۲۰۲۳ جنوری
’’یہ کیا لفظ استعمال کیا تم نے؟ بڑوں سے اس طرح بات کرتے ہیں؟‘‘ دادی نے فواد سے سخت لہجے میں کہا۔
’’دادی !اس میں کیا برائی ہے؟‘‘ فواد نے بے پروائی سے جواب دیا۔
’’ اس طرح نہیں بولتے ،میں تمہاری دادی ہوں۔‘‘ وہ اسے ڈانٹتے ہوئے بولیں ۔
فواد کی زبان پر عجیب قسم کے الفاظ چڑھ گئے تھے، وہ دوران گفتگو عامیانہ جملے ادا کرنے لگا تھا۔
’’اچھا دادی جان! آئندہ نہیں کہوں گا ۔‘‘ فواد نے کہا اور کھیلنے کےلیےباہر نکل گیا۔
فواد کی امی کی وفات کے بعد دادی جان نے اس کی پرورش کی ذمہ داری سنبھال لی اور اسے کبھی ماں کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا۔ ادھر فواد کے والد صہیب اپنے بیٹے کی اچھی تعلیم و تربیت کےلیے سخت محنت کرتے، لیکن ان کے گھر کے ارد گرد کا ماحول اچھا نہ تھا۔ زیادہ تر لوگ ان پڑھ اور طرح طرح کی اخلاقی برائیوں کا شکار تھے۔ ان لوگوں کے بچوں کے ساتھ کھیلنے کودنے سے فواد کی پڑھائی ،عادات اور مزاج پر بھی گہرا اثر پڑا۔ اب وہ کھیل کود میں زیادہ، اور پڑھائی میں کم دلچسپی لیتا۔ ایک بڑی پریشانی یہ تھی کہ وہ اپنی گفتگو میں بُرے الفاظ استعمال کرتا اور اپنے دوستوں سے گالیاں دے کر بات کرنے لگا تھا۔ دادی اماں نے صہیب کو یہ سب بتایا تو وہ بھی فکر مند ہو گئے،لیکن صہیب صاحب کی بزنس کی مصروفیات نے انہیں موقع نہ دیا ، کئی مرتبہ سوچا لیکن عملا ًکچھ کر نہیں سکے ۔
بدلتے زمانے کی مصروفیات ہی ایسی ہیں کہ انسان اپنی ترجیحات متعین نہیں کرپاتا اور برف کی طرح وقت پگھل جاتا ہے ،ریت کی طرح بچوں کی عمریں پھسل جاتی ہیں ۔
صہیب نے بھی فواد کے لیے سوچا بہت عملاً کچھ کرنے کے وقت نہ مل سکا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے فواد کالج میں داخلہ لینے کالج پہنچ گیا ۔ جب بچوں میں بچپن سے نشست و برخاست سلیقہ، ادب و تمیز، الفاظ کے برتنے کا سلیقہ سکھایا نہ جائے تو وہ عامیانہ انداز ہر جگہ روا رکھتے ہیں ان میں تمیز ہی نہیں آ پا تی فواد کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ۔
آج ایک اچھے کالج میں داخلے کےلیے انٹر ویو دینے گیا۔ فواد کی باری آئی تو وہ پورے اعتماد سے ان کے سامنے پہنچا۔ پرنسپل صاحب سے بات کرتے ہوئے ایک سوال کا جواب فواد نے نہایت عامیانہ انداز میں دیا اور اس دوران بُرا الفظ بھی اس کے منہ سے نکل گیا۔ اس پر پرنسپل صاحب نے کہا ’’ہم تم جیسے بد اخلاق لڑکے کو داخلہ دے کر اپنے کالج کا ماحول خراب نہیں کریں گے۔ اب تم جا سکتے ہو۔‘‘
پرنسپل صاحب نے فیصلہ سنا دیا، فواد کمرے سے نکل گیا۔ گھر پہنچنےکے بعددادی نےاس کا اُترا ہوا چہرہ دیکھ کر شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس کی آنکھیں بھر آئیں اور اس نے انہیں سب کچھ بتا دیا۔
’’دیکھو بیٹا! زندگی میں اگر ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اورہم اسے دور کر لیں تو یہی بات ہماری کامیابی کی ضمانت بن جاتی ہے۔‘‘دادی نے پیار سے کہا۔
’’ تم کسی دوسرے کالج میں داخلہ لے سکتے ہو۔ اب اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے آگے بڑھو۔ کامیابی تمہارا انتظار کر رہی ہے۔‘‘ دادی نے مسکراتے ہوئے کہا تو فواد نے ان سے معافی مانگی اور کہا کہ وہ اب برے لڑکوں کی صحبت سے دور رہے گا اور ہر چھوٹے اور بڑے سے اچھے انداز میں سلیقے کے ساتھ بات کرے گا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری