فحاشی اور عریانیت سماج کے لیے ناسور
آج جب ہم اس موضوع پر بات کرتے ہیں کہ فحاشی اور عریانیت سماج کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے تو ہمارے سامنے ہندوستان کی وہ بھیانک تصویر ابھر آتی ہے، جہاں عریانیت اور بے حیائی اپنے عروج پر ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جرائم اخبارات، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔اس کو پڑھ کر یا سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سماج کی اس بھیانک تصویر کو دیکھنا سننا اور اسے برداشت کرنا ہمارے لیے ایک عام سی بات ہوتی جا رہی ہے، کیوں کہ ہم جس سماج میں رہ رہے ہیں، وہ ایک بیمار اور سڑا ہوا معاشرہ ہے اور اس کی بدبو اور گندگی کے ہم عادی ہوتے جا رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سماج میں پھیلی ہوئی عریانیت اور بے حیائی کا چلن اتنی تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے کہ اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ کوئی بھی برائی جب اتنی بڑھ جائے کہ سماج کے لوگ اسے بہ آسانی گوارا کرنے لگیں تو پھر وہ برائی عام رواج بن کر سماج میں رہنے والوں کے اندر گھر کرنے لگتی ہے اور اسے خراب نہیں سمجھا جاتا۔ لہٰذا جو چیز بری سمجھی ہی نہ جائے تو پھر اس سے بچنا کیسے ممکن ہوگا؟
فحاشی اور عریانیت کسے کہتے ہیں؟
آئیے اس کی وجوہات پر نظر ڈالتے ہیں۔ پوری دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے ذریعے معلومات کا ایک جگہ سے دوسری جگہ تیزی سے منتقل کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ اس آسانی نے فحاشی اور Obscerity کو خوب بڑھاوا دیا ہے۔ فحاشی اور عریانیت ایسی چیزوں کو کہتے ہیں جو سماج کے معیار کے خلاف ہوں، جو اخلاقی قدروں کو پامال کرنے والی ہوں اور بے حیائی کو فروغ دیتی ہوں۔ ان سب کو اس دائرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً ایسی تصاویر( فوٹوز) اور ویڈیوز جس میں وہ حرکات و سکنات دکھائی جا رہے ہوں، جو بیڈروم میں ہونی چاہیے۔ کھلے عام دکھائےجانے والے شرمناک مناظر یا ٹک ٹاک پر بنائی گئیں غلیظ ویڈیوز، ان تمام کو اس دائرے میں شامل کر سکتے ہیں۔
یہ وبا کیسے عام ہوتی ہے؟
سماج میں جب کوئی بھی برائی پھیلتی ہے تو اس کو ہوا دینے میں میڈیا کا اہم رول ہوتا ہے۔ آج میڈیا بالکل بے لگام اور غیر ذمہ دار نظر آتا ہے۔ میڈیا کے ذریعے عریاں اور نیم عریاں تصاویر، اشتہارات، ٹی وی سیریل، ویڈیوز، فلمیں، بلو فلمیں نیز پارٹی اور کلبوں میں ہونے والے پروگرام میں جنسی ہیجان پیدا کرنے والے سین کو دکھانا، عوام تک پہنچانا، فحاشی کو خوب بڑھاوا دے رہا ہے۔ اخبارات میگزین اور اشتہارات کے ذریعے کو پھیلایا جا رہا ہے۔ ان پر اپنی ریڈرشپ بڑھانے کی دھن سوار ہے۔ چنانچہ وہ عریاں ، نیم عریاں تصاویر کو برائی نہیں ترقی سمجھتے ہیں۔ ان غلیظ اور فحش چیزوں سے نوجوان طبقہ ، خواتین اور کم سن لڑکے بڑی تعداد میں (teenagers) متأثر ہورہے ہیں۔ آج ان تمام چیزوں کو دیکھ کر کم عمر بچوں کو وقت سے پہلے ہی سیکس
( sex) کی معلومات مل جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنی خواہش کو ناجائز طریقے سے پورا کرنے کے لیے کوشاں نظر آرہے ہیںاور اسی کے ساتھ ساتھ زنا (ریپ ) کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آفس اور اداروں میں باس، حتی کہ اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ اسٹوڈنٹ اور ٹیچر کے ناجائز تعلقات کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ چھیڑ چھاڑ اور زنا بالجبر کے واقعات تو معمول بن گئے ہیں۔ ان قبیح حادثات کا شکار خواتین اور لڑکیاں، نہایت درد و کرب سے گزر رہی ہیں۔ لیکن سماج متعین کردہ معیارات تنگ لباس (چھوٹے کپڑے) پہننے اور پہنانے کو مارڈن ہونے کی شان کے مترادف ہو گیا ہے۔ یہاں جسم کو ڈھانپنا یا پردے میں رہنا فرسودگی زندگی کی علامت بن چکا ہے۔لہٰذا عریاں اور نیم عریاں لباس اور جسم کی نمائش وقت کی ضرورت بنتا جارہا ہے۔ ان حالات نے سماج کی تصویر بگاڑ کر رکھ دی ہے اور عوام اسے ترقی کی نشانی اور اپنی آزادی سمجھ کر کر اپنا دی جارہی ہے۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں شادی سے پہلے Pre Marital Sex چھوٹی اور کم سن لڑکیوں میں Teenage Pregnancy اور پھرSexually Transmitted Disease کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔
ان تمام چیزوں کو اگر قابو نہیں کیا گیا تو معاشرے کا اخلاقی معیار بری طرح متأثر ہوگا اور پھر اخلاق نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ یہ غور و فکر کا مقام ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ عورت کو ایک جنسی مہرہ ( Sexual object ) بنا دیا گیا ہے۔ یعنی وہ صرف اور صرف جنسی خواہش پوری کرنے کا سامان بن کر رہ گئی ہے۔انسانوں کے اندر درندگی کی صفت پیدا ہوگئی ہے۔ وہ جنسی خواہش کو پورا کرنے اور اس کے ساتھ دوسرے بڑے جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اپنے جرم کو چھپانے کے لیے گھناؤنے سے گھناؤنا کام کرنے سے بھی نہیں شرماتے۔ خبروں کے ذریعے 3 سال اور 6سال کی بچی سے لے کر 50 سال کی خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ فحاشی اور عریانیت، بے حیائی اور بے حجابی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس میں میڈیا کا اہم رول ہے جو کہ بغیر کسی روک ٹوک کے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگوں کے اندر صحیح غلط کی تمیز اور فرق ختم ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق کوئی بری چیز مسلسل دیکھی اور سنی جائے تو وہ برائی نہیں رہ جاتی، بلکہ بھلی معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کا برا ہونے کا احساس ختم ہوجاتا ہے۔
پوری دنیا سے آنے والی ماہرین نفسیات کی رپورٹ ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ میڈیا کے ذریعے پر تشدد اور جنسی چیزیں دیکھ کر نئی نسل اور بچوں پر ہونے والے اثرات کی رہی سہی کسر سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور موبائل انڈسٹری نے پوری کر دی ہے۔ اس کے ذریعے جنسی بے راہ روی کا ایک اہم دروازہ کھل چکا ہے جو ہر وقت وقت ہر لمحہ ہماری نسلوں کے ہاتھوں ہوتا ہے ۔بلو فلمیں اور گندے سین آج گھر بیٹھے دستیاب ہیں اور اسے کمرے کی تنہائی میں بڑی آسانی سے نوجوانوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ ایک ٹچ اسکرین پر ساری سہولت دستیاب ہیں اور حد تو یہ ہے کہ اسی کے ذریعے جنسی خواہش کو پورا کرنے کا سارا سامان موجود ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر ہونے والی دوستی اس کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس کا سیدھا نشانہ ہمارے وہ بچے جو اوائل عمری میں ہیں اور ہماری نوجوان نسل ہے ۔لہٰذا اس پر لگام لگانا ہماری اولین ذمہ داری ہے اور یہ مشکل کام ہے۔ جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ اور نو عمر بچوں بچیوں کا اس میں ملوث ہونا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب پانی سر سے اونچا ہوتا جا رہا ہے۔ نا جائز تعلقات میں اضافہ اور گھر اور خاندان میں بکھراؤ، میاں بیوی کے مقدس رشتے میں دراریں اور طلاق اور خلع کے واقعات میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور حالات اس بات کے متقاضی ہے کہ عوام میں بیداری پیدا کی جائے۔ اس سلسلے میں چند کاموں کا کرنا لازمی ہے ۔
۱۔فحش اور عریاں چیزیں خواہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلائی گئی ہوں یا ٹی وی اخبارات اور رسائل پر دستیاب ہوں، اس پر پابندی لگنی چاہیے۔ اس کے تمام ذرائع پر کنٹرول ہونا چاہیے۔ خواہ اس کے لیے پروٹیسٹ کرنا پڑے، دھرنے دینا پڑے یا پھر اور کسی طریقے سے آواز اٹھانی پڑے۔ ایسے تمام پروگرام جو فحش کو فروغ دینے والے ہوں، ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔
۲۔لباس پر بھی پابندی لگائی جائے۔ ڈریس کوڈ مختص ہونا چاہیے۔ کم از کم گھر کے باہر ایسے نیم عریاں لباس پہن کر نکلنے سے روکا جائے، جو جذبات کو بھڑکانے والے ہوں۔ جنسی جذبات بھڑکانے والے تمام کاموں سے روکا جائے ۔اس میں شراب پر پابندی نشہ خوری کو بند کرنا، جوا، سٹہ ان سب راستوں کو بند کیا جائے۔
نا جائز تعلقاتLive in Relationship پر بھی روک تھام کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اسے قانونی درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ ہم جنس پرستی کو بھی فروغ ہو اور قانونی پروانگی حاصل ہو، سماج کو اس کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے فکر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس سے پیدا شدہ جرائم پر روک لگائی جا سکے۔
۳۔اس کے بالمقابل سماج میں شادی کے ذریعے معاشرہ اور رشتہ ازدواج کو فروغ دیا جائے اور اسے آسان بنایا جائے۔ اس کے ساتھ جو رسم و رواج اور روایات ہیں، انہیں کم کرکے یا بالکل ہی ہٹا کر آسانی کے ساتھ بیاہ ہو سکے ،ایسی فضا بنائی جائے تاکہ زنا مشکل ہو اور لوگ اس سے گھٹن محسوس کریں۔ شادی کی عمر میں اضافہ اس کام میں ایک بڑی رکاوٹ بنے گا، اس پر غور کرنا چاہیے اور اس قانون کو نافذ کرنے سے پہلے سوچنا پڑے گا۔
عورت کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جائے۔ عورتوں کی نام نہاد آزادی کے نتائج سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔ عورت کو ایک جنس سمجھ کر اس کے وقار کو مجروح ہونے سے روکا جائے۔ان تمام رشتوں کو جو عورت کے ساتھ جڑے ہیں مثلاً ماں، بہن، بیٹی، بیوی غیرہ اسے عزت کی نظر سے دیکھا جائے اور اور باوقار بنایا جائے۔
۴۔مذہب کو صرف ذاتی زندگی تک محدود نہ رکھ کر اسے ریاستی اور سماجی امور میں شامل کر کے معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ مذہب کی تعلیمات اور اخلاقی قدروں کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ مذہبی اقدار سے بیزاری کو ختم کر کے اصلاح کی کوشش کی جائے تاکہ معاشرے کو بگاڑ سے بچایا جا سکے اور سماج کو ان تمام برائیوں سے نجات دلائی جا سکے۔
فحش اور عریاں چیزیں خواہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلائی گئی ہوں یا ٹی وی اخبارات اور رسائل پر دستیاب ہوں، اس پر پابندی لگنی چاہیے۔ اس کے تمام ذرائع پر کنٹرول ہونا چاہیے۔ خواہ اس کے لیے پروٹیسٹ کرنا پڑے، دھرنے دینا پڑے یا پھر اور کسی طریقے سے آواز اٹھانی پڑے۔ ایسے تمام پروگرام جو فحش کو فروغ دینے والے ہوں، ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔

3 Comments

  1. مہتاب عالم ندوی

    ماشاء اللہ بہت اچھا مضمون ہے موجودگی حالات کے پیش نظر ۔
    خامی یہ بھی ہوتی ہے کہ والدین بچوں کو وقت نہ دینے سے اس طرح کی کیفیات میں بہت زیادہ اضافی ہوتا ہے۔

    Reply
  2. سید ذاکر سید جیلانی

    جزاک اللہ
    مضمون بہت اچھا ہے ہے آج کے حالات بہت تیزی سے بگڑ رہے ہیں ہیں اگر وقت پر ان کی روک تھام نہ کی جائے تو سماج خراب ہو کر ملک تباہی کے راستے پر جا سکتا ہے اور تب تک بہت دیر ہوگی۔ہم سب کو مل کر بہت تیزی سے منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے

    Reply
  3. Uzma

    Beshak mojooda halat par ghor fikr karna bht zaroori hai hum sabke liye khusoosi taur par jo aajkal ke maa baap ne apne chote chote bachon ke hatho me mobile phone thama diya hai jiski vajah se vo manmaane dhang se jo marzi vo dekhte aur sunte hai …ye bhi humari naslon ke deen se door hone ki bht badi vajah hai ….allah hum aabko hidayat pr rakhe

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢