۲۰۲۳ جنوری
گجرات فسادات کے دوران اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنائی جانے والی متاثرہ بلقیس بانو کی ایک عرضی کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا ہے۔ خبروں کے مطابق عرضی میں اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کوبلقیس بانو کے مجرمین کو معاف کرنے کا اختیار دیا تھا۔
واضح رہے کہ گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کو اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا تھا، اس وقت وہ امید سے تھیں۔ اس اندوہناک واقعے کے دوران ان کے خاندان کے 7 افراد کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا ، جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے۔ بلقیس بانو کے 11 مجرمین کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی،لیکن ریاستی حکومت نے 15 اگست کے دن انھیں معاف کرتے ہوئے رہا کر دیا تھا۔ انھیں ’’سنسکاری‘‘ کا لقب دیا گیا اور رہائی کے بعد انھیںہار پہنا کراور مٹھائیاں کھلا کر مبارک باد دی گئی تھی ۔
رہا کیے جانے والے تمام مجرمین گودھرا جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ رہائی کے اس فیصلے کو کئی سماجی و سیاسی رہنماؤں سمیت عوام کی طرف سے بھی زبردست تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ مجرمین کی رہائی کی خبر سے دل برداشتہ بلقیس بانو نے امید کا دامن پھر بھی نہیں چھوڑا، اور انصاف کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں داخل کیں ۔ سپریم کورٹ نے بلقیس بانو کی اس درخواست کو مسترد کردیا ہے، جس میں گجرات حکومت کو مجرمین کی معافی پر غور کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ خبروں کے مطابق اس عرضی پر سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی سپریم کورٹ کی جج جسٹس بیلا ایم ترویدی نے بغیر وجہ بتائے خود کو الگ کرلیا تھا۔
ایسے حالات میں جب کہ ملک میں عصمت دری کے واقعات بڑھتے ہی جارہے ہیں ، بلقیس بانو کے مجرمین کی رہائی اور انہیں’’ سنسکاری‘‘ کہہ کر ان کا دفاع کرنا ، جہاں انصاف کے لیے تگ ودو کر رہی بلقیس بانو کے لیے ایک صدمہ ہے ،وہیں سماج کے درندوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بھی ہے۔
شاید ہی ایسا کوئی دن ہو جب عصمت دری کے واقعات کی خبریں پڑھنے کو نہ ملی ہوں۔ سماج میں گھوم رہے ان وحشی درندوں کے خلاف جب تک کوئی سخت ایکشن نہیں لیا جائے گا، تب تک ان واقعات میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عصمت دری کے کیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی بنا سست روی کے ہو اور متاثرین کے ساتھ انصاف کو یقینی بنایا جائے۔
بلقیس بانو کی عرضی خارج ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کا اس درخواست پر فیصلہ ابھی باقی ہے، جس میں بلقیس بانو اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ سفاک جرائم کے مرتکب مجرمین کی رہائی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ انصاف کی جس امید پر بلقیس بانو نے سپریم کورٹ میں گجرات حکومت کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، اس امید پر سپریم کورٹ کا فیصلہ کہاں تک پورا اترتا ہے۔

1 Comment

  1. Huma

    Insaf karnewala hai
    Allah behter

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری