۲۰۲۳ جنوری
زمرہ : النور
اسلام مکمل نظام حیات ہے۔ معاشرتی حقوق کے ضمن میں لاوارث، یتیم و نادار بچوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ان کی مکمل کفالت و حقوق کی پاسداری کا حکم دیا گیا۔ یتیموں کے حقوق کی پامالی پر وعید سنائی گئی۔ یتیموں کے حقوق کی ادائیگی پراسلام نےبہت زور دیا ہے۔اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں 23 مقامات پر یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کرنے ، ان کی حفاظت کرنے اور ان کی نگہداشت پر زور دیا گیا۔
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وسلم : أَنَا وَکَافِلُ الْيَتِيْمِ فِي الْجَنَّةِ هٰکَذَا وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطٰی، وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.(الصحیح للبخاري)
(حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوںگے ۔پھر اپنی شہادت والی انگلیاور بیچ کی انگلی کو کشادہ کیا۔‘‘)
مذکورہ حدیث بشارت دیتی ہے یتیم کی نگہداشت پر فردوس بریں کی ۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرے اس کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں(الصحیح لمسلم )
لیکن المیہ یہ ہے کہ آج مسلم گھرانوں میں کفالت یتیم اور نگہداشت یتیم معدوم ہوچکی۔یتیم خانے وجود میں آئے۔
احتساب کی ضرورت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یتیم تھے۔
’’ الم يجدك يتيما فاوى‘‘
آپ کی نگہداشت کے ذرائع بنائے اللہ نے، پھر اس نگہداشت کو احسان عظیم گنوایاگیا ،تاکہ امت یتیموں کے معاملے میں بےپرواہ نہ رہے۔ آپﷺ نے فرمایاکہ مسلمانوں کا بہترین گھر وہ ہے ، جس میں یتیم زیر کفالت ہو،اس سے حسن سلوک کیا جاتا ہو۔مسلمانوں میں بد ترین گھر وہ ہے جس میں یتیم زیر کفالت ہو اور اس سے بد تر سلوک کیا جاتا ہو۔
( مشکوۃ )
یتیم کے حقوق پر اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں تئیس مختلف مواقع پر یتیم کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، اُن کے اموال کی حفاظت اور اُن کی نگہداشت کی تلقین کی گئی ہے، اور اُن پر ظلم و زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق و مال غصب کرنے والے کے لیے وعیدبیان کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
’’یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔‘‘ (سورۃ الدھر)
افسوس کہ لوگ اس کی بھی پروا نہیں کرتے۔ عموماً یتیم بچے اپنے تایا، چچا وغیرہ کے ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں ، انہیں اِس حوالے سے غور کرنا چاہیے۔ارشاد ربانی ہے:
’’جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں داخل کیے جائیں گےاور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ
(اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔‘‘( سورۃ النساء )
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا رشتے دار ہو یا غیر، جنت میں اس طرح ہوں گے، جیسے یہ دو انگلیاں۔(الصحیح لمسلم)
امام مالکؒ نے اس حوالے سے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔یتیم ہونا انسان کا نقص نہیں ،بلکہ منشائے خداوندی ہے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اللہ اس بچے کو یتیم کرکے دراصل اس کے رشتہ داروں کی آزمائش کرنا چاہتاہے ۔انسانی ہمدردی کو اللہ تعالیٰ سماج میں رواج دینا چاہتا ہے ۔
حضرت اسماء بنت عمیسؓ فرما تی ہیںکہ جس دن حضرت جعفر ؓ شہید ہوئے، رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے، میں اس وقت چالیس کھالوں کی دباغت کر چکی تھی اور آٹا پیس کر بچوں کو نہلا دُھلا کر تیل مل چکی تھی کہ اتنے میں حضور ﷺ تشریف لے آئے۔آپؐنے فرمایا: ’’اسماء جعفر کے بچے کہاں ہیں ؟ ‘‘میں نے بچوں کو حاضر کردیا۔ حضور ﷺ نے بچوں کو سینے سے لگایا اور معاً آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ رو پڑے۔ میں نےعرض کیا:’’ یارسول اللہ! شاید آپ کو جعفرؓ کی طرف سے کچھ خبر آئی ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا : ’’ہاں، وہ آج شہید ہوگئے۔‘‘ یہ سن کر میں چلانے لگی تو عورتیں جمع ہوگئیں۔ حضورؐنے فرمایا: ’’اسماء! لغو نہ بول اور سینہ نہ پیٹ۔‘‘ (طبقات ابن سعد)

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری