۲۰۲۳ جنوری

درد کے دن بھی کسی طور گزر جائیں گے
ان میں ہم لوگ نہ بکھرے تو سنور جائیں گے
سانس لینے سے فقط عمر تو گزرے گی نہیں
ہم اگر خواب نہ دیکھیں گے تو مر جائیں گے
دل سمندر ہے سو کیا خوف سفر کرنے میں
جب کنارہ کوئی آیا تو اتر جائیں گے
خواب میرے تو مرے شہر سے واقف ہی نہیں
میری آنکھوں سے نکل کر یہ کدھر جائیں گے
شعر میرے کہ مری ذات کا حصہ تو نہیں
میرے جلنے سے ذرا اور نکھر جائیں گے

1 Comment

  1. Ayesha

    ماشاءاللہ بہت خوب

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری