۲۰۲۳ جنوری
معزز قارئین! ہم جانتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا تلاوت قرآن سے شغف کیسا تھا؟صحابۂ کرام کی زندگیاں قرآن کریم کی تلاوت سے منور اور اس کے احکام کی بجا آوری سےمزین نظر آتی ہیں۔نزولِ قرآن سے پہلے یہ لوگ زمانۂ جاہلیت کے اشعار گنگنایا کرتے تھے ،لیکن نزولِ قرآن نے ان کے ذوق کو بدل کر رکھ دیا، اور اشعار کی جگہ کلام الٰہی کی تلاوت نے لے لی۔اور وہ کیسا ذوق تھا کہ تیر بھی لگ جائے ،خون بھی بہہ پڑے، مگر تلاوتِ قرآن کی لذت ہر شے پر حاوی ہوجائے۔اسی شغف کی مثال ہمیں دور ِنبوی کے اس واقعے سے ملتی ہے۔
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس ہورہےتھے۔شب میں ایک جگہ آپ نے قیام فرمایا اور حفاظت کے لیے ایک مہاجر صحابی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ اور ایک انصاری صحابی حضرت عباد بن بشر رضی اللہ تعالی عنہ کو مقرر کیا۔ ان دونوں اصحاب نے باری مقرر کر لی کہ آدھی رات ایک آدمی پہرہ دے،دوسراسوئے، پھر پہلا سوئےاور دوسرا پہرا دے۔ رات کا پہلا حصہ حضرت عمار بن یاسرؓ کے جاگنے کا قرار پایا، آپ نے نماز کی نیت باندھ لی ۔دشمن کے ایک شخص نے دیکھا کہ کوئی آدمی کھڑا ہے تو اس نے تیر چلایا، وہ تیر ان کو لگا، مگر انہوں نے کوئی حرکت نہ کی اور نماز پڑھتے رہے ۔اس کے بعد یکےبعد دیگرے کئی تیر چلائے گئے ،آپ انہیں بدن سے نکال کر پھینکتے رہے، اور اطمینان سے نماز پوری کر کے اپنے دوسرے ساتھی کو جگا یا۔ انہوں نے حضرت عمار ؓکو زخمی دیکھ کر کہا کہ آپ نے مجھے فوراً کیوں نہ جگایا؟ تو حضرت عمار بن یاسرؓ نے بڑا ہی ایمان افروز جواب دیا، جو اُن کے قرآن کریم سے شغف اور تعلق کی دلیل ہے ۔ کہنے لگے’’میں نے سورہ کہف کی تلاوت شروع کر دی تھی اور میرا دل نہ چاہا کہ اسے ختم کرنے سے پہلے رکوع کروں،لیکن بار بار تیر لگنے سے مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں مر گیا تو وہ مقصد ہی فوت ہو جائے گا ،جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مقرر کیا ہے۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا تو میں مر جاتا لیکن سورۃ ختم کرنے سے پہلے رکوع نہ کرتا۔
( ابوداود، بیہقی)
الحمدللہ !ہمارے ملک میں بھی قرآن کریم سے عشق کی بہاریں جلوہ گر ہیں۔ اس ماہ ھادیہ قرأت مقابلے ریاست دہلی پنجاب اور ہریانہ میں کروائے گئے، جس میں تقریباً36 امیدواران نے حصہ لیا۔ قرأت مقابلے کے نتائج کی تقریب 17 دسمبر 2022 ءکی شام آن لائن منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں مہما نانِ خصوصی :ھادیہ کی چیف ایڈیٹر محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ اور ایڈیٹر محترمہ خان مبشرہ فردوس صاحبہ موجود تھیں۔ واضح رہے کہ ہمیشہ کی طرح یہ مقابلہ دو گروپس پر مشتمل تھا ۔گروپ A میں 10 تا 18سال کی طالبات نے حصہ لیا اور گروپB میں19 تا 30 سال کی خواتین و طالبات نے حصہ لیا۔ پروگرام کی ابتداء سورۂ رحمٰن کی دلکش تلاوت سے ہوئی، جسے عالیہ ظفر نے پیش کیا۔ بعد ازاں اس پروگرام کی نظامت کر رہی سعدیہ شبیبی صاحبہ نے محترمہ خان مبشرہ فردوس صاحبہ کو افتتاحی کلمات کے لیےمدعو کیا۔ تقریب میں شامل تمام ذمہ داران اور سامعین کا خیرمقدم کرتے ہوئے محترمہ نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ محترمہ نے ھادیہ ای میگزین کا تعارف کرواتے ہوئےکہا کہ اس میگزین کی منتظمین خواتین ہیں، لیکن یہ گھر کے ہر فرد کے لیے یکساں طور پر سود مند ہے۔ محترمہ نے میگزین کے بیشتر مشمولات کو اپنی اسکرین پر دکھایا، نیز زمرہ جات کواوپن کرتی رہیں اور دلکش وجامع انداز میں انہیں متعارف کرواتی رہیں۔ جس میں زمرہ النور،امید کے دیے،ٹی ٹائم،اکادمیا،کیس اسٹڈی،خواتین کی الجھنیں،ای استاد،معمار جہاں تو ہے ،اولاد کا مستقبل آپ کے ہاتھ ،سیاسی منظرنامہ،دسترخوان اور طنز و مزاح وغیرہ زمروں کو محترمہ نے اسکرین پردکھایا، نیز میگزین میں موجود اکثر مضامین کی آڈیوز کی بھی نشاندہی کی۔ علاوہ ازیں سبسکرائب کرنے کے طریقے سے بھی متعارف کروایا،تاکہ ھادیہ کے شمارے کی اطلاعات قارئین کو پابندی سے موصول ہوتے رہیں۔
محترمہ نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ ہر ماہ تقسیم انعامات کے پروگرام میں ھادیہ کو متعارف کروانے کا مقصدخاص یہ ہے کہ خواتین کی اس بیش قیمت کوشش کو آپ تک پہنچایا جائے تاکہ سامعین ہمیں باصلاحیت افراد تک پہنچائیں،جو خواتین و طالبات اچھا لکھ سکتی ہیں ان کے نام اور کانٹیکٹ نمبر تک ہماری رسائی ہو سکے۔ اس کے علاوہ جو بہنیں اچھا تلفظ ادا کرتی ہیں ان کے نام وائس اور کے لیے دیے جا سکتے ہیں، یا جو مائیں اپنے بچوں کو آرٹسٹ کے طور پر متعارف کروانا چاہتی ہیں ،وہ اپنے بچوں کی ویڈیوز ہمیں روانہ کریں۔ الحمدللہ ان ہی کوششوں کے باعث اب تک 1.1 ملین لوگوں تک ہمارا میگزین پہنچ چکا ہے ،اور آج وہ ہمارے میگزین کے قاری ہیں۔ ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اسے بے حد پذیرائی ملی ہے، جہاں جہاں اردو طبقہ پایا جاتا ہے ،وہاں وہاں اس میگزین کے شوقین اور دلدادہ نظر آتے ہیں۔ محترمہ نے مزید فرمایا کہ خواتین کے اس میگزین کو بام عروج تک پہنچانا قارئین کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
محترمہ نے مستقبل قریب میں ھاد یہ کے دو سال پورےہونے کےموقع پر اس تعلق سےمنعقد کیے جانے والے مختلف مقابلوں کا بھی تذکرہ کیا، جو قارئین تک سوشل میڈیا کے ذریعے متعارف کروائے جائیں گے۔ جس میں یکم مارچ سے پہلے پہلے بچوں کے ویڈیوز، مکالمے اور خواتین کے لیے تحریری مقابلوں جیسی سرگرمیوں کے ساتھ یہ تقریب منعقد کی جائے گی، ان شاءاللہ۔
پروگرام کا اگلا مرحلہ ھادیہ کے قارئین کے تبصروں پر مشتمل تھا، جس میں اولاً ڈاکٹر صنوبر جیلانی صاحبہ نے اپنا تبصرہ پیش کیا۔ محترمہ نے چیف ایڈیٹر صاحبہ،ایڈیٹر صاحبہ اور ھادیہ کی ٹیم کو سلام پیش کرتے ہوئے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ محترمہ نے ھادیہ کو وقت کی ایک اہم ضرورت گردانتے ہوئے بتایا کہ اس پرفتن دور میں ھادیہ سے جڑے رہنا خود کو ایک صحیح راستے پر گامزن کرنے کے مترادف ہے۔ محترمہ نے ماہ دسمبر کے شمارے پر تبصرہ کرتے ہوئےکہا کہ بدعنوانی اور استحصال سماجی ناسور ہے، حالات حاضرہ کےاسی ناسور کی نشاندہی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جس کا میگزین میں بڑی خوبصورتی سے احاطہ کیا گیا ہے۔ محترمہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ھادیہ فیملی میگزین کا درجہ رکھتی ہے، اس میں خواتین کے علاوہ بوڑھوں اور بچوں کے کالم بھی نظر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں ھادیہ ای قرأ ت مقابلے اس میگزین کے متحرک اور زندہ ہونے کی مثال ہیں۔ انسان کو اپنے آس پاس کے افراد کی نسبت خبروں سے تحریک ملتی ہے۔ اس کو ھادیہ میں قبول اسلام کی جانب آنے والی خواتین اور تحریک سے وابستہ خواتین کی خدمات کو بے حد مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ محترمہ نے خان مبشرہ فردوس صاحبہ کا تبصرہ جو امیرجماعت سید سعادت اللہ حسینی کی کتاب’’ہندتو انتہا پسندی :
نظریاتی کشمکش اور مسلمان‘‘ پر لکھا گیا ہے۔
محترمہ نے بطور خاص ذکر کرتے ہوئےکہا کہ یہ تبصرہ قاری کو کتاب کے مطالعے پر ابھارنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوا ہے، نیز محترمہ نے سمیہ ریاض فلاحی صاحبہ کے تحقیقی مضمون کی خوب ستائش کی۔ اسی طرح اکا دمیا کے تحت بچوں کے تعلیمی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کو بھی سراہا۔ جدید ٹیکنالوجی کے متعلق مسلم خواتین کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے بھی ھادیہ قابل مبارک باد ہے۔ میگزین میں نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ایک اہم قدم ہے۔ علاوہ ازیں فقہی مسائل ،دسترخوان،معاشرتی الجھنیں اور ان کے حل اس میگزین کو ایک مکمل میگزین بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر میں محترمہ نے ھادیہ اور اس کی ٹیم کو مبارکباد اور دعاؤں سے نوازا۔
اس پروگرام کی دوسری تبصرہ نگار شہزادی محمد سلمان تھیں۔ محترمہ نے قرآن کریم کی تلاوت سے اپنی بات کا آغاز کیا، بعد ازاں انہوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ ھادیہ ایک ایسا میگزین ہے جو تمام عمر کے افراد کی دینی نہج پر تربیت کرتا ہے۔ دنیا میں جینے کا سلیقہ سکھانے والا اور قبر کی منازل سے لے کر آخرت تک کے سفر کے لیے ھادیہ ایک رہنما میگزین ہے۔ محترمہ نے مزید کہا کہ ھادیہ نے ہمیں بچوں کو پیغمبرانہ ڈھنگ پر تربیت کرنے کے راز بتائے اور شوہرو بیوی کے حقوق کو تفصیلا ًواضح کیا۔
پروگرام کی آخری تبصرہ نگار پیاری اناوہ پرویز تھیں۔ قابل مبارکباد ہیں وہ گھرانے جو اتنے کم عمر بچوں کو ھادیہ سے رغبت دلاتے ہیں۔ پیاری اناوہ نے اپنے کلام کی ابتداء سلام سے کی، اورماہ دسمبر کے شمارے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انہیں ھادیہ میں بچوں کے کالم کے عنوانات بہت پر کشش لگتے ہیں نیز انہیں یہ کالم بہت پسند ہے۔عزیزہ سلمہاکو ’’چلو بچو پہاڑ پر چلیں!‘‘از محترمہ تحسین عامر صاحبہ، معلوماتی مضمون تھا،جو بہت پسند آیا۔ انہیں ھادیہ اس زاویے سے بھی خوبصورت لگا کہ جب وہ پڑھ نہیں پاتیں تو وہ اسے سن لیتی ہیں۔عزیزہ سلمہا کے مطابق یہ میگزین ہر لحاظ سے مفید ثابت ہو رہا ہے، اور قابل مبارکباد ہے ھادیہ ٹیم جو اتنی پابندی اور کامیابی کے ساتھ میگزین کو ہم تک پہنچا رہی ہے۔ اناوہ نے تمام رائٹرز کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وہ اتنے اچھے اچھے مضامین ھادیہ کے ذریعے ہم تک پہنچا رہے ہیں۔ آخر میں پیاری اناوہ نے ھادیہ اور ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور رخصت لی۔
تقریب کا اگلا مرحلہ انعامات کی تقسیم کاتھا ،جس کا بے صبری سے تمام امیدواران اور ان کے متعلقین انتظار کر رہے تھے۔ایونٹ آرگنائزر محترمہ نصرت خان شبیر صاحبہ نے تقسیم انعامات کے اعلانات کیے ۔گروپA میں اول،دوم اور سوم آنے والی طالبات کے نام بالترتیب عالیہ ظفر محمد ظفر (دہلی)،رومیسہ عبدالوحید (دہلی) اور مدیحہ انجم اوصاف احمد (دہلی) ہیں۔ اسی طرح گروپ B میں اول آنے والی امیدوار عائشہ تقدیس محمد ذوالفقار (دہلی)،دوم آنے والی امیدوار مستبشرہ عبید عبید الحق (دہلی) اور سوم آنے والی امیدوار مہ جبین محمدصابر (ہریانہ) ہیں۔
گروپ A اور B کے فاتحین کو بیسٹ قار یہ خطاب سے نوازا گیا۔ ساتھ ہی اول دوم اور سوم آنے والی امیدواران کو بالترتیب 2000, 1500 اور 1000 روپیے نقد دئیے گئے۔ نیز ھادیہ کے خصوصی مجلے’’ نقوش ھادیہ‘‘ سے نوازا گیا اور آل انڈیا فائنل مقابلے میں ان فاتحین کو حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا۔
تقریب کا اگلا مرحلہ محترمہ عطیہ صدیقی صاحبہ کے اختتامی خطاب کا تھا۔ محترمہ نے تمام بیسٹ قاریات اور مقابلے میں حصہ لینے والی خواتین وطالبات کو مبارکباد پیش کی۔ محترمہ نے فرمایا کہ قرآن کریم سے شغف بڑھانے کی اس صحت مند ایکٹیوٹی کو ایک وسیع سمندر کا کنارہ سمجھا جائے اور آگے کے سفر میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھا جائے اور اس کے مطابق زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کی جائے ،تبھی ہم اس سمندر کی کشتی کے کامیاب نا خدا بن سکیں گے۔ کیوں کہ یہ کتاب’’ ہدیً اللناس‘‘ ہے۔ یہ کتاب دنیا میں موجود تمام نظام ہائے باطل زندگی کا متبادل بطور اسلام پیش کرتی ہے، نیز دنیا و آخرت کی کامیابی کا انحصار اسی پر منحصر ہے۔
محترمہ نے ھادیہ کو ای میگزین بنانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران اور اس کے بعد بھی لوگوں میں سوشل میڈیا کا رجحان بے حد بڑھ گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا جہاں مفید اور کار آمد ہے،وہیں یہ مضر اور زحمت بھی ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ ارادہ کیا کہ خواتین کی مصروفیات مفید اور کارآمد عوامل میں صرف ہوں، اور وہ ھادیہ جیسے ای میگزین کی قاری بن کر اپنی اور اپنے افراد خانہ کی تربیت کر سکے۔ جس کی تفصیلات آپ ہماری ایڈیٹر صاحبہ اور تبصرہ نگار بہنوں سے سماعت فرما چکے ہیں۔
ایک عورت بے پناہ صلاحیتوں کا مجموعہ ہوتی ہے، وہ اپنے گھر کے علاوہ سماج میں بھی اپنی سوچ کو لاگو کر سکتی ہے۔ یہی وہ بات ہے جسے ہم ایک مثبت انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔ محترمہ نے مزید فرمایا کہ جو بہنیں اچھے خیالات رکھتی ہیں اور ان کے قلم بھی ان خیالات کو قرطاس کی زینت بنانے کا ہنر جانتی ہیں۔ وہ ضرور ھادیہ کے پلیٹ فارم کی زینت بنیں۔ یہ مفید کام ہمارے لیے صدقۂ جاریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اس پلیٹ فارم پر مختلف صلاحیت رکھنے والی خواتین کی ضرورت ہے جہاں Read Out سے لے کر کچن ٹپس اور تحقیقی مضامین لکھنے والی خواتین بھی مطلوب ہیں۔محترمہ نےاس خواہش کا اظہار کیا کہ اس میگزین کو آپ خود بھی پڑھیں اور اپنے جاننے والوں میں بھی اسے شیئر کریں، نیز ھادیہ ریڈرس گروپ سے افراد کو جوڑنے کی کوشش کریں۔محترمہ نے جاتے جاتے ایک بار پھر تمام امیدواران کو مبارکباد اور دعاؤں سے نواز ا۔
پروگرام کے آخر میں محترمہ میمونہ رؤف صاحبہ نے اظہار تشکر کے الفاظ ادا کیے۔ محترمہ نے چیف ایڈیٹر صاحبہ ایڈیٹر صاحبہ اور ھادیہ کے تمام معاونین کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا، نیز تمام امیدواران کو مبارکباد اور دعاؤں سے نوازا اور دعا کیا کہ اللہ رب العزت ہم تمام کو قرآن و سنت کو زندہ کرنے والی بنا دے اور ہمیں صالح اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ اسی کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

ویڈیو :

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری