۲۰۲۳ جنوری
ہمارا وطن عزیز آزادی کی لڑائی 1947 ءمیں ہی جیت گیا تھا۔ لیکن ابھی یہ ایک جمہوری ریاست نہیں بنا تھا، لگ بھگ تین سال کی محنت کے بعد ڈاکٹر راجندر پرساد، ڈاکٹر سچیدانند ن اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی سرپرستی میں ہمارا دستور تیار کیا گیا۔ 26 نومبر 1949 ءکو آئین ہند لکھ کر محفوظ کیا جا چکا تھا،مگر ابھی اسےنافذ نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے لیے 26 جنوری کے دن کو چنا گیا۔ اسی دن 1930 ءمیں ہی انڈین نیشنل کانگریس نے ’’پورن سوراج‘‘ یعنی نو آبادیاتی حکومت سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ لہذا نئے دستور کو ہندوستانی عوام سے اسی دن متعارف کروایا گیا اور ساتھ ہی اس پر عمل درآمد شروع کیا گیا۔ اسی دن ہمارا ملک ایک خودمختار جمہوریہ بنا۔
جمہوریت ایک طرز حکومت ہے،جس کے متعلق سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کہتے ہیں :
’’جمہوریت عوام کی حکومت ہے، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے۔‘‘
یعنی جمہوریت وہ ہے، جہاں شہریوں کی رائے اور ان کی مرضی ہوتی ہے۔ کوئی بھی چنندہ نمائندہ ان کا راجا نہیں ہوتا ،بلکہ اگلے پانچ سالوں کے لیے عوام کا خادم ہوتا ہے ۔ہندوستانی عوام کو برطانوی حکمرانی سے نکال کر ہر طرح ان کی آزادی کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یومِ جمہوریہ دراصل آزاد ہندوستان کی ہی نشاندہی کرتا ہے ۔
یومِ جمہوریہ کا جشن
یومِ جمہوریہ ہندوستان میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔اسکولوں اور کالجوں میں قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں، ملک بھر میں ثقافتی تقریبات منعقد کروائی جاتی ہیں ۔ خصوصاً نئی دہلی میں راجدھانی ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر اس دن کو حکومت کی طرف سے قومی تہوار کے طورپرمنایا جاتا ہے۔ انڈیا گیٹ پر صدر کے ہاتھوں پرچم کشائی ہوتی ہے اور وزارت دفاع کے تحت ایک شاندار پریڈ کا انتظام ہوتا ہے، جس کا انعقاد صدر کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ 21 توپوں کی سلامی، قومی پرچم کشائی اور قومی ترانہ گایا جاتا ہے۔ اس موقع پر بہادر سپاہیوں اور باہمت شہریوں کو پرم ویر چکر، اشوک چکر وغیرہ جیسے ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔
یومِ جمہوریہ :حال کے تناظر میں
یومِ جمہوریہ منانے کی اصل وجہ ہمارے دستور کا نفاذ ہے۔ وہی دستور جسے دنیا کا سب سے بڑا دستور ہونے کا شرف حاصل ہے،جس کے ابتدائی حصے میں لکھا گیا ہے:
’’ہم ہندوستانی عوام یہ تجویز کرتے ہیں کہ ہندوستان کو ایک آزاد سماج وادی،جمہوری ملک کی حیثیت سے وجود میں لایا جائے۔ جس میں تمام شہریوں کے لیے سماجی، سیاسی، معاشی، آزادئ رائے، انفرادی تشخص اور احترام کو یقینی بنایا جائے گا۔ اور ملک کی سالمیت و یک جہتی کو قائم و دائم رکھا جائے گا۔‘‘
دستور کے نفاذ کے بعد عوام کو امید تھی کہ اب ہماری آواز سنی جائے گی،مظلوموں کو آس ملی کہ اب انصاف ملے گا ، اقلیتوں کو تسلی ہوئی کہ انہیں سماج میں تحفظ اور برابر مواقع دستیاب ہوں گے ، نچلے طبقے کو سکون ہوا کہ اب بھید بھاؤ ختم ہو گا۔ غرض یہ کہ تقسیم ہند کے دکھ کو سہہ لینے کے بعد بھی عوام کوشاں تھے کہ اب راحت کی زندگی نصیب ہو گی ،اور پھر اس مٹی کو سونا بنتے دیکھیں گے۔ جمہوریت کے 72سال بعد ان خوابوں کی ایک بھیانک تعبیر ہمارے سامنے آتی ہے ۔ جمہوریت کا ایک اہم ستون انصاف ہے۔ ہماری عدلیہ کا جائزہ لیجیے۔ عالمی انصاف کے منصوبے کے تحت Rule of law index کی درجہ بندی کے مطابق ہندوستان 68ویں نمبر پر آتا ہے۔ آرڈر اینڈ سیکیورٹی کے معاملے میں ہم 111 نمبر پر ہیں۔ (ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں لوگ پولیس کو دیکھ کے تحفظ کے احساس بجائے گھبرا جاتے ہیں ۔)
ہم عدلیہ کے معاملے میں اتنے لا غر ہو گئے کہ اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق دینے سے بھی قاصر ہیں ۔ یہاں ہر تین میں سے دوسرا قیدی ایسا ہے جس کاگناہ عدالت میں ثابت نہیں ہے۔اگر عدالتی فیصلوں کی بات کی جائے تو رپورٹ کے مطابق 3 کروڑ سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں۔ اور جن مقدموں پر فیصلہ سنایا گیا اس پر بھی ایک نظر ڈالیں !ایودھیا کا فیصلہ ہو یا کشمیر کا، بلقیس بانو کا فیصلہ ہو یا زمینوں کی خریدوفروخت کا، ہر جگہ واضح طور پر یک طرفہ سماعتیں اور فیصلے دیکھنے کو ملیں گے ۔ چند مہینے قبل سپریم کورٹ کے چار سینیئر وکلاء نے احتجاج کیا کہ کورٹ صحیح فیصلہ نہیں کر پا رہی اور خارجی دباؤ سے دو چار ہے۔ عدالت عظمیٰ کے سابق جج رنجن گگوئی پر جنسی ہراسانی کا مقدمہ درج ہوا تو انصاف کے نتیجے میں متاثرہ خاتون کا تبادلہ کر دیا گیا ، اس کے شوہر کو ملازمت سے معطل کر دیاگیا اور کچھ روز بعد فرضی کیس میں اس خاتون کو جیل بھیج دیا گیا ۔ جہاں کی عدالتوں اور منصفوں کا یہ حال ہو وہاں مظلوم کس کے پاس دادرسی کو جائے۔
جب بات ہندوستانی جمہوریت کی ہو تو ’’سیکولر‘‘ لفظ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1971 ءمیں اندرا گاندھی نے لفظ ’’سیکولر‘‘ کو ہندوستانی دستور میں شامل کیا۔ ہندوستان میں مختلف مذاہب وعقائد کو ماننے والے، الگ الگ زبانیں بولنے والے لوگ بستے ہیں ۔لہذا ملک کا سیکولر ہونا تمام شہریوں کے بھائی چارے اور ملک کی ترقی کے لیے ضروری تھا۔ اس سلسلے میں خاطر خواہ قانون بھی بنائے گئے، تا کہ سب کو برابری کا حق مل سکے۔ ہمارے بزرگوں نے انتھک کوششیں کیں کہ ہندوستان کے اس تنوع اور یکجہتی کو برقرار رکھا جا سکے۔خصوصاً اقلیتی طبقے کو مراعات دی گئیں ،تاکہ وہ سماج میں آگے بڑھ سکیں۔
اب چاروں طرف نظر ڈالی جائے تو نفرت کی سیاست اور سیکولر کی جگہ اکثریت والوں کی زیرِ اثر حکومت دکھائی دیتی ہے ۔ اس کی تازہ مثال دہلی کا فساد ہے۔ ملک کے پہلے نمبر پر آنے والی ’’جواہر لعل نہرو یونیورسٹی‘‘جہاں نئے موضوعات پر تحقیق ہونی چاہیے ،وہاں کے طلبہ ویج اور نان ویج پر بحث کر رہےہیں۔ مسلم ریسرچ اسکالرس کے لیے خصوصی طور پر ملنے والی اسکالرشپ ’’مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ‘‘ کو ختم کر دیا گیا۔ کرناٹک میں کبھی حجاب پر حملہ ہوتا ہے، تو کبھی حلال گوشت پر پابندی لگانے کے لیے بِل پیش کیا جاتا ہے۔ انتہا تب ہو جاتی ہے جب کھلے عام اسٹیج پر اقلیتوں کے خلاف جارحانہ بیانات دیے جاتے ہیں ،اور ہماری سرکار اور عدالت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہوتی ہے ۔آخر کیا وجہ ہے کہ جس ملک کی رنگارنگی اور تہذیب و تمدن کے چرچے پوری دنیا میں تھے، وہ دھیرے دھیرے اپنے ہی شہریوں میں بٹنے لگی ہے ۔جہاں کی میڈیا کبھی سنجیدہ بحثیں کرتی تھی اور بلا جھجھک حکومت پہ تنقید کرتی تھی، اب نا معقول بحث کرتی ہے۔
سنگین مجرموں کو رہائی مل جاتی ہے، جبکہ محض شک کی بنا پر کتنے لوگ جیلوں میں بند ہیں۔ جی ڈی پی دیکھیں تو معلوم ہوگاکہ ہم بنگلہ دیش سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں، اور ایک ڈالر کو ایک روپیہ بنانے کا خواب بس خواب رہ گیا ہے ۔
ان سب مسائل کی جڑ کیا ہے؟ کیا ہم سیاست کی سمجھ بوجھ کھو چکے ہیں؟ عوام گمراہ ہو چکی ہے یا اسے گمراہ کر دیا گیا ہے؟ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ان سب کی ذمہ دار حکومت ہے ،تو آئیے! نصیرالدین شاہ کے اس کہے پہ سوچیے:
’’سوال یہ نہیں ہے کہ بستیاں جلائیں کس نے ، سوال یہ ہے کہ جلانے والے کے ہاتھ میں ماچس کس نے دی؟‘‘
کیا ہی بہتر ہوتا کہ جو محنت ہمارے آباء و اجداد نے اس ملک کو آزاد و جمہوری بنانے میں کی، ہم ان کا حق ادا کر دیتے۔ سوال صرف موجودہ حکومت پر نہیں،بلکہ شہریوں پر بھی اٹھتا ہے کہ ہم نے اپنے ملک کے تئیں کیا کردار نبھایا ہے ۔
عربی زبان کی مشہور کہاوت ہے ۔ ’’الناس علی دین ملوکھم‘‘(لوگ اپنے بادشاہوں کے مذہب پر ہوتے ہیں ۔)یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اصل ذمہ دار حکومت ہی ہے، لیکن سوچیے! ہماری حکومت ہم ہی لوگوں میں سے ہے، یہ کوئی خارجی لوگ نہیں ہیں ۔ اگر ہم اپنا رویہ تبدیل کریں اور ملک کے لیےفکرمند ہو جائے تو یقیناً حکومت کی طرف سے بھی مثبت پہلو سامنے آئے گے۔

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری