مسلم خواتین کے ساتھ طوفان بدتمیزی بلی بائی یاسلی ڈیلز۔ آخر ہم کیا کریں ؟
ملکی منظر نامہ :
پوری دنیا میں نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی اس کے استقبال کی تیاریاں جاری تھیں۔ ہندوستان میں مسلم خواتین کے لیے خصوصاً وہ خواتین جو سماج میں ایک حیثیت رکھتی ہیں، خواہ وہ میڈیا سے وابستہ ہوں یا اپنے سماجی و ثقافتی اور علمی و ادبی کاموں کے حوالے سے جانی جاتی ہوں، یہ خبر بجلی بن کر گری کہ ہماری ایسی بہت سی بہنوں کو دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شرپسندوں نے نیلامی کی مکروہ کوشش کی۔ یہ کوشش ایک ایپ کے ذریعے ہوئی، جس میں بلی بائی کے نام سے ایپ بنا کر ان کی عزت کو تار تار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کربناک تجربے کے بعد متعدد خواتین نے اپنے اکاؤنٹس بند کر دیے۔ پورے ملک میں ایک ہنگامہ بپا ہوگیا، ہر جگہ سے آوازیں اٹھیں ، پولس حرکت میں آئی، کئی لوگوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں ، سوشل میڈیا پر ہنگامہ چلا، لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔ ملک میں جو حالات بن رہے ہیں اس میں اس کا امکان بھی کم ہی نظر آتا ہے۔
یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں سے نفرت اور انتہاپسندی کے واقعات میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسی حرکتوں کو انجام دینے والوں کے حوصلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال آن لائن ایپ بلی بائی پر نیلامی کے لیے پیش کی گئی 100 مسلم خواتین ہیں، جس پر مسلم خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے انھیں’آن لائن نیلامی‘کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں بلی بائی، سلی ڈیلز، مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے کے عوض بھاری انعام کا اعلان، دھرم سنسد جیسے واقعات کی ایک طویل فہرست ہے، جس میں مسلمانوں، دلتوں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کو مسلسل نشانہ بنایاجارہا ہے اور ان کے تعلق سے اکثریتی سماج میں غلط فہمیاں پیدا کی جار ہی ہیں۔ اس سلسلے میں ہندوستانی میڈیا اپنی ذمہ داری نبھانے اور حقیقت پر مبنی خبروں کو دکھانے کے بجائے اسلاموفوبیا کو فروغ د ے رہاہے اور لگاتار جھوٹ پھیلا رہا ہے۔ سول سوسائٹی بھی خاموش ہے۔ حقوق انسانی کے کارکنا ن بھی پہلے کی طرح فعال نہیں ہیں۔ اتنے بڑے بڑے واقعات رونما ہوجانے کے باوجود ایسا لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔
ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس پر لوگ الگ الگ انداز میں گفتگو کر رہے ہیں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان میں باہم نفرت کی فضا بنانے کا ایک ماحول سا بن گیا ہے۔ نفرت کے اس بازار کو گرم رکھنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ پہلے تو مجموعی طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا، لیکن اب الگ الگ گروہ اور فرقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس میں مسلم مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی ہٹ لسٹ میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ان کا مذہب تبدیل کراکر ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی سلی ڈیلز اور بلی بائی جیسی ایپلی کیشنز بنا کر انھیں ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ درحقیقت یہ یہ ریاست کی دانستہ بے عملی ہے، جس کے نتیجے میں سلی ڈیلزیا بلی بائی جیسے ایپ بنا کر کام کرنے والوں کی جرات بڑھ گئی ہے اور وہ چہرہ بدل بدل کر الگ الگ ناموں سے آ رہے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے فسادات اور لنچنگ میں ان کا نام آتا ہے۔
اس سلسلے میں چوں کہ حکومت اور ہماری جانب سے بھی کوئی کاروائی نہیں ہوتی اس لیے انھیں اور کھیل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے اور چوں کہ ادھر گزشتہ تین چار سال کے عرصے میں مسلم خواتین نے ہمت دکھائی ہے۔ بعض میدانوں میں انھوں نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔تعلیم کے میدان میں وہ آگے بڑھی ہیں۔ میڈیا میں بے باکانہ انداز انھوں نے دکھایا ہے۔ سوشل ایکٹیوزم میں بھی خواتین نے حاضری درج کرائی ہے۔ اگرچہ ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ ہر میدان میں دو ہندسوں تک بھی نہیں پہنچتی، لیکن وہ طاقتیں جو زبان بند کرنے میں مہارت رکھتی ہیں، انھیں یہ خوف ستانے لگاہے کہ اگر مسلم خواتین اسی طرح آگے بڑھتی رہیں اور انھیں نہ روکا گیا تو مسلم قوم بیدار ہوجائے گی۔ شاہین باغ کے نام سے پورے ملک میں جو احتجاج ہوئے، اس نے مسلم خواتین میں سیاسی بصیرت بھی پیدا کی اور ہمت اور حوصلہ بھی پیدا کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاج میں تعلیم یافتہ لڑکیوں نے جو ہمت دکھائی، اس نے باطل کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیا۔ اس لیے باطل اب اوچھی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔
اس بابت بلی بائی ایپ ہو یا ایک سال قبل سلی بائی ایپ ہو، یا سوشل میڈیا پر اس طرح کی حرکتیں، یہ کام اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہی کرسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ کہاں جارہا ہے۔پرانے زمانے میں غریب اور ان پڑھ لوگ جرائم کرتے تھے، لیکن نئے زمانے میں اعلیٰ دماغ اور مال دار لوگ جرائم کرتے ہیں۔ خواہ وہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہو یا لوگوں کے اکاو ٔنٹ ہیک کرکے ان کا غلط استعمال ہو۔ پرانے زمانے میں کوئی مجرم ایک یا چند افراد کو ہی نقصان پہنچا سکتا تھا۔لیکن نئے زمانے میں پورے پورے ملک اور قوم متأثر ہوجاتی ہے۔بلی بائی ایپ کا یہ گھنائونا عمل کسی مہذب معاشرے سے میل نہیں کھاتا۔ایک وہ بھی زمانہ تھا جب خواتین کا احترام ان کا مذہب دیکھ کر نہیں بلکہ ان کی جنس دیکھ کر ہوتا تھا۔گائوں کی بہن بیٹی سب کی بہن بیٹی ہوتی تھی اور اب بیٹیاں اور بہنیں بھی مذہب میں تقسیم ہوگئیں ہیں۔ اس لیے کہ اس وقت ملک پر جو لوگ حکمرانی کررہے ہیں ان کانظریہ ہی نفرت پر مبنی ہے۔ان کے یہاںکھلے عام ہندو لڑکوں کو اکسایا جاتا ہے کہ مسلمان لڑکیوں کو بھگاکر شادی کریں۔ان لڑکوں کو انعامات دینے کی بات کی جاتی ہے۔دھرم کے نام پر ایک خاص مذہب والوں کو قتل کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ صاف صاف کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کو محفوظ رکھنا ہے تو مسلمانوں کو مارنا ہوگا۔بلی بائی ایپ پر مسلم خواتین کی تصاویر کی نمائش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ایسے میں مسلم سماج اور خواتین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بیدار ہوں اور اس طرح کے معاملات ان کے ساتھ پیش نا آئیں، اس کے لیے محتاط رویہ اختیار کریں۔ کیوں کہ ان ایپلی کیشنز کے علاوہ بھی اکثر ایسے کئی واقعات دیکھنے میں آتے رہے ہیں، جن میں لڑکیوں کو سوشل سائٹس کے ذریعے اپنی دوستی کے جال میں پھنسایا گیا۔ پہلے انہیں اعتماد میں لیا گیا، پھر دوستی اور اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے ملاقات کا منصوبہ بنایا گیا اور پھر انہیں اپنی ہوس نشانہ بنایا گیا۔ آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ آپ کے یہاں کتنے برے لوگ ہوسکتے ہیں۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ آپ کی سخاوت سے فراہم کردہ تفصیلات کا کتنا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔ انٹرنیٹ پر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس دوست بنانے، اپنی آراء بانٹنے اور لوگوں کی رائے حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ جتنا آپ کی ضرورت ہے، ان کا استعمال کریں۔ ایپ پر جن خواتین کو ہراساں کیا گیا اور جن کی تصاویر پر لوگوں نے کمنٹس کیے وہ عام خواتین نہیں تھیں، بلکہ پڑھی لکھی اور سماجی طور پر متحرک خواتین تھیں۔ ان میں ڈاکٹر اور صحافی بھی شامل تھے۔
بلاشبہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور انٹرنیٹ کے بغیر زندگی گزارنا اب ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ کیوں کہ یہ سہولت اور معلومات کا بہت بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ چاہے کچھ سیکھنا ہو، پڑھنا ہو، پڑھانا ہو، خریداری ہو، سب کچھ آن لائن ہو رہا ہے۔ انٹرنیٹ آپ کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرتا ہے، لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ آپ جو ذاتی معلومات یہاں فراہم کریں گے وہ محفوظ رہے گی۔ میں یہاں پر اپنی بہنوں سے بھی کہنا چاہوں گی کہ وہ خاص طور پر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس جیسے فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام وغیرہ میں تصاویر وغیرہ پوسٹ کرنے سے گریز کریں۔ کیوں کہ بلی بائی اور سلی ڈیلز جیسے حادثات نے اس چیز کو ثابت کر دیا ہے کہ سوشل میڈیا کے اس مکر جال کو محفوظ سمجھنا اور ان پر اپنی ذاتی معلومات شیئر کرنا دانش مندی کی علامت نہیں ہے۔
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ہماری بہنیں بغیر کچھ سوچے سمجھے اپنی تمام تفصیلات اپنے پروفائل پر تصویر کے ساتھ پوسٹ کردیتے ہیں۔ یہی نہیں، وہ ہر طرح کی تفصیلات سوشل میڈیا میں شیئر بھی کر رہے ہیں۔ کہاں جانا ہے؟ کس کے ساتھ جانا ہے؟ کہاں ٹھہرنے کا ارادہ ہے؟ واپسی کب تک ہے؟ کون کون سے کافی شاپ یا ریسٹورنٹ میں ٹھہرنا ہے؟ وغیرہ۔ یعنی لمحہ بہ لمحہ تفصیلات بلا سوچے سمجھے ڈالے جا رہی ہیں۔ کچن میں چائے بناتے ہوئے، کسی جگہ شادی پر گپ شپ کرتے ہوئے، مال میں شاپنگ کرتے ہوئے۔فرینڈ لسٹ میں کون بھائی ہے؟ کون بہن ہے؟ کس کو کزن ہونے کا شرف حاصل ہے؟ ہر قسم کی تفصیلات آنکھ بند کرکے ڈالتے جا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اتنی ساری تفصیلات بلا ضرورت شیئر کرنا حماقت ہے۔ خاص طور پر نوجوان اور ذہنی طور پر معذور لڑکیاں، جنہیں اندازہ ہی نہیں کہ ان تفصیلات کا کتنا غلط استعمال اور فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
بلاشبہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور انٹرنیٹ کے بغیر زندگی گزارنا اب ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ کیوں کہ یہ سہولت اور معلومات کا بہت بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ چاہے کچھ سیکھنا ہو، پڑھنا ہو، پڑھانا ہو، خریداری ہو، سب کچھ آن لائن ہو رہا ہے۔ انٹرنیٹ آپ کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرتا ہے، لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ آپ جو ذاتی معلومات یہاں فراہم کریں گے وہ محفوظ رہے

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢