
1980 میں پہلا امریکی سفر تھا۔وہاں پر اپنی صلاحیتوں کا ایسا سکہ جمایا کہ تشنگانِ علم کے بڑے بڑے حلقے چچا میاں کے گرویدہ ہوگئے۔ محبت و التفات کا عالم یہ تھا کہ وہاں کے باشندے ہمہ وقت اپنے پاس رکھنے اور استفادہ کرنے کے آرزو مند رہتے، لیکن چچا میاں کے حکمت یہ تھی کہ سال کا نصف حصہ بیرونِ ملک تو نصف حصہ وطنِ عزیز میں، جہاں ذمہ داریاں آپ کی منتظر رہتیں۔جس میں ’’جامعہ الصالحات ‘‘ کی ذمہ داری سرِ فہرست اور قابلِ ترجیح تھی۔
رامپور کے ایک معزز صدیقی خاندان میں ’’جناب توسل حسین صاحب مرحوم‘‘ کی بڑی بیٹی سے شادی ہوئی۔ میں ماہِ مئی کے اوائل میں درجۂ ہفتم(7) کا تعلیمی سال ختم کرکے تعطیلاتِ گرما گزارنے کے لیے اپنے گھر آچکی تھی۔ دورانِ چھٹیاں سابق ناظمِ جامعہ ’’جناب توسل حسین صاحب ‘‘ کی رحلت کی خبر موصول ہوئی۔یہاں قدرے توقف کے یہ بتاتی چلوں کہ جناب توسل حسین صاحب نے اپنی وفات سے قبل ہی محترم یوسف اصلاحی صاحب کے اوصاف اور بہترین صلاحیتوں کے بناء پر جامعہ کا نظم و نسق چچا میاں کے حوالے کردیا تھا۔
بہر کیف جیسے ہی میں اپنی بہنوں کے ساتھ جامعہ میں داخل ہوئی۔ یکلخت چاہے، وہ اسکول کی عمارت ہو یا بورڈنگ تبدیل ہوچکا تھا ۔ عمارت اور بورڈنگ کے اصول میں جدید و جیّد بدلاؤ کو دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ مزید ساتھیوں نے چچا میاں کی خوبیوں اور اوصاف کے ساتھ بتایا کہ اب ناظمِ اعلٰی محمد یوسف اصلاحی صاحب ہیں۔
جہاں آپ بہترین مصنف تھے، وہیں اعلیٰ درجے کے مقرر و خطیب بھی تھے۔لہجہ اُتار چڑھاؤ سے عاری، چیخ و پکار سے پاک و صاف ، شروع سے آخر تک آواز کی ایک ہی پِچ ،بڑے سہل الفاظ،شیری لہجہ ،مُشفقانہ و مربّیانہ انداز سنتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ الفاظ چچا میاں کی زبان سے نکلتے ہوتے ہی سیدھے دل و دماغ بلکہ روح میں اُترتے چلے جارہے ہو ۔ چچا میاں نسلاً پٹھان تھے۔کہا جاتا ہے کہ پٹھان نسل میں انا ، خودداری بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے، لیکن چچا میاں میں اقبال کی خودی موجود تھی۔
خودی کے ساز میں ہے عمرِ جاوداں کا سراغ
خودی کے سوز سے روشن ہیں امتوں کے چراغ
ہمیشہ سے آپ کی بغیر روغن و تیل و مسالوں کے سادہ اور مختصر غذا رہی۔ہر چیز شوق و ذوق کے ساتھ وقت پر تناول فرماتے۔ لیکن لوکی اور تُرائی پسندیدہ سبزی تھی۔سفرو حضر ،لیل و نہار تا دمِ آخر کتاب و قلم سے رشتہ مضبوط و مستحکم رہا۔قلم سے حد درجہ محبت و الفت تھی کہ ہر ملنے والوں کو قلم ہی تحفتاً دیا کرتے ۔
گھر کے ہر فرد کا خیال رکھتے ۔خصوصا چھوٹے بچوں پر نظرِ تربیت و پرداخت و التفات زیادہ رہتی۔گھر کا ہر فرد اپنی جگہ یہی سوچ کر شاداں و فرحاں رہتا کہ ابو یا دادا مجھے ہی سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔روزانہ فجر کے بعد اپنے تمام بچوں کو بذریعۂ فون رابطہ کرکے بات کرنا، آپ کی زندگی کے اہم معمولات میں شامل تھا۔
ہر سال کی طرح چچا میاں نے ہماری فاضلہ دوم کی الوداعی پارٹی میں بنفسِ نفیس شرکت کی۔ ہم تمام طالبات کے روبرو قرآن کا درس دیا۔بطورِ ذادِ راہ ثمین و گراں بہا نصیحت و ہدایت فرمائی کہ ’’آپ کا نمبروں والا امتحان ختم ہوگیا۔ اب کل سے اصل امتحانِ زندگی کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس میدان عمل میں آپ کو کامیاب و ظفر یاب ہونا ہے۔‘‘ اپنے دستِ مبارک سے یہ کہتے ہوئے ایک قلم اور چابی کیس پیش کیا کہ ’’ہم نے آپ کو سات سمندر پار بھی یاد رکھا ۔‘‘
جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد مجھے الحمد للہ تین چار مرتبہ چچا میاں سے اثنائے دوریہ ٔ بنگلور ملاقات کا موقعہ ملا ۔ تقریباً چار سال قبل کوینس روڈ بفٹ کی عمارت میں چچا میاں کی آمد پر ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔پروگرام کے اختتام پر چچا میاں سے ہماری ملاقات ہوئی۔ چچا میاں نے ہماری طرف پر اُمید و یقین کے ساتھ دیکھ کر کہا کہ ’’قیامت کے دن جب اللہ کے حضور حساب کتاب کے لیے مجھے پیش کیا جائےگا تو میں نجات کے لیے جامعہ کی ان بچیوں کو پیش کردوں گا۔‘‘
جس نہج پر چچا میاں نے چمنِ جامعہ کی آبیاری کی اور ہر گوشوں کو مزید آرائش و جمال سے مزین کیا ہے،وہ قابلِ تعریف و ستائش ہے۔مزید جدید وسیع و عریض عمارتوں کی تعمیر، تعلیمی شعبوں کی ترقی اور بہت سے نئے علمی شعبوں کا قیام نظامِ بورڈنگ میں بہترین تبدیلی خصوصاً بہترین سے بہترین موسم و صحت کے مطابق غذاوں کا انتظام، جس سے طالبات پرسکون ماحول میں علم حاصل کرسکیں۔
چچا میاں قدیم صالح اور جدید نافع کو دوش بدوش رکھنے کے قائل تھے۔روزِ اول سے ہی چچا میاں کی یہی سعی و جہد رہی کہ طالبات فارغ ہونے کے بعد فی بین الناس اجنبی بن کر نہ رہیں۔نئی سوچ پیدا کرنے اور نئی راہیں تلاش کرنے کی جستجو و لگن پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کیا کرتے۔یہی وجہ ہے کار ڈرائیوِنگ اور علم طب کے شعبہ کی افتتاح کی تادم آخر حتی الامکان کوشش کی۔جسے (طالبات کے تحفظ کے بنا و حکومتی رکاوٹ کی وجہ ) عملی جامہ پہنا نہ سکیں۔
جامعہ کی طالبات کے لیے ہمیشہ سے پِدرانہ، مشفقانہ ،مخلصانہ جذبات رکھتے تھے۔آغازِ لاک ڈاؤن کچھ طالبات بورڈنگ میں رہ گیں تھیں۔جس کا قلق ہمہ وقت رہتا۔ایک مرتبہ گھر میں کھانے کے لیے بلانے پر کہنے لگے :’’بچیاں اپنے گھر جا نہیں پائیں اور آپ کہہ رہی ہیں میں کھا نا کھالوں؟ میں کیسے سکون سے کھا نا کھا سکتا ہوں۔‘‘
خوش نما ،خوش نظر ،خوبصورت عمارت کی خوبصورتی اور عمارت کا بوجھ یا اس کو قائم و دائم رہنے کے لیے صرف اور صرف عمارت کی در و دیوار ہی وجہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ سنگ بنیاد وجہ ہوتے ہیں،جو دیکھنے والوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوکر خوش اسلوبی سے عمارت کو سنبھالتے ہیں۔
اسی طرح محترم محمد یوسف اصلاحی چچا میاں کا ذکر ہو،جامعہ کا نہ ہو یہ نہیں ہوسکتا۔جب جامعہ کا ذکر ہو تو بانیانِ جامعہ کا ذکرِ خیر نہ ہو تو مضمون کے ساتھ انصاف نہ ہوگا۔محترم ابو سلیم محمد عبدالحیّ و توسل حسین صاب مرحوم و مغفور سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔جنھوں نے اپنے لمحاتِ زندگی جس خلوص و محبت و تڑپ و خیر خواہی کے ساتھ طالباتِ جامعہ پر سرف کی۔اس کی مثال بے نظیر ہے۔جو اپنی دعائے نیم شبی میں ہم طالبات کے بہتر مستقبل کے لے اللہ کے حضور گِڑ گِڑا کر دعایں کیں۔ جس پر محترم محمد یوسف اصلاحی صاحب بھی زندگی بھی کاربند رہے۔والدین نے جو ہمارے اندر ایمان کا بیج بویا تھا،ان بزرگوں نے اُس بیج کی حفاظت و پرداخت و غذا کا ساماں پیدا کیا۔گندے و غلط ہوا سے بچایا۔ایک پھلتا پھولتا تناور درخت بننے میں بھر پور مدد ہی نہیں کی، بلکہ خود صعوبتیں برداشت کرکے تیز دھوپ میں ہمارے سائباں بن گئے۔ ان بزرگوں کے خلوص و محنت نے بے شمار لڑکیوں کو خاک سے اُٹھا کر کیمیا بنا دیا۔ ان بزرگوں کے کارنامے کبھی ختم نہ ہوں گے، نہ ہم ان کے احسان کا بدلہ ادا کرسکتے ہیں ۔بس اخیر میں یہی دعا ہے کہ کوئی ایسا کام اللہ ہم سے بھی لے جو ہمارے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہے، آمین۔
یہ کچھ باتیں اور کچھ یادیں تھیں ۔جو میں نے پورے خلوص کے ساتھ سپردِ قلم کرنے کی ادنیٰ سی کوشش کی ہے ۔لکھتے وقت بھی میرا قلم کانپ رہا ہے اور میرے آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ اللہ سے قوی اُمید کے ساتھ میں اپنے آنسوؤں کو پونچھتی جارہی ہوں کہ محسنوں کا تذکرہ میرے لے ثوابِ دارین کا ذریعہ ہو۔
یا اللہ ! بانیانِ جامعہ اور محترم محمد یوسف اصلاحی صاحب اور تمام مرحومین کے اعمالِ صالحہ کو قبول فرما کر اضا فاً مّضاعفہ اجر عطا فرما۔لغزشوں کو اپنی رحمت سے معاف فرما۔مراتب کو بلند اور جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرما ۔آمین یا ارحم الراحمین۔
جہاں آپ بہترین مصنف تھے، وہیں اعلیٰ درجے کے مقرر و خطیب بھی تھے۔لہجہ اُتار چڑھاؤ سے عاری، چیخ و پکار سے پاک و صاف ، شروع سے آخر تک آواز کی ایک ہی پِچ ،بڑے سہل الفاظ،شیری لہجہ ،مُشفقانہ و مربّیانہ انداز سنتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ الفاظ چچا میاں کی زبان سے نکلتے ہوتے ہی سیدھے دل و دماغ بلکہ روح میں اُترتے چلے جارہے ہو ۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢