۲۰۲۳ جنوری
سوال :
ایک لڑکی نکاح کے چند برس کے بعد بیوہ ہوگئی۔ اس کے دو چھوٹے بچے ہیں۔ بچوں کا کوئی کفیل نہیں ہے۔ سسرال کے لوگ انھیں بوجھ سمجھ رہے ہیں اور ننھیال میں کوئی ان کی کفالت کے لیے تیار نہیں ہے۔ بچوں کی کفالت کے پیش نظر وہ لڑکی دوسرے نکاح سے انکار کر رہی ہے۔ کیا اس کا ایسا کرنا درست ہے؟
جواب:
اسلام میں نفقات کا ایک نظام بنایا گیا ہے اور ذمے داروں کو ان کی پابندی کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۃ البقرۃ میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر زوجین میں علیٰحدگی ہوگئی ہو اور ان کا کوئی بچہ دودھ پینے کی عمر کا ہو تو ماں کی ذمے داری ہے کہ وہ اسے دو سال تک دودھ پلائے اور باپ پر لازم ہے کہ اسے (یعنی بچے کی ماں کو) اپنی وسعت کے مطابق کھانا کپڑا دے۔ اس کے آگے کہا گیاہے:
وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِک(البقرۃ: 233)
(یہ حق جیسا بچے کے باپ پر ہے، ویسا ہی اس کے وارث پر بھی ہے۔)
یعنی اگر بچے کے باپ کا انتقال ہوجائے تو اس کے وارث (یعنی بچے کے وارث یا باپ کے وارث) کو یہ حق ادا کرنا ہوگا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کی کفالت کی ذمہ داری ان کے ددھیال والوں پر ہے۔ دادا زندہ ہے تو اسے ان کے کھانے،کپڑے اور دیگر ضروریات کا انتظام کرنا چاہیے۔وہ زندہ نہیں ہے تو چچا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کہ اس معاملے میں مسلم سماج میں ذمے داری کا احساس نہیں پایا جاتا۔ کوئی عورت بیوہ ہوجائے تو اس کے بچے بے یار و مددگار ہوجاتے ہیں۔ نہ سسرال میں کوئی اس کا اور بچوں کا پُرسانِ حال ہوتا ہے اور نہ میکے والوں کی وہ توجہ حاصل کر پاتی ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے اس شخص کی فضیلت بیان کی ہے جس کی لڑکی طلاق یا بیوگی کی وجہ سے اس کے پاس لوٹ کر آجائے اور وہ اس کی ضروریات پوری کرے۔ حضرت سراقہ بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے دریافت کیا: ’’اے سراقہ! کیا میں تمھیں سب سے زیادہ فضیلت والے صدقہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘
انھوں نے جواب دیا: ہ’’اں، اے اللہ کے رسول ﷺ ،! ضرور بتائیے۔ ‘‘
آپؐ نے فرمایا:
’’اِبنَتُکَ مَردُودَۃٌ اِلَیکَ، لَیسَ لَھَا کَاسِبٌ غَیرُکَ‘‘(مسنداحمد: 17586)
(تمہاری بیٹی تمھارے پاس لوٹ کر آجائے اور اسے کما کر کھلانے والا تمہارے علاوہ اور کوئی نہ ہو۔)
اگر بچوں کی کفالت سے ان کے سرپرست جی چرا رہے ہوں، جس کی وجہ سے عورت ہی کو جدّو جہد کرنی پڑتی ہو، ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وہ مشقت اٹھا رہی ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ اس کے دوسرا نکاح کر لینے کی وجہ سے اس کے بچے ضائع ہوجائیں گے اور ان کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہ ہوگا، اس وجہ سے وہ اپنا نکاح کرنے کی فکر نہ کرے اور اگر اسے نکاح کی پیش کش کی جائے تو انکار کردے، اس صورت میں ان شاء اللہ وہ بارگاہِ الٰہی میں اجر کی مستحق ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی کو ملاتے ہوئے ارشاد فرمایا:
أنَا وَامرَأۃٌ سَفعَائُ الخَدَّینِ کَہَاتَینِ یَومَ القِیَامَۃِ، اِمرَأۃٌ ذَاتَ مَنصَبٍ وَجَمَالٍ آمَت مِن زَوجِہَا حَبَسَت نَفسَہَا عَلَی أیتَامِہَا حَتّٰی بَانُوا أو مَاتُوا۔(مسنداحمد: 24006)
(میں اور جھلسے ہوئے رخساروں والی عورت روزِ قیامت اس طرح ہوں گے۔ یہ وہ عورت ہے جوجاہ و منصب اور حسن وجمال کی مالک تھی، لیکن بیوہ ہونے کے بعد اس نے (دوسرا نکاح نہیں کیا اور)خود کو اپنے یتیم بچوں کی کفالت میں مصروف رکھا، یہاں تک کہ وہ بڑے ہوکر اس سے الگ ہوگئے یا ان کا انتقال ہوگیا۔)
بہر حال عورت کو کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کی کفالت کا کوئی معقول انتظام ہوجائے اور اس کا دوسرا نکاح بھی ہوجائے۔ بغیر شوہر کے رہنا عورت کے لیے آزمائش کا سبب بنتا ہے، اس کی عزت و عصمت غیر محفوظ رہتی ہے اور اس کی ضروریات ِ زندگی بھی صحیح طریقے سے پوری نہیں ہوپاتیں۔ کوشش کی جائے تو کوئی ایسا مرد مل سکتا ہے جو اس سے نکاح کرکے اسے تحفظ فراہم کرے اور اس کے بچوں کا بھی سرپرست بننے پر تیار ہوجائے۔ اس معاملے کو حقیقت پسندی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چنانچہ اگر کسی نوجوان یا غیر شادی شدہ شخص سے نکاح نہ ہو پارہا ہو تو کسی ایسے شخص سے نکاح پر تیار ہوجانا چاہیے جو شادی شدہ ہو اور دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہو ، یا اس کی بیوی کا انتقال یا اس سے علیٰحدگی ہو گئی ہو۔

ویڈیو :

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری