لہو کے چراغ

نہ کہیں چاند نہ سورج نہ ستارے روشن
نہ تو قِندیل ہی روشن کہ اجالا ہوتا
نہ تو جگنو کوئی چمکا نہ شرارہ کوئی
ہر کوئی سہما ہوا، ویران گلی کوچے ہیں
جبر کی رات ہے، ٹھٹھری ہوئی تاریکی ہے
کس میں ہمت تھی کہ کرتا کوئی شمع روشن

ہے بلا خیز جنوں ایسا کہ سب اہل وفا
پا بہ زنجیر ہوئے، بھیجے گئے سوئے مقتل
ہے یہ الزام کہ الزام سے انکار کیا
ہیں سزاوار کہ سرحد کے نگہبان بنے
ہیں سر دار کہ غداری سے انکار کیا

عدل گاہوں کو ہوا حکم کہ محضر لکھو
ہیں جو معصوم انہیں باغی و مجرم لکھو
ہیں جو مظلوم انہیں قاتل و ظالم لکھو
فرد الزام پہ ہر کاذب و قاتل کی گواہی لکھو
فیصلہ ہو بھی چکا، بحث کی حاجت ہی نہیں
ہاں مگر دفتر عدل تو قائم ہوگا!
ہاں مگر یہ بھی بہ خط نمایاں لکھو
’’جو جوبھی آئے، وہ یہاں ہونٹ کو سی کر آئے‘‘
نہ کوئی جرح، نہ وکالت، نہ ضمانت، نہ دلیل
جو بھی آئے، وہ یہاں آ کے تماشہ دیکھے
ہوتے پھرکیسے در و بام یہاں کے روشن؟
کس میں ہمت تھی کہ کرتا کوئی شمع روشن

ہاں مگر آس تو باقی ہے ابھی اہل وطن
پھر کبھی ہوں گے در و بام یہاں کے روشن
کچھ تو ہیں اہل وفا، جن کے لہو کے قطرے
مثل خورشید جہاں تاب رہیں گے روشن
زندگی بھر وہ رہے شمع فروزاں بن کر
اور چڑھے دار، کیا عزم کی شمع روشن

ہیں کہاں ظلمتِ جبر کے تازہ لشکر
کہ عزیمت سے ہوئے جاتے ہیں رستے روشن!
نہ تو قندیل جلی تھی کہ اجالا ہوتا
نہ تو جگنو کوئی چمکا نہ شرارہ کوئی
ہاں مگر ہوں گے در و بام یہاں کے روشن!

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

فروری ٢٠٢٢