تیرا رب تیرے ساتھ ہے
’’عایزہ تجھے دیکھنے کے لیے لڑکے والے آ رہے ہیں۔ جلدی سے تیار ہو جا۔‘‘
’’ٹھیک ہے اّمی…!‘‘
’’سن ذرا۔ وہ گلابی والا نیا جوڑا پہننا اور بھابی سے اچھے سے میک اپ کرا لینا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘
’’تجھ سے کتنا کہتے ہیں کہ ہفتے میں پارلر کے ایک دو چکر لگا لیا کر، تاکہ شکل اچھی لگے۔‘‘
’’امّی آپ ہی تو پہلے منع کرتی تھیں کہ فالتو میں پارلر وارلر کے چّکر میں پیسا مت اُڑایا کر۔‘‘
’’ہاں تو اب عمر بڑھنے لگی ہے۔ لڑکے والے رجیکٹ کر کے چلے جاتے ہیں۔‘‘
’’لڑکے والے پسند نہیں کرتے تو اس کا مطلب میں اچھی نہیں ہوں؟ ‘‘
’’ارے بیٹا! اب لڑکے والے پسند نہیں کرتے تو اس کا یہی مطلب ہوا نا؟ اچھا اب تو یہ سب بکواس چھوڑ اور جلدی سے جاکر چپ چاپ تیار ہو جا۔‘‘
اپنے جذباتوں پر قابو کرتے ہوئے عایزہ وہاں سے تو تیزی سے نکل گئی، لیکن جب اپنے کمرے میں پہنچی تو صبر کا باندھ ٹوٹ پڑا۔ وہ اوندھے مُنھ بستر پر گر پڑی اور دل کا بوجھ آنکھوں کے ذریعے آنسو بن کر بہنے لگا۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ خوب چیخ چیخ کر روئے۔ سب کو اپنے دل میں سالوں سے دفن ہوتے جا رہے ارمانوں کو کھول کر دکھائے۔ بتائے کہ وہ کس درد سے گزرتی ہے جب گھر میں اس کی اس طرح سے نمائش لگتی ہے۔ سب کو بتائے کہ جب کوئی رجیکٹ کر کے جاتا ہے تو اُس کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ سب سے سوال پوچھے کہ اگر کسی کو وہ پسند نہیں آ رہی تو اس میں اُس کی کیا غلطی ہے؟ اُس نے خود سے تو خود کو بنایا نہیں ہے۔ کیوں اللہ کی بنائی ہوئی چیز میں انسان اتنا نقص نکالتا ہے؟
بچپن سے امی نے یہی درس دیا تھا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ جب بچپن میں کسی چیز کے نہ ملنے پر وہ مایوس ہوتی تو امی یہی سمجھاتی تھیں کہ بیٹا انسان کو جو کچھ ملا ہے، اس پر ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
جب اپنی سہیلیوں کی طرح وہ بھی فیشن کرنا چاہتی تب بھی امی یہی سمجھاتیں کہ ’’ارے بیٹا یہ سب غلط ہے۔ عورت کی اصل خوب صورتی تو اُس کی سادگی میں چھپی ہوتی ہے۔ تجھے تو بی بی فاطمہؓ اور حضرت عائشہؓ کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہیے۔ اُن کی طرح زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تجھے آخرت کی فکر کرنی چاہیے، دنیا کی زندگی میں کیا رکھا ہے۔‘‘
جب دوپٹّااُس کے سر سے سرک جاتا تو امی فورن ٹوکتے ہوئے کہتیں: ’’سر پر دوپٹّا نہیں رہتا تو گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے ہیں ۔‘‘ اسی طرح ہاف آستین کے کپڑے بنوانے، دوسروں کے گھر شادی بیاہ کی بے جا رسموں میں شامل ہونے پر امی منع کیا کرتی تھیں۔ کبھی پیار سے سمجھاتیں، تو کبھی ڈانٹ بھی پڑ جاتی، کبھی صحابیات کی زندگی کی مثالیں دیا کرتیں تو کبھی آخرت کا خوف دلاتیں۔ امی کی اسی تربیت نے اُسے ایک سادہ مزاج لڑکی بنا دیا تھا۔ اُس کے سر سے کبھی دوپٹّا ہٹتا نہیں تھا، فیشنیبل کپڑے اُسے راس نہیں آتے تھے، شادی بیاہ کی رسمیں اُسے بیہودہ لگتی تھیں اور ڈانس، گانا، فلمیں ان سب میں اُس کی کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی تھی۔ اُس کا زیادہ سے زیادہ وقت مطالعے میں گزرتا، قرآن پر غوروفکر، صحابیات کی زندگی کا مطالعہ اُس کا پسندیدہ شغل تھا۔ گھر میں وہ سب کی لاڈلی تھی۔ بابا اُسے پیار سے شہزادی بلاتے تھے اور وہ بھی خود کو کسی شہزادی سے کم نہیں سمجھتی تھی۔ جو چاہیے ہوتا فوراً حاضرہو جاتا۔ پڑھائی میں بھی وہ ممتاز تھی۔ سب کچھ اچھا چل رہا تھا۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی امی بابا کو شادی کی فکر ستانے لگی۔ بس پھر کیا تھا، لڑکا ڈھونڈا جانے لگا۔ دو چار رشتے دیکھنے کے بعد بابا کو ایک لڑکا پسند آیا۔ لڑکے کے گھر والوں کو لڑکی دیکھنے کے لیے بلایا گیا۔
جب امی نے عدنان کے بارے میں بتایا کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور تمہارے بابا کو بہت پسند ہے، کل اُس کے امی ابو تمھیں دیکھنے آنے والے ہیں تو وہ بہت خوش ہو گئی۔ رات بھر وہ عدنان کو ہی تصّور کرتی رہی۔ شادی کی تیاریوں کے بارے میں بھی پلاننگ کرلی اور یہاں تک کہ سسرال جاکر ساس سسر کے ساتھ اچھے سلوک کا بھی سوچ لیا۔
جب عدنان کے امی ابّو گھر آئے تو بڑے پیار سے امی اُس کے سر پر دوپٹّا ڈال کر اُن کے سامنے لے گئیں۔لے جانے سے پہلے امی نے اُس کی خوب تعریف کی تھی۔ کہا تھا: ’’بہت پیاری لگ رہی ہے میری بٹیا۔ بنا میک اپ کے بھی چہرے پر اتنی کشش ہے کہ جیسے نور برس رہا ہو۔‘‘
وہ بھی خود کو خوش نصیب سمجھتے ہوئے دل میں ارمانوں کا سمندر سمیٹے عدنان کی فیملی کہ سامنےحاضر ہوئی۔ اندر سے نروسنیس فیل ہو رہی تھی اور دل زورں سے دھڑک رہا تھا۔ من میں یہ خیال بار بار آ رہا تھا کہ پتا نہیں اُن کے سامنے کچھ بول بھی پاؤں گی یا نہیں۔
تھوڑی دیر عدنان کے امی ابّو نے اُسے گھورتی ہوئی نظروں سے دیکھا اور پھر ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا، پھر کمرے میں چاروں طرف نگاہیں دوڑائیں، جس صوفےپر بیٹھے تھے، اُسے پرکھتی ہوئی نظروں سے دیکھا اور پھر پوچھا :آپ کا گھر بس اتنا ہی بڑا ہے؟ ‘‘
وہ حیران رہ گئی کہ بھلا یہ سوال بھی کوئی پوچھتا ہے کیا؟ پھر جواب دینے کے لیے ہمّت کر کے نظریں اُٹھائیں تو معلوم پڑا کہ یہ سوال تو اُس کے لیے تھا ہی نہیں، بلکہ اُس کے بابا سے پوچھا گیا تھا۔ اُس نے تھوڑا ریلیکس محسوس کیا۔ دوسرا سوال پھر اُس کے بابا سے تھا کہ ’’رئیس صاحب! آپ جو کاروبار کرتے ہیں، اُس سے کتنی آمدنی ہو جاتی ہے؟‘‘ اُس کے بعد ایک کے بعد ایک سوال کیے جانے لگے اور وہ خاموشی سے بیٹھے سنتی رہی ۔اس انتظار میں کہ شاید اگلا سوال اُس سے کیا جائے، اُس کی پسند نا پسند کہ بارے میں پوچھا جائے۔ شاید عدنان کے بارے میں اُسے کچھ پتہ چلے۔ لیکن گھر جائیداد سے لے کر اُس کے بھائیوں اور رشتے داروں کے بارے میں سب کچھ پوچھ ڈالا گیا، لیکن اُس کے اور عدنان کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہوا۔ دھیرے دھیرے آرزؤوں کا سمندر مایوسی کے بادل میں تبدیل ہونے لگا اور اُس کا من اُچاٹ ہونے لگا۔ بابا سے کیے جانے والے آخری سوال پر تو ایسا لگا جیسے اُس کے دل پر کسی نے چھری چلا دی ہو۔ آخری سوال عدنان کی امی کا یہ تھا کہ:آپ نے اپنی بیٹی کو اسکول کالج بھیجا بھی ہے یا صرف گھر پر ہی رکھا ہے؟ ‘‘ بابا نے کہا :’’ارے نہیں، میری بیٹی نے اسی سال یونیورسٹی میں بی کام میں ایڈمیشن لیا ہے۔‘‘ اس پر عدنان کی امی دبے منھ ہنستے ہوئے بولیں: ’’ دیکھنے میں تو لگتا نہیں ہے کہ اس نے کبھی اسکول کالج کا منھ بھی دیکھا ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ آج کل زمانہ اتنا بدل گیا ہے، کالج جانے والی لڑکیاں بھلا ایسے رہتی ہیں ۔‘‘
تب امی چیختے ہوئے بولیں: ’’ زمانے سے کیا ہوتا ہے؟ زمانہ تبدیل ہو تو کیا ہم اپنی تعلیمات اور اصول بھول جائیں؟ ‘‘
عدنان کی امی کے سوال پر دل میں جو زخم ہوا تھا، اُس پر جھٹ سے امی کی باتوں نے مرہم لگا دیا تھااور اسی کے ساتھ اُس نے خود کو ٹوٹنے سے بچا لیا تھا۔ عدنان کے لیے دل میں اُمڈ رہے جذباتوں کو اُس نے فوراً دفن کر دیا یہ سوچ کر کہ عدنان جیسے تو ہزاروں ملیں گے۔ کیا کمی ہے اُس کے پاس؟ مانا کہ خوبصورت نہیں ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ کوئی عیب بھی نہیں ہے۔ اچھی بھلی باشعور ہے۔ اچھا ہوا جو اللہ نے اُسے ایسے خود غرض لوگوں سے بچا لیا۔ اُس رات اُس نے شکرانے کی نماز بھی ادا کی۔
لیکن پھر اسی طرح دوسرا رشتہ آیا، تیسرا آیا اور پھر برسوں بیت گئے،رجیکٹ ہوتے ہوئے۔ شروع میں امی، اللہ کی مصلحت کہتی تھیں۔ لیکن دھیرے دھیرے ان کا برتاؤ بھی تبدیل ہونے لگا۔ اب وہ بات بات پر اُس سے جھنجلا جاتیں۔ جیسے لگتا اُس نے ہی کوئی غلطی کی ہو۔ ایک دن اُسے زبردستی پارلر بھیج دیا اور پھر یہ سلسلا چل نکلا۔ بلیچ، فیشیل وغیرہ سب کچھ ہونے لگا۔ بال بھی اسٹائلیش کٹوا دیے۔ ایک دن تو زبردستی آئی بِرو بھی بنوا دیں اور حد تو تب ہو گئی جب پچھلی بار اُس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود لڑکے والوں کے سامنے جانے سے پہلے سر سے دوپٹّا یہ کہہ کر ہٹوا دیا کہ ’’تیرے سر پر دوپٹّا اچّھا نہیں لگتا۔ ‘‘ وہ سب کچھ چپ چاپ کرتی، لیکن جب کہیں سے انکار ہوتا تو سارا ٹھیکرا اسی کے سر پر پھوڑ دیا جاتا۔ پچھلی بار بھابھی کہہ رہی تھیں :’’لڑکے والوں کے سامنے اتنی اکڑ کے ساتھ بیٹھتی ہے تو بھلا کون پسند کرے گا۔‘‘
گھر والے، پڑوسی، رشتے دار سب کے طنز ا سنناب اُس کی قسمت بن چکاہے۔ وہ سب کی باتیں توچپ چاپ سن لیتی ، لیکن جب امی کچھ کہتی ہیں تو وہ اندر سے ہل کر رہ جاتی ۔
لیکن امی بھی کیا کریں، اُن کا حال بھی کم برا نہیں ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ اُن کی بیٹی اندر سے کتنا ٹوٹ چکی ہے، کتنی مایوس ہے، کس درد سے گزر رہی ہے۔ لیکن وہ کبھی اسے حوصلہ دینے کی ہمت نہیں جٹا سکیں۔جب ان کی پھول سی لڑکی کو کوئی نا پسند کر کے جاتا ہے تو وہ بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ وہ بھی لوگوں کے طعنے برداشت نہیں کر پاتی ہیں۔ لیکن کیا کریں؟ کس سے اپنا درد بانٹیں؟ بیٹی سے کہیں گی تو وہ اور ٹوٹ جائے گی۔ کسی اور سے کہیں گی تو لوگ مذاق اُڑائیں گے۔
وہ سوچوں کے سمندر میں گُم لگاتار روئے جا رہی تھی، تبھی بھابھی نے آکر آواز دی: ’’ ارے عایزہ! ابھی تک تم تیار نہیں ہوئیں؟ لڑکے والے بس آنے ہی والے ہیں۔ کچھ نہیں ہونے والا تمہارا۔ آج بھی انکار ہی ہوگا۔‘‘
وہ سہم کر اُٹھی اور شیشے کہ سامنے جاکر اپنی شکل دیکھی۔ رو روکر اُس کی آنکھیں سوج چکی تھیں، واقعی میں وہ عجیب لگ رہی تھی ۔ جلدی سے دوڑکر اُس نے منھ دُھلا، جلدی جلدی تیار ہوکر شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی، اُوپر سے نیچے تک خود کو دیکھا اور تیزی سے کمرے سے نکل کر مہمانوں کہ سامنے بیٹھ گئی۔ بھابھی دروازے پر کھڑی اسے لے جانے کا انتظار ہی کرتی رہ گئیں اور امی دیکھ کرہکا بکا رہ گئیں کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ اس نے سرپر دوپٹّا اُوڑھ رکھا تھا۔ اُسے اب کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ بڑے ہی اعتماد کے ساتھ اُس نے مہمانوں کو سلام کیا اور سامنے رکھی ڈرائی فروٹس کی پلیٹ سے بادام اٹھا کر کھانے لگی۔ امی اور باقی گھر والے اس کی اس حرکت پر حیران و پریشان لگاتار اُسے آنکھ دکھائے جا رہے تھے، لیکن وہ کسی کی فکر کیے بغیر لڑکے کی ماں سے سوال کرنے لگی:
’’آنٹی آپ کے گھر سے مسجد کتنی دور ہے؟ ‘‘
مسز بیگ کو لڑکی سے اس طرح کے سوال کی توقع نہیں تھی۔ انھوں نے گھبرا کر پوچھا:
’’قریب ہے، لیکن کیوں؟ ‘‘
’’وہ کیا ہے نہ آنٹی مجھے بچپن سے اذان سن کر نماز پڑھنے کی عادت ہے۔‘‘
مسز بیگ نے وہاں بیٹھے سبھی لوگوں کی طرف نظر دوڑائی اور پھر غصّے کو قابو کرتے ہوئے جواب دیا: ’’ہاں! اذان کی آواز آتی ہے۔‘‘
اُس نے بادام منھ میں ڈالتے ہوئے اور ان کی آنکھوں میں نظر گڑاتے ہوئے دوسرا سوال کیا:
’’کیاآپ کا لڑکا نماز پڑھتا ہے؟‘‘
اس بار مسز بیگ کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا اور انھوں نے چیختے ہوئے کہا:
’’ آپ کی لڑکی نہایت ہی بد تمیز ہے۔ سنا تھا بہت تمیز سکھایا ہے آپ نے، لیکن یہا تو ماجرا الٹا ہے۔ نہ جانے کس چیز کا گھمنڈ ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک رشتے آتے ہیں میرے لڑکے کے لیے۔ میں تو بس عارف کی ضد پر یہاں چلی آئی تھی۔‘‘
اور وہ بڑبڑاتے ہوئے گھر سے نکل گئیں۔
اُس کی امی سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گئیں۔ بھابھی، بھائی کے کان بھرنے لگیں کہ ’’ہم نے پہلے ہی کہا تھا اسے کنٹرول کرو، نہیں تو مصیبت بن جائے گی۔‘‘
وہ سب سے بے خبر بیٹھی سامنے لگے لذیز ناشتے کی پلیٹ ایک ایک کر کے صاف کیے جا رہی تھی۔ جب سارا ناشتہ ختم ہو گیا تو اُس نے ایک لمبی سانس کھینچی اور واپس اپنے کمرے میں جانے کے لیے کھڑی ہو گئی۔ تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ سب مایوس بیٹھے تھے۔ آواز سن کر کوئی نہیں اُٹھا تو وہی دروازہ کھولنے چل پڑی۔ دروازہ کھولا تو دیکھا سامنے ایک نوجوان کھڑا ہے۔ سلام کا جواب دینے کے بعد اس نے جب سوالیہ نظروں سے دیکھا تو لڑکے نے جواب دیا:
’’جی، میں عارف۔‘‘
’’کون عارف؟‘‘
’’جی ابھی میری امی آپ کے گھر آئی تھیں ۔‘‘
اتنا سنتے ہی اس کی سانس ایک دم سے رکنے لگی اور دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔ وہ جھینپتے ہوئے کنارے ہٹی اور عارف کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔
عارف جھجکتے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔ سب کی نظر اسی پر ٹکی ہوئی تھیں ۔ذرا ہکلاتے ہوئے اس نے بولنا شروع کیا: ’’میں اپنی امی کے لیے آپ سب سے معافی مانگتا ہوں۔ دراصل میں نے ہی امی کو بھیجا تھا۔ عایزہ کے بارے میں بہت تعریف سنی تھی۔ لیکن جتنا سنا تھا، عایزہ نےاس سے کہیں بہتر کردار کا مظاہرہ کیا۔میں نے بہت لڑکیاں دیکھیں، ان سے بات بھی کی، لیکن اس طرح کی فکر والی لڑکی پہلی بار ملی۔ جب امی گھر آکر غصے میں چلاّ رہی تھیں تو مجھے عایزہ پر غصہ نہیں آ رہا تھا، بلکہ اس کے کردار پر رشک ہورہا تھا۔‘‘
عارف امی کہ پاس بیٹھا ہوااور نہ جانے کیا کیا بولے جا رہا تھا، لیکن عایزہ کے من میں صرف یہ آیت گونج رہی تھی کہ:
’’غم نہ کر، تیرا رب تیرے ساتھ ہے۔‘‘
آپ نے اپنی بیٹی کو اسکول کالج بھیجا بھی ہے یا صرف گھر پر ہی رکھا ہے؟ ‘‘
بابا نے کہا :’’ارے نہیں، میری بیٹی نے اسی سال یونیورسٹی میں بی کام میں ایڈمیشن لیا ہے۔‘‘ اس پر عدنان کی امی دبے منھ ہنستے ہوئے بولیں:
’’ دیکھنے میں تو لگتا نہیں ہے کہ اس نے کبھی اسکول کالج کا منھ بھی دیکھا ہے۔
میرا مطلب یہ ہے کہ آج کل زمانہ اتنا بدل گیا ہے، کالج جانے والی لڑکیاں بھلا ایسے رہتی ہیں ۔‘‘

1 Comment

  1. Naziya rajawat

    Bht hi umda mazmoon

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢