درس قرآن
زمرہ : النور

نماز کے ڈھیروں فوائد اور برکات ہیں۔ ان میں سے یہ بھی ہے کہ نماز انسان کو برائیوں سے روکتی ہے، گناہوں سے باز رکھتی ہے اور نفس کو پاکیزہ کرتے ہوئے مومن کے ایمان کی حلاوت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ آیت نماز کی یہی اہمیت بیان کرتی ہے:

ٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِوَٱلۡمُنكَرِۗ وَلَذِكۡرُ ٱللَهِ أَكۡبَرُۗ وَٱللَهُ يَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُونَ.

(سورۃ العنکبوت:45)
’’جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘
اس آیت سے نماز کی فضیلت اور افادیت ظاہر ہوتی ہے۔ صریح طور سے آیت میں نماز کی پابندی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور نماز ادا کرنے کا فائدہ بتایا جارہا ہے کہ نماز سے انسان گناہ و برائی سے محفوظ رہتا ہے۔ نماز بے حیائی، فحاشی اور گندگی سے انسان کو پاک کرتی ہے۔کسی کا اس طرح کہنا کہ’’ نماز ادا کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے‘‘ یا یہ سمجھ لینا کہ ’’اس کا فائدہ بس آخرت میں ہی ملے گا‘‘ سراسر غلط ہے۔ کیوں کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے، جس کے ذریعہ مومن دنیا و آخرت دونوں میں فائدہ حاصل کرتا ہے۔
عبادت کا مفہوم صرف رسم بندگی یا اعتراف یا عجز نہیں۔ بلکہ شریعت اسلامی میں یہ ایسی اصطلاح ہے، جس میں بےپناہ وُسعت پائی جاتی ہے۔عبادت ، سب سے منھ موڑ کر اپنے محبوب الٰہی سے صرف اُس کی منشا اور رضا کو حاصل کرنے کے لیے خود کو تمام تر بری خصلتوں و عادات سے پاک کرنے کا نام ہے۔ اس قسم کی اطاعت کی اصل روح تقویٰ ہے۔خدا کے تمام تر احکام کو دل سے یقین و پختگی کے ساتھ مان کر عمل کرنے کا نام اسلام ہے۔ لہٰذا شریعت کی اصطلاح میں خاص پابندی اور پوری شرائط کے ساتھ خدا کو یاد کرنے کا نام صلوٰۃ ہے۔ قرآن کریم میں تقریباً سات سوں مرتبہ اس کا ذکر آیا ہے۔ کہیں اسے ایمان بتایا گیا ہے، کہیں اسے چھوڑنے پر سخت سزا کا اعلان کیا گیاہے ، تو کہیں اسے قائم کرنے پر خدا کی مدد کا وعدہ ہے اور کہیں ترک نماز کو قوموں کی بربادی قرار دیا گیا ہے۔غرض یہ کی قرآن مجید میں بارہا نرمی و سختی سے جس بات کی طرف توجہ دلائی گئی وہ صلوٰۃ ہے۔
دنیا میں مومن نماز کے ذریعہ بے حیائی اور برے کاموں سے دور رہ سکتا ہے۔ پانچ وقت خدا کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف نماز کے درمیان وقفے میں مومن کو فحاشی سے بچاتا ہے۔ فتنوں کے اس دور میں جہاں چاروںطرف عریانیت نظر آرہی ہے کہ جس سے انسان آنکھیں موندے، مگر فتنے ہیں کہ انسان کو دلدل میں مختلف طریقوں سے کھینچ رہے ہیں۔ نماز کی پابندی مومن کے لیے تقوی کے قیام کے لیے بہترین مشق ہے۔
والدین اور بزرگوں کے ڈر سے بڑا ہے اللہ کا ڈر۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا احساس! یہ جذبہ فقط اس وقت پیدا ہوگا جب نماز کو سمجھ کر، صحیح ڈھنگ سے پابندی سے ادا کیا جائے گا۔ قیامت کی نشانیوں کو دیکھتے ہوئے ہم یہ جواز نہیں دے سکتے کہ ہم ایسے دور میں پیدا ہوئے تو اب کیا کیا جائے؟ نماز شیطان کے خلاف مومن کے لیے زبردست ہتھیار ہے۔ نماز میں اللہ کی کبریائی کی گواہی دیتے ہوئے اللہ اکبر کہنا ،اس کی تسبیح زبان پر جاری کرنا، اس کی وحدانیت کا اقرار کرنا، قرأت کرنا، رکوع، سجود، قیام و تشہد یہ سب بندگی کا عملی اظہار ہے۔ نماز اٹھتے، بیٹھتے، رکوع کرتے، سجدہ کرتے اللہ وحدہ لا شریک کے احکامات کی عملی پابندی ہے۔
نماز میں انسان کا ہر عضو محوِ اطاعتِ پروردگار ہوتا ہے۔ روزانہ کم از کم پانچ اوقات اس حالت کا بار بار اعادہ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ نماز توحید جیسی آفاقی اور شاندار حقیقت کی بہترین عملی گواہی ہے۔ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو نماز میں سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھتا۔‘‘ سورۃ الفاتحہ میں بندہ نیک راستے کی ہدایت کی دعا کرتا ہے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کی پیروی سے بچنا چاہتا ہے۔ اس سورہ میں بندہ عاجز آتا ہے کہ وہ فقط اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اسی سے مدد چاہتا ہے۔ روزانہ پانچ وقت ساری رکعتوں میں بارہا آیات ربانی کے ذریعے دعا مانگنا بندہ کے دل میں ہدایت کی افادیت بھی اجاگر کرتا ہے۔ نماز کی لذت کو جو بندہ پاتا ہے، نماز کے انتظار میں بیتاب رہتا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے:’’جو نماز انسان کو فواحش و منکرات سے نہیں روکتی اس کی نماز میں کمی ہے۔‘‘
نماز کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اگر بندہ نماز کو صحیح طریقے سے ادا کرنے لگے تو یہی نماز اسے فتنوں سے بچاتی ہوئی، خیر و عافیت کے ساتھ حشر کے میدان تک لے جائے گی۔ اور انشاءاللہ جنت تک پہنچا دے گی۔ جو لوگ نماز کی لذت سے بہرہ ور ہوتے ہیں وہ اپنے خالق اور پروردگار کی مخالفت کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اہل جنت، جہنمیوں سے سوال کریں گے تمہیں جہنم میں تمہارے کس عمل نے پہنچایا؟ تو ان کے جوابات میں سے ایک جواب یہ بھی ہوگا ہم تارک الصلوٰۃ تھے۔ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے! نبی ﷺط نے فرمایا کہ اسلام اور کفر کے درمیان نماز حدِ فاصل ہے۔ فقہاء کرام مانتے ہیں نماز کو جو عمداً ترک کردے وہ کافر ہے۔کتاب و سنت کا علم رکھنے والے علمائے کرام فرماتے ہیں جو شخص نماز ضائع کرتا ہے وہ دیگر چیزوں کو نماز سے زیادہ ضائع کرتا ہے۔ یعنی یہ کہ نماز وقت پر پڑھنی ضروری ہے اور اس سے ضروری کوئی کام نہیں ہے۔ چند شرعی عذر کے علاوہ نماز کی وقت پر ادائیگی پر ہمیں خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ وَمَا تُقَدِّمُواْ لأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللّهِ إِنَّ اللّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (سورۃ البقرۃ :110)

’’ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ۔جو نیکی بھی اپنے لیے آگے بھیجو گے، اس کو خدا کے پاس پاؤگے۔ اللہ تمہارے سارے اعمال سے واقف ہے۔‘‘
یہی مضمون سورۃالمزمل میں بھی ہے۔

وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَقۡرِضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا۔ وَ مَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللّٰہِ ہُوَ خَیۡرًا وَّ اَعۡظَمَ اَجۡرًا (سورۃ المزمل:20)

قُلْ لِّعِبَادِىَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا يُقِيْمُوا الصَّلَاةَ(سورۂ ابراھیم:31 )

نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو نیک نیتی سے قرض دیتے رہو۔ اور جو عمل نیک تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اس کو اللہ کے ہاں بہتر اور صلے میں بہت عظیم پاؤ گے۔‘‘
حضور سرور کونین ﷺ جو نظام زندگی اور طریقۂ عبادت دنیا میں لے کر آئے تھے، اُس کی تکمیل کے لیے اس آب حیات (نماز) سے ہمیشہ اور باقاعدہ یاری کی جانی ضروری تھی۔

’’میرے بندوں کو کہہ دو جو ایمان لائے ہیں کہ نماز قائم کریں۔‘‘
جس طرح ایک کھیتی پانی ملنے سے تروتازہ رہتی ہے اور نشو نما حاصل کرتی ہے، اسی طرح انسانی زندگی کو بھی نماز کے ذریعے ایمانی حلاوت اور روحانی ٹھنڈک ملٹی رہتی ہے۔ ایمان مزید نکھرتا ہے اور مومن صحیح راہ پر گامزن رہتا ہے۔ ہدایت زندگی بھر کی ضرورت ہے۔ نماز نا صرف تقویٰ بڑھاتی ہے بلکہ قرآن کے ذریعے ہدایت بھی دیتی ہے۔ چونکہ ہم نماز میں قرآنی آیات کی ہی تلاوت کرتے ہیں، اس لیے رشد و ہدایات ہمیں وقتاً فوقتاً ملتی ہیں ۔ نماز کی پابندی سے استقامت ملتی ہے۔ برائی ، بے حیائی ، فحاشی نیز عریانیت جیسے مختلف فتنوں سے نماز کے ذریعے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

قرآن کریم میں تقریباً سات سوں مرتبہ اس کا ذکر آیا ہے۔ کہیں اسے ایمان بتایا گیا ہے، کہیں اسے چھوڑنے پر سخت سزا کا اعلان کیا گیاہے ، تو کہیں اسے قائم کرنے پر خدا کی مدد کا وعدہ ہے اور کہیں ترک نماز کو قوموں کی بربادی قرار دیا گیا ہے۔غرض یہ کی قرآن مجید میں بارہا نرمی و سختی سے جس بات کی طرف توجہ دلائی گئی وہ صلوٰۃ ہے۔

آڈیو:

ویڈیو :

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢