ہمت مرداں مدد خدا
عائشہ بار بار توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔ نظر دیوار سے ہٹا کر میز پر رکھی کتاب پر مرکوز کرنے کی کوشش کرتی، لیکن ایک نامعلوم طاقت اسے دیوار کو دیکھنے کے لیے مجبور کر دیتی۔ وہ بار بار وہیں دیکھنے لگتی ۔ دیوار پر تھا کیا ؟ ایک بدنما اور گھنونی سی چھپکلی۔ ایک بے ضرر مگر ننھے سے پتنگے کو لقمۂ تر بنانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
پتنگاکبھی یہاں سے اُڑ کر وہاں اور وہاں سے اڑ کر یہاں ایک جگہ سے دوسری جگہ بیٹھ جاتا۔ گھات لگائے بیٹھی چھپکلی اس پر حملہ کرتی، مگر اس سے پہلے کہ وہ پتنگے کو منھ میں سمیٹے، وہ جھانسا دے کر تھوڑی دور جاکر اسی دیوار پر بیٹھ جاتا۔ چھپکلی ٹومی کی طرح پھرتی سے لپکتی، مگر پتنگا اسی پھرتی کے ساتھ چھپکلی کو جھانسا دے جاتا اور اڑکر دیوار کے دوسرے کونے میں جا بیٹھتا۔
’’اب تو گیا کام سے‘‘ عائشہ چیخی۔ بالکل چھپکلی کے منھ کا گراس بننے ہی والا تھا وہ نڈر اور بہادر پتنگا، پل بھر کو لگا کہ وہ گیا چھپکلی کے پیٹ میں، لیکن بچ گیا۔ ایک مرتبہ پھر پتنگاجھانسا دے گیا تھا۔ وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکی ، بے چاری چھپکلی کی کئی کوششیں بے کار گئیں۔ کامیابی سے بہت دور، لیکن امید کی کرن ابھی بھی باقی تھی۔’’کتنا بھاگوگے بیٹے۔‘‘ اسے لگا چھپکلی پتنگے کو چیلنج کر رہی تھی۔
وہ سوچنے لگی:’’میں بھی تو کوشش کر رہی ہوں برسوں سے،لیکن کامیابی جیسے میرے مقدر میں لکھی ہی نہیں ۔‘‘ماریہ ہر بار بازی مار جاتی ہے ۔ وہ اس خیال کو ذہن سے جھٹک دینا چاہتی تھی ،لیکن وہ اس کے ذہن و دماغ میں جیسے چپک گیا تھا ۔وہ اور گلناز پہلی جماعت سے ہی ساتھ میں پڑھ رہی تھیں۔پکی سہیلیاں بھی تھیں۔ ایک ہی بینچ پر ساتھ بیٹھتیں اور لنچ بھی ساتھ ہی کرتیں۔ ہم نوالہ ہم پیالہ۔ اسکول اور کبھی کبھی گھر کا کام بھی دونوں ساتھ مل کر کرتیں۔ مگر مقابلہ کی دیوار جو پہلی جماعت سے کھڑی ہوئی، وہ اب تک برقرار تھی۔
وہ اس خیال کو اپنے ذہن سے نہیں نکال پائی تھی کہ ماریہ ہر مرتبہ اس سے آگے کیوں نکل جاتی ہے۔ حالاں کہ پڑھائی میں دونوں نیک ٹو نیک تھیں تو کھیل کود میں بھی پلڑا برابری کا ہی رہتا۔لیکن جب امتحان آتا تو ماریہ ہمیشہ ہی بازی لے جاتی۔ ماریہ فرسٹ آتی تو عائشہ سیکنڈ۔ نمبروں کی کمی بیشی بمشکل دو یا تین کا ہوتا۔
چوتھی جماعت تک ایساہی رہا ۔ ماریہ فرسٹ تو عائشہ سیکنڈ۔ عائشہ بہت کوشش کرتی، پڑھائی میں دن رات ایک کر دیتی، مگر ماریہ نے تو جیسے فرسٹ آنے کے لیے ہی اس دھرتی پر جنم لیا تھا۔ وہ کئی مرتبہ سوچنے لگ جاتی۔ اسے یاد آیا چوتھی جماعت کے بعد تو وہ لگ بھگ ناامیدی کے آغوش میں ہی چلی گئی تھی اور پانچویں کے سالانہ امتحانات میں تیسری پوزیشن پر کھسک گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ امید سے آسمان ٹنگا ہے۔ لیکن جب امید کی ڈور ٹوٹ جائے تو آسمان بھی ڈھ کر گرنے لگتا ہے۔ مایوسی کی ایک لہر اس کے روح کے اندر تک اتر گئی ۔
اس کی نظر ایک مرتبہ پھر پتنگے پر پڑی ،جو تھوڑی دور مخالف سمت میں بیٹھا تھا۔ چھکلی عقاب کی طرح تیزی سے پلٹی اور نشانہ سادھنے لگی۔ اسے لگا اب کی بارنشانہ خطا نہیں کرے گا۔ جس طرح بگلا تالاب کنارے مچھلی پکڑنے کے لیے ایک ٹانگ اٹھائے چپ چاپ خاموش بظاہرآنکھ بند کیے ہوئے، لیکن نگاہ اپنے شکار پرجمائے رہتا ہے۔ بغیر پلک جھپکے، چھپکلی کی بھی وہی حالت تھی۔
عائشہ پھر ماضی کے اتھاہ سمندر میں ڈوب گئی۔ چھٹی جماعت میں وہ بھی اسی طرح منہمک ہوئی تھی۔ صرف پڑھائی اور پڑھائی کے لیے امی سے کتنی ڈانٹ سننا پڑی تھی اسے،اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا تھا کہ محنت کا پھل ضائع بھی جاتا ہے۔ ماریہ سے زیادہ نمبر لانا اس کی حسرت ہی رہ گئی تھی۔ اسے یاد آیا وہ سیکنڈ ہی آ سکی تھی اور آٹھویں جماعت میں تو وہ تیسری پوزیشن پر آ گئی تھی۔ دوسری پوزیشن نرگس کی تھی۔ تیسری پوزیشن ! بھیا نے کتنا مذاق بنایا تھا اس کا ۔اف خدایا! اسے یاد آیا اس نے بے اختیاری میں زور سے ٹیبل پر مکا مارا اور درد سے بلبلا اٹھی۔
ادھر دیوار پر پتنگا چھپکلی کے نو حملے بچا چکا تھا۔ ’’یہ پتنگے بھی کتنے بےوقوف ہوتے ہیں۔‘‘ وہ بڑبڑائی ۔ ’’جب معلوم ہے کہ چھپکلی باربار حملہ کر رہی ہے تو کیوں اسی دیوار پر مرنے کے لیے بے قرار ہے۔ کہیں اور کیوں نہیں چلا جاتا؟میں جب ڈاکٹر بنوں گی تو ضرور پتنگوں کے دماغ پر ریسرچ کروں گی۔ شکاری کے سامنے باربار جانا، جس کے ہاتھ میں بندوق ہو، انتہائی احمقانہ حرکت ہے کہ نہیں؟‘‘ وہ سوچنے لگی۔ یہ سب سوچنے میں وہ مصروف ہی تھی کہ اس نے دیکھا ، چھپکلی چھلانگ لگا کر دھپ سے زمین پر گری تھی۔ اس کے منہ میں پتنگا تھا، جو خود کو چھڑانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کر رہا تھا۔لیکن ایک مرتبہ شکار پکڑ میں آجائے تو آسانی سے ممکن کہاں ہوتا ہے! دسویں کوشش میں آخر چھپکلی کو کامیابی ہاتھ لگ ہی گئی تھی۔
وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑائی۔ ’’جب چھپکلی کامیاب ہو سکتی ہے تو کیا میں دسویں کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتی؟‘‘نویں جماعت میں اس کے اور ماریہ کے مابین محض 1نمبر کا فاصلہ تھا۔ ماریہ کو 570 اور اسے 569 نمبرز ملے تھے۔ ’’چھپکلی کو دسویں کوشش میں کامیابی مل سکتی ہے تو مجھے کیوں نہیں؟‘‘ ایک مرتبہ پھر وہ مسکرائی ، امید کی کرن اندر تک سرایت کر گئی تھی۔
اسے دادا جی کا قول یاد آ گیا، جو اکثر اس سے کہا کرتے تھے۔’’بیٹا! ہمت مرداں مدد خدا ہوتی ہے۔کسی بھی کام کے لیے ہمت ضروری ہوتا ہے۔ یہ ہو تو آدھا مسئلہ تو ایسے ہی حل ہو جاتا ہے۔ سو پریشان مت ہوا کرو ۔ ہمت بزدل ہارتے ہیں ۔ بہادر تو تاریخ رقم کرتے ہیں۔‘‘
اسے لگا جیسے کوئی غیر مرئی قوت اس کے اندر در آئی ہے ۔ وہ ایک دم بستر سے چھلانگ لگا کر نیچے اتری اور اپنی ڈائری میں لکھی۔میں بھی جیتوں گی۔ مجھے کوئی نہیں ہرا سکتا۔دسویں جماعت دسویں کوشش! مجھے اول آنا ہی ہے۔ماریہ کو پیچھے رہنا ہی ہوگا۔ اب تک آگے تھی وہ، مگر اب نہیں، بالکل نہیں۔‘‘ آگے اس نے تاریخ سترہ جنوری 2022، رانچی، جھارکھنڈ رات بارہ بجے رقم کرکے ، اپنی دستخط ثبت کی اور ڈائری بند کر دی۔
ٹھیک ایک سال بعد عائشہ کا وقت تھا۔ ڈی ڈی نیوز پر امتحان کے نتیجے کا اعلان ہو رہا تھا۔ پورے ہندوستان میں اول نمبر سے کامیاب ، ایک بیٹی نے کیا جھارکھنڈ کا نام روشن ! چھپکلی پتنگے کو نگل چکی تھی۔ عائشہ سچ مچ ماریہ کو پیچھے چھوڑ چکی تھی۔ پورے ملک میں وہ اول مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔ شہر ہی نہیں، سارے ملک میں اسی کا چرچا تھا۔
محنت، جد و جہد ،کوشش اور یقین ،وہ جنگ جیت گئی تھی۔ عائشہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور اس دیوار کا جہاں چھپکلی نے پتنگے کو شکار بنایا تھااور دادا کی وہ تصویر جو سامنے ہی فریم میں لٹکی تھی ، شکریہ ادا کیا۔اس کے آنکھوں میں آنسو تھے۔ خوشی اور غم دونوں کے آنسو ۔ آج اس خوشی کے موقع پر اس کے دادا نہیں تھے، جو اس سے کہا کرتے تھے : ’’بیٹا ! ہمت مرداں مدد خدا ہوتی ہے ۔ اس لیے ہمیشہ ہمت سے کام لینا ۔ کبھی بھی حالات سے نہ ڈرنا اور نہ گھبرانا ۔‘‘ دادا کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرانے لگی۔
’’جب چھپکلی کامیاب ہو سکتی ہے تو کیا میں دسویں کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتی؟‘‘
نویں جماعت میں اس کے اور ماریہ کے مابین محض 1نمبر کا فاصلہ تھا۔ ماریہ کو 570 اور اسے 569 نمبرز ملے تھے۔ ’’چھپکلی کو دسویں کوشش میں کامیابی مل سکتی ہے تو مجھے کیوں نہیں؟‘‘ ایک مرتبہ پھر وہ مسکرائی ، امید کی کرن اندر تک سرایت کر گئی تھی۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢