کرونا کی وجہ سے اسکولوں کو بند رکھنے کا اب کوئی جواز نہیں: ورلڈ بینک
عالمی منظر نامہ
عالمی بینک کے عالمی تعلیمی ڈائریکٹر جمائم ساویدرا کے مطابق وبائی امراض کے پیش نظر اسکولوں کو بند رکھنے کا اب کوئی جواز نہیں ہے اور یہ بھی درست نہیں کہ اگر نئی لہریں آئیں تو اسکولوں کو بند کرنا آخری حربہ ہونا چاہیے۔
ساویدرا(Saavedra) جس کی ٹیم تعلیم کے شعبے پر Covid-19 کے اثرات کا سراغ لگا رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اسکول دوبارہ کھولنے سے کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ کہ اسکول ’محفوظ جگہ‘ نہیں ہیں۔
انہوں نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ عوامی پالیسی کے نقطۂ نظر سے بچوں میں ٹیکہ اندازی مکمل ہونے تک انتظار کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیوں کہ اس کے پیچھے ’کوئی سائنس‘ نہیں ہے۔
ساویدرا نے واشنگٹن سے ایک انٹرویو میں پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’’اسکول کھولنے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ دونوں کو جوڑنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی اسکولوں کو بند رکھنے کا کوئی جواز ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’ریستوران، بارز اور شاپنگ مالز کو کھلا رکھنے اور اسکولوں کو بند رکھنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔یہ کوئی قابل قبول بہانہ نہیں ہے۔‘‘
ورلڈ بینک کے مختلف نمونوں کے مطابق اگر اسکول کھلے ہیں تو بچوں کے لیے صحت کے خطرات کم ہیں، لیکن بند ہونے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔
ساویدرا نے اپنے بیان میں کہا کہ’’2020 کے دوران ہم جہالت کے سمندر میں گشت کر رہے تھے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وبائی مرض سے لڑنے کا بہترین طریقہ کیا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک کا فوری رد عمل یہ تھا کہ آئیے اسکول بند کر دیں۔ لیکن اب وقت گزر چکا ہے، 2020 اور 2021 کے آخر سے آنے والے شواہد بتاتے ہے کہ کئی نئی لہریں آنے والی ہیں اور آچکی ہیں۔ ہمارے پاس کئی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے اسکول کھولے ہیں، جس کے سبب ہم یہ دیکھنے میں کامیاب رہے ہیں کہ اسکولوں کے کھلنے کا وائرس کی منتقلی میں کوئی اثر نہیں ہوا ہے اور نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا ہوتا بھی نہیں ہے۔ تقریباً ممالک میں نئی لہریں اس وقت سامنے آئیں، جب اسکول بند تھے تو ظاہر ہے کہ اس میں اسکولوں کا کوئی کردار نہیں رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہاں تک کہ اگر بچے متأثر ہوسکتے ہیں اور Omicron کے ساتھ یہ اور بھی زیادہ ہو رہا ہے، لیکن بچوں میں اموات اور سنگین بیماریاں بہت کم ہیں۔ جہاں بچوں کی صحت کے لیے خطرات کم ہیں، وہی تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے سے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔‘‘
بچوں کو ابھی تک ٹیکہ نہ لگوائے جانے کے خدشات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا:’’ایسا کوئی ملک نہیں ہے، جس نے بچوں کو ٹیکے لگوانے کے بعد ہی اسکول دوبارہ کھولنے کی شرط رکھی ہو۔ کیوں کہ اس کے پیچھے کوئی سائنس نہیں ہے اور عوامی پالیسی کے نقطۂ نظر سے اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔‘‘
ہندوستان میں وبائی امراض کی وجہ سے اسکولوں کی بندش کے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ساویدرا نے کہا کہ ’’اثر اس سے زیادہ شدید ہے جتنا کہ سوچا گیا تھا اور سیکھنے کی غربت (learning poverty)متوقع سے کہیں زیادہ بڑھنے کا امکان ہے۔‘‘ (سیکھنے کی غربت (learning poverty)کا مطلب ہے کہ 10 سال کی عمر تک ایک سادہ سا متن پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر رہنا۔)
بھارت میں سیکھنے کی غربت 55 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہونے کی توقع ہے، جس کی وجہ تعلیم کی طرف جھکاؤ میں کمی اور بچوں کا اسکول کے زمانے سے ہی تعلیم منقطع کردینا ہے۔ اسکول کی تعلیم کے ایڈجسٹ شدہ سالوں میں اسکول کی تعلیم کے تقریباً ایک سال کی کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جب کہ اوسط سالانہ مستقبل میں مایوسی کے ماحول میں کمائی نو فیصد فی طالب علم کم ہو سکتی ہے۔
’’ہندوستان جیسے ممالک میں جہاں وبائی مرض سے پہلے ہی تعلیم میں عدم مساوات موجود تھی اور سیکھنے کی غربت کی سطح پہلے ہی بہت بڑی تھی، وہاں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ تقریباً دو سال بعد، لاکھوں بچوں کے لیے اسکول بند رہے اور شاید بچوں کی بڑی تعداداسکول دوبارہ کبھی واپس نہ آئیں۔‘‘
مزید نقصانات گنواتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’’سیکھنے کا نقصان (learning loss) جس کا سامنا بہت سے بچے کر رہے ہیں، اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہے اور سیکھنے کی غربت میں ممکنہ اضافہ بچوں اور نوجوانوں کی اس نسل، ان کے خاندانوں اور دنیا کی مستقبل کی پیداواری صلاحیت، کمائی اور فلاح و بہبود پر تباہ کن اثر ڈال سکتا ہے۔ ساتھ ہی معیشتوں کو تباہ کرسکتا ہے۔‘‘
عالمی بینک وبائی امراض کے دوران اسکولوں کی بندش کی وجہ سے ہونے والے طویل مدتی تعلیمی نقصانات کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بند ہے، جس کے لیے، نصاب کو معقول بنانا، تعلیمی کیلنڈر کی تنظیم نو، اساتذہ کو آگے کے بڑے کام کے لیے تیار کرنا، اس کی تجاویز میں شامل ہیں۔
ساویدرا نے اس ضمن میں بتایا کہ ’’ریاستوں اور مجموعی طور پر ملک میں ہونے والے تعلیمی نقصانات کے بارے میں مزید اعداد و شمار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ’’ہمارے مشورے کے مطابق اگر اسکول کے نظام کو دوبارہ کھولنے کو ترجیح نہیں دی جاتی ہے تو اس کا خطرناک نقصان سامنے آسکتا ہے۔اور جو اعداد و شمار پیش کرتے ہیں وہ ورلڈ بینک کے نقوش ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر حکومتیں ابھی کام کر سکتی ہیں تو ان نمبروں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ورلڈ بینک ایجوکیشن کی 2020 کی ایک
رپورٹ، جس کا عنوان ہے:
Beaten or Broken? nformality and Covid-19 in South Asia
(بیٹن یا بروکن؟ غیر رسمی اور جنوبی ایشیا میں کووڈ 19) نے پیشین گوئی کی تھی کہ ہندوستان میں کووڈ 19 وبائی امراض کی وجہ سے اسکولوں کی طویل بندش سے ملک کی کمائی میں 400 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوسکتا ہے۔
’’سیکھنے کا نقصان (learning loss) جس کا سامنا بہت سے بچے کر رہے ہیں، اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہے اور سیکھنے کی غربت میں ممکنہ اضافہ بچوں اور نوجوانوں کی اس نسل، ان کے خاندانوں اور دنیا کی مستقبل کی پیداواری صلاحیت، کمائی اور فلاح و بہبود پر تباہ کن اثر ڈال سکتا ہے۔ ساتھ ہی معیشتوں کو تباہ کرسکتا ہے۔‘‘

1 Comment

  1. Saba Khan

    Very informative
    Actually I would like to say when we read paragraphs to hum usko zoom Kar k padh sake aur hum website par sabhi content ko zoom Kar k padh sake to aur bhi better hoga because font chota hone se thodi dikkat hoti hai read krne me

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢