انسانوں کے شر سے پناہ
زمرہ : ادراك

ملک کے بگڑتے حالات سے ہرذی شعور واقف ہے۔سماج میں نفرت کا ماحول گردش میں ہے ، اخلاقی حدود کا پاس و لحاظ نہیں کیا جا رہا اور انصاف اور عدل کومطلق نظر انداز کیا جارہا ہے۔ تاہم بات اس نفرت آمیز ذہنیت کی ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل کو داؤ پر لگادیا گیا ہے۔
جوں ہی ’سلی ڈیل‘ کے نام سے گٹ ہب پر مسلمان جہت کار خواتین کی تصاویر کو فروخت کرتے ہوئے نازیبا باتوں والی خبر سامنے آئی، اس کے ایک ماہ بعد’بلی بائی‘ کے نام سے گٹ ہب پر ایپ بناکر مسلم خواتین کی سو تصاویر کی بولی لگائی گئی۔ اخلاقی گراوٹ، سفاکی اور جہالت کی حد پار اس وقت ہوئی جب ایک مظلوم عورت نجیب کی ماں اپنے گم شدہ بیٹے کو ڈھونڈتے ہوئے فریادی بنی ۔سوشل میڈیا کے بعض شر پسند عناصر نے انھیں بھی نہیں چھوڑا۔ تصور سے پرے بے ہودگی کی انتہا یہ ہوئی کہ چند دن بعد ہی کلب ہاؤس پر بیس بائیس سال کے نوجوانوں کی گفتگو انتہائی فحاشی کے ساتھ اپنے حدود پار کرتے ہوئےسوشل میڈیا پرگونجنے لگی۔ یہ اندھ بھکتی اور گندی ذہنیت کا ایک مظہر ہے، جو جمہوری ملک کی فاشسٹ طاقتیں جس طرح کا ماحول پروان چڑھانا چاہتی تھیں، وہ ان کے سامنے ہے۔ 20 فیصد آبادی کو مٹانے کا ایجنڈا ملک کی 80فیصد آبادی کے سامنے دے دیا گیا ہے۔مقصد یہ ہے کہ80فیصدآبادی ان سے ترقی کے بابت سوال نہ پوچھ سکے۔ سیاسی بساط کے مہرے کے سوا یہ اور کیا ہے بھلا؟ اب یہ 80فیصد آبادی مکمل غلامی اختیار کرنے پر تیار ہے۔ یہ رویہ انسانی نفسیات سے کھیلنے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
بھارت کی نوجوان نسل کدھر جارہی ہے؟ یہ سوال تو ملک کےانٹلیکچولز سے پوچھنا چاہیے۔ ملک کا قیمتی اثاثہ طلبہ ہیں اور یہ طلبہ مجرم بناکر ملک کے سیاست داں خوش ہیں کہ وہ ملک کی اقلیت سے بدلہ لے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ آیت ایک نئے انداز سے کھلتی ہے :

قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِۙ مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ (سورۃ الفلق:۱۔۲)

’’کہو! میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔ ‘‘
اس آیت میں چند باتیں قابل غور ہیں۔’ ان چیزوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو اس نے پیدا کی ہیں‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو شر کے لیے پیدا نہیں کیا ہے، بلکہ اس کا ہر کام خیر اور کسی مصلحت ہی کے لیے ہوتا ہے۔ البتہ مخلوقات کے اندر نیک اوصاف اس نے اس لیے پیدا کیے ہیں تاکہ ان کی تخلیق کی مصلحت پوری ہو۔ اس کا ذکر سورۃ الناس میں بھی کیا گیا ہے:’’ خواہ وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔‘‘مخلوق میں شر کے ابھرنے کا پہلو بعید ازقیاس نہیں ہے۔ شر سے پناہ مانگنے میں دو مفہوم اور بھی شامل ہیں: ایک یہ کہ جو شر واقع ہوچکا ہے، بندہ اپنے خدا سے دعا مانگ رہا ہے کہ وہ اسے دفع کردے۔ دوسرے یہ کہ جو شر واقع نہیں ہوا ہے، بندہ یہ دعا مانگ رہا ہے کہ خدا مجھے اس شر سے محفوظ رکھے۔ جیسے جیسے انسان ذہنی ارتقاء‎ کے عمل سے گزرتا ہے، آیت ایک مختلف طریقے سے انسان پر کھلنے لگتی ہے۔ ایسے حالات میں اپنے بچوں کو ہمیں جینا کا سلیقہ سکھانے کی ضرورت ہے۔ ہر جہالت کا جواب توازن اور حکمت کے ساتھ دینا ہوگا۔ اقتدار کی بھوک میں انسانوں کو بھی غلام بناکر ان کی نفسیات سے کھیلنا کوئی نیا قصہ نہیں ہے۔ اقتدار کا بھوکا بھی نفسیاتی مریض ہوتا ہے، جو دلوں پر حکومت نہ کرسکے تو غلاموں کے ذریعہ طاقت کا مظاہرہ کرواتا ہے۔
رومن ریپبلک میں دوسری صدی قبل مسیح میں ایک بڑے سے اسٹیدیم نما تھیٹر (جسے’ فلیوین ایمفی تھیٹر‘ کہا جاتا ہے)میں بھوکے شیروں کے سامنے برہنہ نہتے انسان ، قیدی یا مجرم کو پھینک دیا جاتا تھا۔ اسٹیڈیم کے باہر بیٹھے تماشائی، جو کہ عموماً نچلے معاشرتی طبقے کے پسے ہوئے عوام ہوتے تھے، جوش و وحشت کے جنوں آمیز شوق میں نعرے بلند کرتے تھے اور نہتے انسان کی تکہ بوٹی ہوتے دیکھتے تھے۔اس وحشت اور بربریت کے نظارے کو وہ کیوں دیکھتے تھے ؟ یہ سوال آج زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ اس محروم طبقے کے پاس دل بہلانے کا کوئی اور ذریعہ میسر نہ تھا۔ ان کی تفریح، اسی خونی وحشت آمیز تماشے سے وابستہ تھی۔یہ تماشائی جوش و وحشت میں بھی موت کا خوف یاد رکھتے تھے، اسی لیے تھیٹر کے میدان میں نہیں کودتے تھے ۔ رومن دور میں موت کی سزا کا یہ ایک دردناک طریقہ تھا۔ اس طریقے کو ڈیمناشیو ایڈ بیسٹیاز(Damnatio ad bestias) یا صرف بیسٹی( Bestii )کہا جاتا ہے۔ جب کہ کچھ رضاکار اپنی بہادری و مردانگی ثابت کرنے کے لیے یا معاوضے کے عوض جنگلی جانوروں سے موت کا کھیل کھیلا کرتے تھے۔ جیت کی صورت میں زندگی، نقد انعام یا شہرت و خطاب سے نوازے جاتے۔ ہارنے کی صورت میں درد ناک موت ان کا نصیب ہوتی۔
اب یہ قصۂ پارینہ بنے ان واقعات پر کوئی متمدن زندگی سے تاریخ کے اس پار جھانکیں تو محسوس ہوگا کہ اقتدار کی ہوس نے بالا دست طبقے سے انسان اور جانور میں تمیز ختم کردی۔طاقت کا زور باقی رہا، اس نے اپنے تسلط میں موجود انسانوں کوکھلونا تصور کیا۔ زیرِ دست طبقے سے انسان ہونے کا احساس ختم ہوگیا۔ اس نے طاقت ور کی غلامی کو دل سے تسلیم کرلیا۔ انسان کے چیتھڑے اڑنے کے منظر کو دیکھتے ہوئے معاشی بدحال اور غلام طبقہ تالیاں بجاتا رہا ہے۔ یہ تماشا ایک شخص کو بغاوت کی سزا کے لیے رکھا جاتا اور اس سزا کی وجہ سے نفسیاتی طور پر ہر باغی کو کچلنے کی ایک کوشش اس کے پیچھے کار فرما تھی،کیوں کہ اقتدار کی بقا کے لیے یہ لازم تھا۔ کیا تاریخ کے اس وحشت ناک دور کا انطباق آج محسوس نہیں ہو رہا ہے ؟ ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ وہ حکمراں عوام کے منتخب نہیں تھے، اس لیے غلام تھے۔ یہاں تو جس عوام نے اقتدار پر بٹھایا ،اسی عوام کو غیر محسوس غلامی کا طوق بڑے حسن کے ساتھ پہنا بھی دیا ہے۔
کیاموجودہ حالات میں اقتدار کی بقا میں عوام کو نفرت کا نشہ پلا کر ان کی نسلوں کے نفرت و درندگی کا زہربھرنےکی سازش نہیں کی جارہی ہے؟ افسوس ہماراضمیر اس پر خاموش ہے۔ یہ بات غلط ثابت ہو رہی ہے کہ متمدن دور میں انسان داخل ہوچکا ہے۔ یا یہ کہ اس دورمیں انسان نے غلامی ترک کردی ہے؟ انسان کے ذہن میں انسانوں پر قابو پانے کامنصوبہ ہر دور میں بنایا گیا،لیکن جدید طریقے نے انسان کو بالادستی اور غلامی کے نئے سانچے فراہم کیے ہیں۔
آج انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف ایک خدا کی بندگی میں باندھنے والے نظام کی دنیا کو ضرورت ہے اور اگرچہ یہ دعوت نقار خانے میں طوطی کے بول کی مانند ہے، لیکن یہ کشمکش زمین پر جاری رہے گی۔ اب جب کہ سوشل میڈیا کی یلغار سے ہمارے نوجوان نفرتوں کے بازار میں اپنی ماں، بہن اور بیٹیوں کی آبرو پر حرف آتے دیکھ رہی ہیں تو مائیں اٹھیں اور اپنی ذات کو اس ماحول میں انسانیت کی بہی خواہی کے لیے وقف کردیں۔ فحاشی کا بازار گرم کرنے والے ،نفرتوں کا نشہ چڑھا کر اندھے بنادیے جانے والے نوجوانوں کی حالت قابل رحم اور قابلِ اصلاح ہے۔ اس لیے بحیثیت داعی ہمیں انسانوں کو اسلام کی حیات بخش اور اعلیٰ اخلاقی تعلیمات کو پوری حکمت کے ساتھ موجودہ نسل کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ امت مسلمہ کو طاغوت کی شرانگیزی اور مکروفریب سے پوری طرح باخبر رکھنا اور خود بھی باخبر رہنا ہوگا۔
خالق اپنی مخلوق کی صفات سے بخوبی واقف ہے۔ اسی لیے قرآن نے انسانوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔( مِنْ شَرِّ مَا خَلَق)آج ماؤں کی عزت بھی انہی کی نوجوان نسل مجروح کررہی ہے اور آنکھ پر نفرت کی پٹی انہی کے دیش کے رکھوالوں نے باندھ لی ہے۔ کون کسی کو نقصان پہنچا رہا ہے؟ مسلمان دوسری قوم کو یا حکمراں اپنی نسلوں کو؟قرآن کی اس آیت پر کہ ’میں انسانوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ‘کہ ساتھ ایک سبق آموز ناول یاد آگیا، جو برٹش ناولسٹ ویلیم گولڈنگ نے 1954 میں لکھا تھا۔ ناول،نوبل پرائز یافتہ ہے۔ اس کی تھیم یہ ہے کہ برطانیہ میں جنگ کی صورتحال ہے اور انسانوں کو انسانوں سے خطرہ ہے۔ متفکر والدین نے اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک مخصوص جزیرے پر بھیجنے کا منصوبہ بنایا۔ بچوں کی عمریں بارہ سے پندرہ سال تھیں۔ انہیں پلین میں سوار کیا گیا۔ وہ گروہ صرف لڑکوں ہی کا تھا۔ غیر متوقع طور پر ان کا پلین حادثے کا شکار ہوا اور وہ ایک آئس لینڈ پر اتر گئے۔بے سروسامان لڑکوں نے آپس میں اتحاد کے ساتھ زندگی کی بقا کی کوشش کا منصوبہ بنایا۔ ایک دوسرے کو کام تقسیم کیا۔ انسانی نفسیات بحالت مجبوری انسان میں امداد باہمی کا جذبی پیدا کرتی ہے۔ انسانی تامل انفرادیت کے بجائے اجتماعی مفاد کے کے حق میں ہوتا ہے۔ یہاں بھی ان کی یہی فطرت کار فرما ہوئی۔ انہوں نے باہمی مفاہمت سے کسی کو شکار کی ذمہ داری دی تو کسی کو رہائشی ذمہ داریاں اور اس طرح وہ زندگی محفوظ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس ناول میں گروپ تھنکنگ کو پیش کرتے ہوئے انسانی نفسیات و استحکام کے حصول کے بعد انسان کی انفرادیت کو باقی رکھنے کی کشمکش کو کس طرح وحشی بنادیتی ہے، اس پر اگلا حصہ منتج ہے کہ جب استحکام آجائے تو انسان اپنی کی بقا کے لیے نفس اور جذباتیت کے ہتھے چڑھ کر دوسرے کی جان کا دشمن بن جاتا ہے۔ مذکورہ گروہ نے بھی آپس میں اپنی غذا کے لیے تلاش کیے جانے والے جانوروں کو نوچ کر کھانے کی طرز کو اپنے ہی ساتھیوں پر اپنا نا شروع کردیا اور ایک دوسرے کو نوچنے لگے اور ان کا گروہ تباہ کن نتیجے پر پہنچ گیا۔
مذکورہ منظر کو ہمارے ملک میں منطبق کرکے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جو برسرِ اقتدار اور مستحکم ہیں، وہ نسلوں کو ذہنی امن فراہم کرنے کی بجائے ان کے دماغوں کو نفرت سے بھر کر انہیں نوچنا سکھارہے ہیں۔ ویلیم گولڈنگ کے ناول کی طرح یہ انسانوں میں درندگی کی نفسیات پیدا کررہے ہیں اورآپسی عداوت ودشمنی کی آگ کو بھڑکا رہے ہیں۔ اس لیے اس بات پر ایک مومن کا ایمان ہے کہ وہ اقتدار کے اس مظاہرے سے نہ کتراتا ہے اور نہ ڈرتا ہے۔وہ اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ یہ انسانوں پر انسانوں کی بالادستی کا نظام ہے اور انسانوں کو بالآخرنظام فطرت کو قبول کرنا ہوگا۔ ہاں! ہمیں اللہ نے ا نسانوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے اور ہم ہر طرح کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا کی یلغار سے ہمارے نوجوان نفرتوں کے بازار میں اپنی ماں، بہن اور بیٹیوں کی آبرو پر حرف آتے دیکھ رہی ہیں تو مائیں اٹھیں اور اپنی ذات کو اس ماحول میں انسانیت کی بہی خواہی کے لیے وقف کردیں۔ فحاشی کا بازار گرم کرنے والے ،نفرتوں کا نشہ چڑھا کر اندھے بنادیے جانے والے نوجوانوں کی حالت قابل رحم اور قابلِ اصلاح ہے۔ اس لیے بحیثیت داعی ہمیں انسانوں کو اسلام کی حیات بخش اور اعلیٰ اخلاقی تعلیمات کو پوری حکمت کے ساتھ موجودہ نسل کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔

1 Comment

  1. سہیل بشیر کار*

    دعوت فکر، امیدہے ائندماہ علاج بھی بتایا جاے گا

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢