۲۰۲۳ جنوری
262 صفحات کی زیر تبصرہ کتاب معروف دانشور، اینکر پرسن اور کالم نگار جناب خورشید ندیم نے اہم اور حساس موضوع پر مشہور و معروف محقق ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کی نگرانی میں لکھی ہے۔ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کا ماننا ہے کہ اسلام کے مفاخر میں سے ہے کہ اس دین کامل کا غلغلہ بلند ہوتے ہی تعلیم و تعلم سے ناآشنا خطے میں ایک انقلاب آگیا، جو مسلم قلمرو کے پھیلاؤ کے ساتھ بڑھتا ہی گیا، دین اسلام نے اپنے پیروکاروں میں جو سوچ پیدا کی وہ یہ کہ مسلمان جب طب، ریاضی، طبیعیات، کیمیا اور دوسرے علوم میں انسانی ورثے سے آگاہی حاصل کر رہے تھے؛ تو وہ دوسروں کے اندھے مقلد نہیں تھے، وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں : ’’اسلامی تہذیب کے نزدیک انسان کی سعی و جہد کی غایت حقیقی اللہ کی رضا کا حصول اور آخرت کی کامیابی اور سرخروئی ہے ،جبکہ آج کے غالب تہذیب کے نزدیک زندگی کے عملی مسائل میں اس کا وہ مقام ہے اور نہ آخرت ہی کو ہی امور حیات میں کوئی فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔‘‘(صفحہ : 12 ) اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج امت مسلمہ کیا کرے؟ ڈاکٹر ظفر اسحاق صاحب لکھتے ہیں: ’’انیسویں اور بیسویں صدی میں مسلمان اہل فکر و نظر نے اس موضوع پر کافی غور و خوض کیا ہے۔ اگر چہ ان اہل نظر کے درمیان جزئی تفصیلات میں مکمل اتفاق رائے نہیں پایا جاتا، لیکن ایک معتدبہ تعداد کا واضح رجحان یہ ہے کہ دور حاضر کے ذخیرۂ علم و دانش کے بارے میں ہمیں ایک مثبت تنقیدی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اسلام کے دیے ہوئے معیارات کی روشنی میں اس سرمائے کے رطب و یابس میں امتیاز کریں اور اسے ایک ایسے سانچے میں ڈھال دیں جو ہمارے ایمانی و تہذیبی رویے اور اخلاقی تصورات سے ہم آہنگ ہو۔ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں اس عمل کو انگریزی زبان میں Islamization of knowledge سے تعبیر کیا گیا، اور یہ اصطلاح بحیثیت مجموعی قبول کر لی گئی ہے۔ انگریزی زبان کی اصطلاح میں جس فکری رجحان کا اظہار ہے، اسے اُردو میں’’ علم کی اسلامی تشکیل ‘‘کا نام دیا گیا ہے۔‘‘(صفحہ : 13 ) اس موضوع پر مولانا مودودی، ڈاکٹر رفیع الدین، ڈاکٹر اسماعیل فاروقی، ڈاکٹر حسین نصر، ڈاکٹر نقیب العطاس نے خوب کام کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب اسی سلسلے کی اہم ترین پیش رفت ہے۔کتاب کے بارے میں وہ لکھتے ہیں: ’’میں سمجھتا ہوں کہ بحیثیت مجموعی اس کتاب کو علم کی اسلامی تشکیل کے موضوع پر دستیاب لٹریچر میں ایک مفید اضافہ تصور کیا جائے گا، اس میں اٹھائے گئے سوالات سنجیدہ غور وفکر اور اظہار خیال کا موضوع بنیں گے اور اُمت علمی امور میں ایک واضح جہت کا تعین کر سکے گی۔ اگر ایسا ہوا تو ہم اپنی اس کوشش کو رائیگاں نہیں سمجھیں گے۔‘‘ (صفحہ : 6) مصنف کتاب کے پیش لفظ میں رقمطراز ہیں : ’’مسلمانوں کے علمی تجربے اور پھر اہل مغرب کے علمی کام سے یہ بات واضح ہوگئی کہ علم جس معاشرتی اور تہذیبی روایت میں جنم لیتا ہے، وہ اس کے دائرے سے بالعموم با ہر نہیں لکھتا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان تمام علوم کو اسلام کے تہذیبی تناظر میں دیکھا جائے اور یہ تحقیق کی جائے کہ اس صورت میں ان کی موجودہ ہیئت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ ’’علم کی اسلامی تشکیل‘‘کی تحریک اسی سوال کا جواب ہے۔‘‘(صفحہ: 17) خورشید ندیم صاحب اسے مشکل امر تصور کرتے ہیں؛ لکھتے ہیں: ’’مغربی اہل علم کے علی الرغم مسلمان اہل علم کو یہ کام ایک ایسے تہذہبی پس منظر میں کرتا ہے جو اپنی اصل صورت میں کہیں موجود نہیں۔ انہیں پہلے ایک نظام تہذیب (Civilizational Paradigm) فرض کرنا ہے، پھر ایک خیالی سفر طے کرتا ہے اور خود کو ایک فرضی دنیا میں رکھ کر ان موضوعات کو دیکھتاہے ۔ دوسرے لفظوں میں انہیں در اصل ایک’’ جاوید نامہ‘‘ لکھنا ہے۔ جب معاملہ فرضیت پر منحصر ہو تو پھر بعض ایسے سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جو بصورت دیگر کبھی پیدا نہ ہوتے ۔ کیا علوم کی کسی اسلامی تشکیل کی ضرورت ہے؟ سائنس اور مذہب کا بنیادی تعلق کیا ہے؟ اقدار اور علم کیسے باہم مربوط ہوں؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سوالات اگر چہ مغرب میں بھی اٹھتے ہیں لیکن ان کی نوعیت دوسری ہے ۔ اہل مغرب کے ہاں ان کی علمی اہمیت ہے یا اس کا سبب وہ تین ہی اقتدار میں جو فطرت انسانی سے متصادم ہیں۔ مسلمان اہل علم کے لیے یہ علمی سے زیادہ عملی سوال ہیں، کیونکہ انہیں ایک ایسے تہذہبی پس منظر میں ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے ہیں ، جو ایک تاریخی واقعہ یا علمی موضوع ہے ، سطح زمین پر جس کے آثار تو ملتے ہیں ، کوئی مجسم صورت نہیں ملتی ۔ اب ایک تاریخی واقعہ کے بارے میں ایک سے زیادہ آراء کا ہونا ، ایک امر واقع ہے، اس لیے یہاں ایک سوال کے کئی جوابات ممکن ہیں۔‘‘ (صفحہ: 18) مصنف لکھتے ہیں کہ مسلمان اہل علم نے یہ کام ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر کیا، چونکہ یہ کام انگریزی میں ہوا؛ مصنف کی یہ کوشش رہی ہے کہ اردو میں ’’علم کی اسلامی تشکیل ‘‘کی تحریک کا تعارف پیش کیا جائے۔ مصنف نے کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔کتاب کے پہلے باب :’’علم، معاشرہ اور اسلام‘‘ میں انہوں نے علم کی تاریخ بیان کرتے ہوئے پہلے فسطائیت کی تاریخ بیان کرنے کے بعد سقراط کا تصور مثال سے سمجھایا ہے پھر انہوں نےجدید فلسفے کا دور جو کہ سولہویں صدی سے شروع ہوتا ہے، اس دور میں عقل اور تجربہ کو علم کی بنیاد بتایا گیا ہے، اس دور میں انہوں نے تھامس ہابز، ڈیکارٹ ،سپینور کے افکار کا مختصر مگر جامع تصور پیش کیا ہے، چونکہ ان سبھی مفکرین کے نزدیک علم کے ذرائع حواس اور عقل ہیں تو ظاہر ہے اس سے جو بھی علوم پیدا ہوں گے؛ وہ مادیت کے ارد گرد ہی گھومیں گے۔اس کے برعکس اسلام جو تصور دیتا ہے وہ دو جہانوں کا تصور ہے۔اس تصور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان کو ایسے علم کی ضرورت ہے جو اسے نہ صرف اس دنیا کے مصائب و آلام سے باخبر رکھے بلکہ اسے آنے والی زندگی میں پیش آمدہ خطرات سے آگاہ کرے اور ان سے محفوظ رہنے کی سبیل بتائے۔ آگے مصنف نے علم کے ماخذ کے تحت اسلام کا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔مصنف بتاتے ہیں کہ حواس اور انسانی عقل مادی تصور حیات اور اسلامی نظریۂ حیات میں مشترک ہے، قرآن کریم حواس اور عقل کو اپیل کرتا ہے، البتہ علم کے اسلامی نظریہ میں وہ وحی کی اہمیت بیان کرتا ہے، مصنف نے وحی کی تعریف، وحی کی صورتوںکی بھی اچھی وضاحت کی ہے، یہاں مصنف نے حواس اور وحی کا باہمی تعلق بیان کیا ہے۔اسی طرح مفید علم اور غیر مفید علم کی وضاحت بھی کی ہے۔اس باب میں مصنف نے مادی علوم اور اسلام پر خوبصورت نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ کتاب کے دوسرے باب: ’’علم کی اسلامی تشکیل‘‘ میں مصنف نے بتایا ہے کہ جب مسلمان مفکرین نے مسلمانوں کے زوال کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ وہ جدید علوم سے ناواقف ہیں، اس سلسلے میں مصنف ایک مسئلہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس سوال پر غور کرنے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی، علم جس معاشرے میں اور جن ہاتھوں کے ذریعے فروغ پاتا ہے وہ ان کے اثرات سے محفوظ نہیں ہوتا۔ علم کا اگر چہ اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا؟ لیکن جس صاحب علم کے توسط سے وہ انسانوں کو منتقل ہوتا ہے، اس کا مذہبی رویہ اور رجحان اس پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ نقطۂ نظر وجود میں آیا کہ علم جس معاشرے میں فروغ پاتا ہے اس کی معاشرتی، مذہبی، سیاسی اقدار سے اثر قبول کرتا اور ان کے تناظر میں آگے بڑھتا ہے ۔لہذا ،ہم علم کو اقدار سے آزاد (Value-free) قرار نہیں دے سکتے۔‘‘ (صفحہ : 61 ) مسلمانوں میں اس نقطۂ نظر کو جنہوں نے سب سے پہلے استدلال سے پیش کیا ہے، وہ ڈاکٹر اسماعیل فاروقی مرحوم ہیں، مصنف لکھتے ہیں :’’بیسویں صدی کی ابتداء میں، جب مسلمان اہل علم نے اس مسئلے پر غور شروع کیا توان کی بالعموم رائے یہ تھی کہ مسلمان اگر ان علوم کو اسی حالت میں قبول کر لیں، جس حالت میں وہ مغرب میں رائج ہیں تو اس سے ان پر ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کا نتیجۂ فکر یہ بھی تھا کہ مغرب میں جو علمی و فکری رجحان فروغ پذیر ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں ان عقائد اور افکار پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے، جو ہم آج تک مانتے چلے آ رہے ہیں۔‘‘ (صفحہ : 62) اس نقطۂ نظر پر ڈاکٹر اسماعیل فاروقی نے تنقید بھی کی اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ علوم کی اسلامی تشکیل سے کیا مراد ہے۔اس کے بعد مصنف نے علوم کی اسلامی تشکیل کے تحت چار بنیادی اصولوں (1. وحدت الہ 2. وحدت خلق 3. وحدت حق اور وحدت علم 4. وحدت حیات) کی تشریح کی ہے۔اس باب میں مصنف نے ڈاکٹر رفیع الدین، ڈاکٹر حسین نصر، ڈاکٹر فضل الرحمن، محمد نقیب العطاس کے افکار کو بھی پیش کیا ہے۔اس باب میں مصنف نے علم کی اسلامی تشکیل کے مختلف مباحث پر بھی روشنی ڈالی ہے۔مصنف لکھتے ہیں: ’’اس اعتبار سے ہماری رائے یہی ہے کہ علم کی اسلامی تشکیل کا مسئلہ محض نظری ہے اور نہ محض عملی بلکہ، اس کے دونوں پہلو ہیں۔ اگر یہ محض علمی مسئلہ ہوتا تو ایسے اداروں کا قیام لازم نہ ہوتا جہاں علوم کی تحصیل اس خاص زاویے سے کی جا رہی ہے اور اگر یہ مسئلہ نظری بنیادوں پر اچھی طرح غور و فکر کے مراحل سے نہیں گزرا تو پھر ایسے اداروں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جو اس مقصد کے لیے قائم کیے جائیں گے ۔ آج ضرورت ہے کہ ایک طرف علمی سطح پر اسلام کا وہ تصور کائنات (World view) واضح کیا جائے جو اسلام کی علمی ضروریات کی تکمیل کرتا ہو اور دوسری طرف ایسے ادارے بھی قائم ہوں جہاں عملی طور پر ایسے لوگ تیار ہوں جو دنیا کو ایک متبادل نظام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں یا علمی سطح پر اس نقطۂ نظر کی حقانیت کو ثابت کر سکتے ہوں۔‘‘ (صفحہ: 79) مصنف نے علم کی اسلامی تشکیل کا عملی طریقہ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمیں جدید علوم پر کامل دسترس ہونی چاہیے، اس کے بعد اسلامی علوم کا جائزہ لینے کے بعد اسلامی ورثے پر دسترس حاصل کرنی ہوگی ۔پھر اسلام کے علمی ورثے کا ماہرانہ جائزہ لے کر علوم کے ساتھ اسلام کے تعلق کو واضح کرنا ہوگا، ساتھ ہی ہمیں اسلامی ورثہ کا تنقیدی جائزہ لینا ہوگا اور عالم انسانیت کے مسائل کا جائزہ، کیونکہ اسلام صرف مسلمانوں کے ہی مسائل حل کرنے پر زور نہیں دیتا بلکہ پوری انسانیت کے مسائل کے حل کی طرف کوششیں کرنی ہوںگی۔ کتاب کے تیسرے باب :’’اسلامی علوم کی تشکیل نو‘‘میں مصنف نے مختلف اسلامی علوم کی تشکیل نو پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔ڈاکٹر فضل الرحمن مرحوم کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’جب تک ہم خود قرآن مجید کی روشنی میں اس علمی روایت کا تنقیدی جائزہ نہیں لیتے ،ہم اسلامی فکر کے ارتقائی عمل کو آگے نہیں بڑھا سکتے۔ اگر ہم کانٹ (Kant) و یبر (Weber) اور دیگر اہل علم پر نقد کرتے ہیں تو ہم میں اس بات کا بھی حوصلہ ہونا چاہیے کہ ہم رازی، ابن سینا اور ابن عربی جیسے مسلمان اہل علم پر تنقید کر سکیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ علم کی اسلامی تشکیل کے ضمن میں ہمارے پاس کچھ اصول اور معیار ہونے چاہئیں جو لازماً قرآن مجید سے مستنبط ہوں ۔‘‘(صفحہ : 100) مصنف نے اس باب میں علم تفسیر، علم حدیث، علم فقہ پر روشنی ڈالی ہے، اس باب میں مصنف نےان علوم کی تاریخ، تشکیل اور ارتقاء پر بہترین بحث کی ہے ۔اس باب میں مصنف نے اب تک کی کوششوں کا جائزہ بہترین طریقہ سے پیش کیا ہے۔تفسیر میں تفاسیر کی مختلف قسمیں اور ساتھ ہی تفہیم القرآن اور تدبر القرآن کا بہترین تعارف پیش کیا گیا ہے۔حدیث میں انہوں نے سنت پر بہترین باتیں لکھی ہیں اور ساتھ ہی کتابت حدیث پر بہت عمدہ نکتےبیان کیے ہیں۔فقہ میں انہوں نے سبھی فقہی مکاتب فکر کا تعارف کرایا ہے۔سوشل سائنس کا یورپ میں باضابطہ ظہور انیسویں صدی میں ہوا، کتاب کے پانچویں باب :’’سماجی علوم کا اسلامی تناظر‘‘میں ان ہی علوم پر مصنف نے روشنی ڈالی ہے۔ مصنف نے پہلے وہ بنیادی تبدیلیاں بتائیں ہے جن کے زیر اثر سماجی علوم کی تشکیل نو ہوئی ہے اور انہیں باضابطہ مضامین کی صورت میں مدون کیا گیا۔اس باب میں مصنف نے سماجی علوم میں مغربی اور اسلامی فکر کا بنیادی فرق واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مغرب میں جو فکر تھی اس کا سابقہ اس عیسائیت سے پڑھا جو سینٹ پال کی عیسائیت تھی ،جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیم سے مختلف تھی، ساتھ ہی چوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام چونکہ صرف بنی اسرائیل کے لیے بھیجے گئے تھے۔ لہذا، اس میں آفاقیت نہیں تھی، اور تاریخ شاید ہے جب جب مغرب کو کسی ایسی قوم میں سیاسی غلبہ ملا تو انہوں نے دوسری قوموں پر شدت سے ظلم کیا۔ مصنف کا ماننا ہے کہ یہ وہ مذہبی تعلیمات اور اہل مذہب کا رویہ تھا جس کی بنیاد پر یورپ کے خلاف ایک شدید نفرت نے جنم لیا اور مذہب کو ظلم و وحشت کے نظام اور انسانی عقل کے دشمن کی حیثیت دے دی گئی، اس کے برخلاف مسلمان معاشرے ایسی کسی تاریخ کے وارث نہیں ہیں، یہاں مذہب ہمیشہ ترقی اور انسانی نشوونما کا علمبردار بن کر سامنے آیا۔مصنف نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح کلاسیکل عہد میں مسلمان حکمران جہاں خدا ترس تھے ،وہیں انہوں نے سائنسی تحقیق یا غور و فکر کے راستوں سے کسی کو نہیں روکا، بلکہ دوسری تہذیبوں کی اہم چیزوں کے ترجمہ کے لیے دارالتراجم قائم کیے، ساتھ ہی مسلمان چونکہ اہل مغرب کی طرح اپنے دین سے بے گانہ نہ تھے اور مذہب ہمیشہ ان کے ہاں عملی قوت کے طور موجود رہا، مذہب کبھی مسلمانوں کے ہاں انفرادی معاملہ نہ رہا بلکہ مذہب کے بنیادی ماخذ میں سیاست، معیشت اور معاشرت کے باب میں واضح تعلیمات موجود ہیں۔اس حوالے سے مصنف نے خوبصورت نکات کو قاری تک پہنچایا ہے، مصنف اس بحث کے بعد لکھتے ہیں: ’’یہ ساری بحث ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ سماجی علوم کو ایک مسلمان معاشرے میں رائج کرنے کے لیے ایک علمی پس منظر اور نظریے کی تشکیل ضروری ہے جسے (Grand Theory) کا نام دیا جاتا ہے۔ جہاں تک علوم کی بنیادی ہیئت کا تعلق ہے تو اس میں بھی اساسی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ بنیادی نظریہ وجود میں آئے گا جس کی بنیاد پر ہم سماجی علوم کی تشکیل نو کریں گے، تو سب سے پہلا سوال مقصد علم کے حوالے سے سامنے آئے گا۔ یعنی یہ کہ علوم کا حصول کیوں ضروری ہے اور وہ کیا نظریۂ حیات ہے جن سے ان علوم کا ہم آہنگ ہونا ضروری ہے؟ مثال کے طور پر جب ہم عمرانیات (Sociology) کو زیر بحث لائیں گے تو اس کی تعریف وہ نہیں کی جائے گی جو اس وقت مغرب میں رائج ہے، بلکہ اس کو اسلامی تناظر میں تبدیل کرنا پڑے گا۔ دوسرے لفظوں میں اسے اسلامی فلسفۂ زندگی سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ تمام علوم خواہ وہ سماجی ہوں یا طبیعی، ان کے بارے میں یہ بات اب تسلیم کر لی گئی ہے کہ وہ اقدار سے بے گانہ نہیں ہو سکتے۔‘‘ (صفحہ : 154) اس باب میں مصنف نے جہاں سماجی علوم کی اسلامی تشکیل کے فکری پہلوؤں کو واضح کیا ہے، وہیں ان علوم کے عملی پہلو بھی بیان کیے ہیں۔ کتاب کے پانچویں باب :’’طبیعی علوم کی اسلامی تشکیل‘‘میں مصنف لکھتے ہیں : ’’علوم کی اسلامی تشکیل کے باب میں سب سے مشکل مرحلہ طبیعی علوم کی اسلامی تشکیل کا ہے۔‘‘ (صفحہ : 189) اس باب میں مصنف بتاتے ہیں کہ سائنس سے کیا مراد ہے اور تعریفیں واضح کرتی ہیں کہ سائنس متنوع ہے۔پھر مصنف سائنس اور اقدار پر خوبصورت بحث کرتے ہیں، یہاں انہوں نے کچھ حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں، آگے مصنف نے’’جدید سائنس اور مسلمان‘‘میں موجودہ مسلمان سائنس کے بارے میں کیا نقطۂ نظر رکھتے ہیں؛یہ بیان کیا ہے۔اس باب میں مصنف نے سائنس کے حوالے سے دو ردعمل بیان کیے ہیں۔ان آراء کو پیش کرنے کے بعد مصنف عہد حاضر میں طبیعی علوم کو اسلام کے تناظر میں پیش کرنے کے لیے ان بنیادوں کو پیش کرتے ہیں جن پر وہ کھڑی ہے۔ اس سلسلے میں مصنف پہلے فکری بنیادیں پیش کرتے ہیں،اس سلسلے میں وہ توحید کو سرفہرست مانتے ہیں۔ عقیدۂ توحید سے فکر و نظر کے جو دروازے کھلتے ہیں یہاں مصنف ان پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں۔توحید کے ساتھ ساتھ مصنف حواس اور عقل کو دوسری فکری بنیاد بتاتے ہوئے اس کے عوامل زیر بحث لاتے ہیں۔یہ تو رہے عملی اور فکری اقدامات، عملی اقدامات کے تحت مصنف نے پانچ اقدامات جیسے سائنسی مرعوبیت کا اختتام، سائنسی علوم کا تحقیقی جائزہ وغیرہ بیان کیا ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر بہترین کتاب ہے ،البتہ چونکہ انیسویں صدی میں اس موضوع پر فکری کام ہوا ہے،اس لیےضرورت اس بات کی تھی کہ اس سلسلے میں اگر کوئی عملی کام بھی ہوا ہو تو اس کا بھی جائزہ لیا جاتا، تاکہ اردو داں طبقہ بھی اس سے روشناس ہوتا۔اختتامیہ میں مصنف نے 5 صفحات میں پوری کتاب کا خلاصہ پیش کیا ہے۔کتاب میں حواشی کے علاوہ اشاریہ بھی دیا گیاہے۔یہ کتاب’’رائل بک کمپنی ،کراچی‘‘ نے عمدہ گیٹ اپ پر شائع کی ہے۔کتاب کی قیمت 400 روپے بھی مناسب ہے۔کتاب [email protected] پررابطہ کرکے حاصل کی جا سکتی ہے.

3 Comments

  1. ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری

    ایک اہم کتاب پر معلومات افزا تبصرہ

    Reply
    • سلیم منصور خالد

      شکریہ بشیر کار صاحب ، آپ علمی سفر میں اپنے حلقہ احباب کو بھی شامل کرکے صدقہ جاریہ کا اہتمام کرتے ہیں ۔
      زیر نظر کتاب کے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ محترم مصنف بذات خود چند درچند فکری مخمصے کا شکار ہیں ۔

      Reply
  2. شوکت شاہین

    بجا فرمایا صاحب مبصر نے اس سلسلے میں پچھلی چند صدیوں میں خصوصاً اگر کوئی عملی کام ہوا ہے تو اس کا جایزہ لیا جائے

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری