۲۰۲۳ جنوری
(تاثرات :اجتماع ارکان مہاراشٹر 25,26,27 ،مرتضیٰ پور)
جب ہماری رکنیت منظور ہوئی ، کورونا کا قہر اپنے عروج پر تھا۔لاک ڈاؤن کا راج تھا۔ ہمیں حسرت تھی کہ ارکان اجتماع کب ہوگا اوراس میں ہماری شرکت ہو بھی سکےگی کہ نہیں؟
جب حالات سازگار ہوئے، اجتماع کا پلان سامنے آیا۔دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ الحمدللہ رب العالمین۔پروگرام Pdf کی شکل میں واٹس ایپ پر پہنچ چکا تھا۔ ہم نے پہلا کام یہ کیاکہ اس کا پرنٹ آؤٹ نکلوایا ۔اشارات زندگی نو کا مطالعہ لاک ڈاؤن میں شروع کرچکےتھے،جو ہمارے لیے قابل فہم تھے(راستہ اور منزل والے ) سچی بات تو یہ کہ اس کے بعد والے اشارات کو سمجھنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی،ا سٹڈی سرکل اور گروپ ڈسکشن ارینج کیے گئے۔
’’عقلمند پر لازم ہے کہ زمانہ شناس ہو۔‘‘پروگرام کاپی میں یہ پڑھ کر اور روبرو سوالات وجوابات سن کر ایسا گمان ہورہا تھا ،گویا امیر جماعت (یک استاد کی طرح ) ارکان شرکاء سے اسٹیج سے سوالات کریں گےاور ہم کو جواب نہ آئے تو رکنیت سے خارج کر دینگے۔
اللہ ! ہم نکمے سہی ،پر جماعت سے وابستہ رکھنا کہ جماعت سے ہم عشق رکھتے ہیں۔اللہ جزاے خیر عطا فرمائے عبدالجلیل سر کو۔ منتخب اشارات کی فوٹوکاپی ہمیں فراہم کیا۔ہم خواتین نے بھی خوب اسٹڈی کی۔ مشکل الفاظ لکھ لیے، ایک عنوان کو سمجھنے کے لیے تو شہریت پڑھی، گوگل کا سہارا لیا۔بقول بچوں کے: ہماری امیاں تو اجتماع ارکان کی ایسی تیاری کر رہی ہیں گویاNEET کا امتحان درپیش ہو۔
بروز پیر دوپہر 1 بجے ہمارا سفر بذریعہ ٹرین شروع ہوا ۔ ناندیڑ ارکان کا باہمی خلوص و محبت کا عملی مظہر سامنے آیا۔ناظم ِسفر کا نظم اور ناظمہ صاحبہ ملکہ فردوس باجی کا ہر ایک کا خیال دیدنی تھا۔اللہ انھیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ الحمدللہ رات 9 بجے ہم مرتضیٰ پور پہنچ گئے۔انتظامات کےکیا کہنے! ذمہ داران کی محنت و مشقت کا ثمرہ اللہ دونوں جہاں میں عطا فرمائے۔اجتماع کو کامیاب بنانے میں انھوں نے کوئی کسرنہیں چھوڑی،اور امیر جماعت کا یہ قول یاد آگیا :’’اچھی تقریروں سے، اچھے انتظامات سے ،اچھے اسکرین سے ،لذیذ کھانوں سے اجتماعات کا میاب نہیں ہوتے بلکہ ارکان کے کردار سے جماعت سے تعلق میں مضبوطی کی بنیاد پر کامیاب ہوتے ہیں۔‘‘( زاد راہ ،نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہوجا )
آخر وہ دن آگیا جس کا تھا انتظار
وقت سے پہلے ہم آڈیٹوریم پہنچ گئے تھے۔نہایت ہی ترتیب سے رکھی سفید فارم نشستیں،سادگی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ بڑا سا اسٹیج ،ہم آڈیٹوریم کا جائزہ لینے لگے ،کبھی ڈائس کو تکتے کبھی داخل ہوتی خواتین کو۔پروگرام کاپی پر نظر دوڑائی،سب سے پہلے درس قرآن، کیا خوبصورت ٹائٹل دیا گیا تھا’’قرآن کی صحبت میں!‘‘
دل نے اپنے آپ کو ٹٹولا، دیکھو تم قرآن کی صحبت میں جارہے ہو۔اپنے آپ کو اس کا اہل بناؤ۔پھر کیا تھا ،دل کی کیفیت بدل گئی، جسم و ذہن یکسو ہوگیا۔
مولانا الیاس خان فلاحی صاحب کے درس (سورہ آل عمران کی آیت 159 تا 163 )نے دل کی زمین کو ہموارکردیا۔
اللہ رب العزت نے رسول اکرم ﷺ کی ذات کو پیکر رحمت بنایا۔قرآن اللہ کی رحمت کا مظہر ہے۔ہم رسول اکرمﷺ کے پیغام کے امین ہیں۔انسانیت کی رہنمائی کے لیے امت مسلمہ کا ہر فرد اور جماعت سے وابستہ فرد خصوصاً اپنے آپ میں قائد ہے، رہنما ہے۔قائد کے لیے نرم خوئی لازمی ہے۔اس صفت کو اپنانے کے لیے قرآن کی صحبت واقعی کارگر ہوتی ہے۔ اللہ کا کلام مشفق مدرس کا موعظہ دلوں کو چھو رہا تھا۔

ایماں ملا، اخلاق ملا قرآں کی بدولت عالم کو
شاہوں کے بھی آنسو بہہ نکلے قرآں کی خطابت کیا کہیے

محترم امیر حلقہ کے افتتاحی کلمات بھی خوب تھے۔ایماں شمع ہے۔جس تحریک کو ہم لیکر چلنا چاہتے ہیں، اقامت دین کے جس عظیم مقصد کو ہم لےکر چلنا چاہتے ہیں، بس اس کو جلا بخشنے کی یہ کوشش ہے۔اجتماع ارکان کا مقصد اپنے مقامات پر جاکر اپنے تحریکی کاموں کو تیز تر کرنا ہے۔ زندہ قومیں اپنا جائزہ لیتی ہیں، احتساب کرتی ہیں۔جس طرح سفر کے دوران مسافر Milestone پر پہنچ کراپنے سفر کا سنجیدہ جائزہ لیتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر نے بھی ایسا ہی کیا۔قابل اطمینان پہلو بھی دیکھے۔قابل توجہ پہلو پر بھی غور کیا،اہم شخصیات کی رائے بھی معلوم کی۔
اب باری تھی قیم جماعت ٹی عارف علی صاحب کی۔محترم نے بہت اچھا تبصرہ کیا۔ہمارے وژن اور مطلوبہ کردار پر خوب مشفقانہ رہنمائی کی۔Gio اور Sioکا ذکر نہ کرنے پر کہا کہ یہ تو ایسا ہوا جیسے Nucleus کی بات تو کی گئی لیکن Electrons کا ذکر نہیں کیا گیا۔بہت ہمت افزا بات کہی کہ دنیا میں ہمیشہ انقلاب اقلیت( Minorities ) نے لایا ہے۔فرد کا ارتقاء ، معاشرے کا اچھا شہری ، اسلامی اجتماعیت کی تشکیل ؛یہی مقامی جماعت کی کوشش ہونی چاہیے۔وہیں فرد جماعت کی یہ ذمہ داری ہےکہ نئے مقام پر اپنے بیج ڈالے، افراد کو ڈھونڈے اور متحرک کرے۔
اب وقت آگیا تھا کلیدی خطاب کا۔امیر جماعت محترم سید سعادت اللہ حسینی خوب اچھی طرح حالات حاضرہ میں جماعت اسلامی کی معنویت سمجھارہے تھے۔پہلے حالات کا مختصر نقشہ کھینچا۔شکوے ،نوحے، فسادیوں کا شور اور نیتاؤں کی چالبازیوں کا ذکر کیا، پھر تسلی دی کہ یہ سطح سمندر کا شور ہے۔ہندتوا انتہا پسندی سے ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ، یہ سب Superficial ہے۔ بہت جلد گرد وغبار صاف ہوگا۔امت مسلمہ دو ملین انسانوں کا ٹھاٹیں مارتا سمندر ہے۔دنیا کی کوئی طاقت انھیں مٹا نہیں سکتی۔شرط یہ ہےکہ اسلام کے ماننے والے وقتی مسائل سے اٹھ کر اسلام کے پیغام کے علمبردار بن کر اٹھیں ،ہر طبقہ ہر گروپ کے لیے اسلام کا پیغام لے کر اٹھیں۔آج امت کا اصل مسئلہ تحفظ و بقا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں مسلمانیت باقی نہیں ہے، یہ فکر و تشویش کی بات ہے ۔جس مقصد کےلیے یہ امت اٹھائی گئی ہے اس کا شعور اسے ہو جائے۔ دفاعی مقصد کےلیے مسلمانوں کو متحد نہیں ہونا ہے بلکہ رب کے عائد کردہ حکم پر متحد ہونا ہے۔ مسٹر و مولوی کو جوڑنا یہی مقصدی وحدت ہے۔اسلامی تعلیمات کا معاشرے میں Demonstration ہو ۔برادران وطن سے گفتگو کے ذریعے ہی تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں۔محترم مقرر نے اصل کام اسے ہی کہا۔جماعت اسلامی کی معنویت کے تعلق سے بہت ہی اہم بات آپ نے فرمائی کہ رائےعامہ(Public Openion) بنانا ہوگا۔
1.Ideas generate
2.Ideas propogate
3.Ideas demonstrate
کرنےہوںگے۔ہماری فکر جتنی مضبوط ہوگی، ہمارا کام اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ اسی کے ساتھ پہلے دن کے پہلے سیشن کے اختتام کا اعلان ہوا۔نماز ظہر و طعام کے لیے وقفہ تھا۔
ہم نے طے کرلیا تھا نماز وطعام سے فراغت کے بعد وقت سے پانچ منٹ قبل آڈیٹوریم پہنچ جائیں گے۔مگر یہ کیا! ہم سے قبل کئی بہنیں اپنی نشستوں پر براجمان تھیں۔سورہ الفتح آیت نمبر 28,29سے دوسری نشست کا آغاز ہوا۔انہی آیات کی روشنی میں آگے کا پروگرام بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ ترتیب دیا گیا تھا ۔Youth friendly movement کے تصور کو Youth friendly well known speakerایس امین الحسن صاحب نے صرف 13 منٹ میں کئی قیمتی باتیں پیش کیں۔
’’جہاں زمانے کی قدریں بدلی ہیں وہیں صالح نوجوانوں کی ترجیحات بھی دین کی خاطرخوب بدلی ہیں۔ ‘‘سینیئرز کا اس فراخدلی سے سراہنا، واقعی نوجوانوں کو اپنے مقصدیت اور بزرگوں سے تعلق خاص میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ کاش کہ حکمت کو سمجھے کوئی!
لیجیے، اسی حکمت عملی کے تحت پینل کم اوپن ڈسکشن بھی رہا۔چار مرد ارکان کے ساتھ ایک خاتون کی شمولیت، جماعت میں خاتون کی رائے کی اہمیت کو درشا رہا تھا۔تنظیمی سیشن کی ترتیب اب بدل گئی تھی۔’’۔تحریک اسلامی :عوام کی خاطر ،عوام کے درمیان ‘‘ اس موضوع پر چار منتخب رفقاء نے توفیق اسلم صاحب سے سوالات کیے اور حسب توقع محترم نے آسان اورعام فہم جوابات دیے ۔
نوجوانوں کی جماعت میں شمولیت،بزرگوں کا نوجوانوں پر اعتماد کرنا،رسک لینا اور ان کو صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے مطابق کام دینا۔اور میں نے اس تنظیمی سیشن سے سمجھا، کیسے کونپل نکلتی ہے پھر گدراتی ہے اور اپنے تنے پر کھڑی ہوتی ہے۔اور پھل پھول کر کسان کو خوش کرتی ہے۔یہی ماحول تحریک میں نظر آرہا ہے ، جس کا سلوگن میقات کے ابتدا میں دیا گیا تھا:
Younger generation
Stronger generation
Wider generation
اللہ رب کریم اسے نظر بد سے بچائے۔عصر تا مغرب کےوقفے میں چائے سے ریچارج ہوکر تمام ہی ارکان مقررہ وقت پر پہنچ گئےتھے۔ نظریاتی سیشن سورہ شوریٰ کی آیت نمبر 36 تا 43 کی صحبت میں رہا۔’’جدید جاہلیت :ملکی تناظر میں‘‘ اس عنوان کے تحت 4 شرکاء نے ہندتوا ،کارپوریٹ ازم،اتھاریٹز م،پاپولرزم پر دیے گئے وقت میں اپنی بات پیش کی۔آخر میں جناب عبد السلام پتگے نے تبصرہ و رہنمائی فرمائی۔ میں نے انھیں پہلی مرتبہ سنا اور دیکھاہے۔ جتنا بڑا ان کا تعارف تھا، اتنی ہی آسان ان کی رہنمائی تھی۔آپ نے فرمایا:
جاہلیت کی اصطلاحیں نئی ہیں مگر فلسفہ پرانا ہے۔منوواد نے ہندتوا کا ماسک لگایا ہے۔عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنا Authoritirism ہے۔ مونارکی ہےڈکٹیٹرشپ ہے۔تاریخ میں فرعون اس کی مثال ہے۔قارون Capitalism ہے۔سامری Popularism کی مثال ہے۔عوام میں مقبولیت کے لیےنفسیاتی اپیل چاہیے۔ ان کی سب سے اہم بات جو مجھے لگی:
’’وحی آتے ہی سارے بت گر نہیں گئے، بلکہ اس کے لیے جدوجہد کرنی پڑی، پلاننگ کرنی پڑی، دعائیں کی گئیں ،بہت کشمکش برپا رہی، پھر اللہ کی مدد آئی اور باطل مٹ گیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس میں آپ کا Contribution کیا ہے؟‘‘
میں تو حیران رہ گئ وارتا بھارتی کے ایڈیٹر صاحب کےاردو تلفظ ا ور کئی برجستہ اشعار پر۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات صرف تغیر کو ہے زمانے میں
جو کہتا ہے کہ جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے، اس میں روحانیت کی کمی ہے،وہ زید ایوبی صاحب کی یہ تذکیر بالحدیث سن لے:
’’محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمھارا حساب لیا جائے۔‘‘
اجتماع کا پہلا دن اپنے اختتام کو تھا۔مولانا آخرت کی منظر کشی کر رہے تھے ، خوف خدا اور جوابدہی کا احساس جگا رہے تھے۔اور تمام شرکاء اپنے من میں ڈوبے اپنا احتساب کر رہے تھے۔

ویڈیو :

آڈیو:

4 Comments

  1. ابو میسرہ

    ماشاءاللہ۔۔بہترین عکاسی ۔۔۔

    Reply
    • T Azeez Luthfullah

      Masha Allah Inspiring write up/ Eagerly waiting for the next part.

      Reply
    • سہیل بشیر کار

      Beautifull

      Reply
  2. سلمیٰ بتول

    ماشاء اللہ قلمکارنےاجتماع کا ایسا نقشہ کھینچا کہ تاثرات پڑھتے ہوئے میں اپنے آپ کو اجتماع گاہ میں مقررین کوسنتے ہوئے محسوس کررہی ہوں
    اللہ تعالیٰ آپکےزورقلم میں اور طاقت دے آمین

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری