۲۰۲۳ جنوری
پیوبرٹی،بلوغت، بالغ ہونا، جنسی پختگی،فکر و عقل وغیرہ کو پختگی حاصل ہونے کی کیفیت کو کہتے ہیں۔ اسلام کی کئی ایسے ارکان ہیں، جن کے لیےبلوغت دوسری شرائط میں سے ایک شرط ہے ،جیسے نماز،روزہ اور حج۔یہاں تک کے نکاح کے لیے بھی بلوغت یا پیوبرٹی ہی شرط ہے۔
بلوغت کب شروع ہوتی ہے؟
لڑکیوں میں بلوغت عام طور پر اسلامی نقطۂ نظر سے 8 سے 13 سال کی عمر کے درمیان شروع ہوتی ہے اور 45-50 سالوں تک رہتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بچوں میں طبعی طور پر جسمانی،ہارمونل اور شعوری تبدیلیاں شروع ہوتی ہے۔ بلوغت کے بعد ہی ایک لڑکی جسمانی طور پر ماں بننے کے قابل ہوتی ہے۔
یہ تبدیلیاں جسم میں ہارمون نامی قدرتی مادوں کی وجہ سے ہوتی ہیں،جو کہ نسوانی جسم میں اعضاء تناسل کے خاص غدودوں سے خارج ہونا شروع ہوتے ہیں۔ جب بلوغت شروع ہو جا تی ہے تو جسمانی اور جذباتی طور پر تبدیلیاں محسوس ہونا شروع ہوتی ہے۔ بعض اوقات ان ہارمونل تبدیلیوں سے جذبات ، لڑکی کے مزاج اور رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یہ بہت عام بات ہے، لیکن بلوغت کا دورانیہ کم عمر بچیوں میں اچانک ایک تبدیلی لا تا ہے، جس سے بعض بچیوں میں ذہنی الجھنیں اور احساس کمتری بڑھ جاتی ہیں، بچی اپنے آپ کو غیر محفوظ اور مریضہ بھی سمجھنے لگتی ہے ۔ایسے حالات میں مثبت سوچ،مورل سپورٹ اور مثبت ماحول بہت اہم رول ادا کرتے ہیں۔ نہ صرف بچیاں بلکہ والدہ،بڑی بہنیں اور افراد خانہ کا بھی مثبت رویه اورتعاون ضروری ہے۔ بلوغت کا دیر یا جلدی شروع ہونابچیوں کی اپنی جسمانی و مینٹل نشونما،فرینڈ سرکل،غذائیت،گھر کےماحول،اہل خانہ کےرویےاور لائف اسٹائل پر مبنی ہوتا ہے۔
یاد رکھنے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر کوئی مختلف ہے، اور اپنے جسم کے متوازن ہارمونل سسٹم کے مطابق صحیح وقت پر بلوغت کا آغاز ہوتا ہے، والدہ یا خاندان کی دوسری لڑکیوں کا بلوغت کا وقت مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر12 سال کی عمر میں جسم کی نشوونما متناسب طریقہ سے شروع ہوجائے تو وقت پر بلوغت کا آغاز ہوتا ہے۔
جسمانی نشوونماا ور تبدیلیاں
بلوغت کے دوران جسم میں جو پہلی تبدیلی رونما ہوتی ہے وہ وزن بڑھنا،جسم کا سڈول اور فربہ ہونا۔جلد میں آئل اور دوسرے مادوں کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔پانی زیادہ جذب ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جلد نکھری ہوئی اور چمکدار ہوجاتی ہے۔چونکہ اس عمر میں جسم میں کولیجین (جو کہ پروٹین کا اہم جز ہے ) کی وافر مقدار ہوتی ہے، جو ہمارے بال،جلد،ہڈیوں کے جوڑ اور گوشت Muscles Power کو بڑھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں پروٹین زیادہ مقدار میں درکار ہوتی ہے۔ جسم میں نسوانیت کی علامات اور اعضاء تناسل کی افزائش بڑھ جاتی ہے۔پستانوں میں ابھار اور رحم Uterus میں انڈونیٹریم کی تہیں موٹی ہونے لگتی ہیں،جو کہ حیض یا ماہواری کے لیے انتہائی اہم رول ادا کرتی ہیں ۔Overiesبیضہ بنانے والے ہارمون کا اخراج Overy سے ہی ہوتا ہے۔ایسٹروجین،پروجسٹرون اور بہت ہی کم مقدار میں ٹیسٹو اسٹیران نامی ہارمون کا اخراج شروع ہوتا ہے۔فالیکل اسٹیمولیٹنگ ہارمون Overy میں فالیکل بناتے ہیں، جن میں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون نامی ہارمون خارج ہوتے ہیں۔ مہینے کے شروعاتی 16 دنوں میں ایسٹروجن کا لیول پیک پر ہوتا ہے تب ۔اس دوران انڈونٹریم کی موٹائی Uterus میں بڑھتی ہے ،اور جب یہ کم ہونے لگتا ہے تو پروجیسٹرون کا لیول بڑھ جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے انڈونیٹریم Uterus میں شریڈ ہونے لگتی ہے اور ٹوٹنے لگتی ہے۔یہی حیض کے خون کی شکل میں باہر خارج ہوتی ہے۔لیکن اس دوران اگر شادی شدہ لڑکی اپنے شوہر کے کانٹیکٹ میں آتی ہے تو فالیکل سے نکلنے والے Ovum کے Sperm سے ملنے کی صورت میں مادر رحم میں ایک نئی زندگی وجود میں آتی ہے۔
حیض میں ہونے والی تکالیف
ماہواری شروع ہونے پر بچیوں میں پہلے کے دنوں میں ہارمونل لیول طبعی نہیں رہتا ،جس کی وجہ سے کم یا زیاہ بلیڈنگ کی شکایت ہوتی ہے۔پیٹ میں درد، کریمپس،پنڈلیوں میں کھنچاؤ،موڈ سوینگ،چڑچڑاپن،بھوک کی کمی،متلی یا قے،دست،پیشاب میں جلن کی شکایت ہوتی ہے۔ایسے میں بچیوں کو ذہنی اور جسمانی سکون فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔گھر کا ماحول خوشگوار ہو اور بچیوں کو اس اچانک ہونے والی تبدیلی سے باخبر کرنا چاہیے۔اگر حیض کے کچھ دن پہلے ہی پٹھوں اور جوڑوں میں درد، پیٹ میں درد اور تھکاوٹ کی شکایت شروع ہو جائے۔ ذہنی طور پر چڑچڑا موڈ ہو، چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی پریشانی محسوس ہوں ۔
موڈ Irritating اور تنہائی کا احساس ہو سکتا ہے۔ احساس کمتری بڑھ جائے،تو اسے پری مینسٹروئل سنڈروم (PMS) کہا جاتا ہے ،اور یہ ان جسمانی اور جذباتی علامات کو بیان کرتا ہے جن کا ماہواری کے دوران تجربہ ہو تا ہے۔
جلد کی تبدیلیاں: بلوغت کے دوران
جسم میں ہارمونز کی تبدیلیوں کی وجہ سے جلد پر تیل کو کنٹرول کرنے والے غدود متاثر کرتے ہیں۔اس کی وجہ سے مہاسی یا مہاسے جلد میں زیادہ فعال غدود کی وجہ سے ہوتے ہیں، ایسے میں بڑے پمپلس بھی ہوتے ہیں، جس میں بعض اوقات پس (Pus) بھی ہو جاتا ہے ۔اگر انھیں ناخنوں سے کریدا جائے تو چہرے پر نشانات پڑنے لگتے ہیں،یا داغ پڑ سکتے ہیں۔
میں اپنے نوعمر بچے کے ساتھ کیسے جڑی رہ سکتی ہوں؟والدہ یا دوست؟
اگر آپ کی بیٹی پیوبرٹی یا بلوغت کے مرحلےمیں قدم رکھ رہی ہے، تو آپ سے بہتر اس کی دوست،کاؤنسلر،ڈاکٹر اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔ اپنی بیٹی کوپیوبرٹی کےلیے ذہنی طور پر تیار کرنا،اسے اس تبدیلی کی بہتر طریقے سے پوری صحیح معلومات دینا ،اس میں مثبت سوچ اور صحت مند جسم کے ساتھ اس چینج کو قبول کرنے کے لیےتیار کرنا؛ آپ کی ذمہ داری ہے۔
پرسنل ہائیجین ،جسمانی صفائی صحیح پیڈز کو کس طرح استعمال کریں، اور کس طرح ڈسپوز کریں۔ کیلنڈر کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سائیکل کو کیسے ٹریک کیا جائے تاکہ وہ جان سکے کہ اس کی اگلی ماہواری کب متوقع ہے۔ اگر آپ اپنی بیٹی کے ساتھ اس بات چیت میں آرام محسوس نہیں کرتی ہیں، تو ہو سکتا ہے کہ کوئی اور قابل اعتماد بالغ بہن ہو جس سے وہ بات کرنے میں اطمینان محسوس کرے۔
پیوبرٹی اور اسلامی پرسپیکٹیو
اسلام نے بلوغت کی عمر کو انسانی زندگی کا اہم دور تصور کیا ہے۔ ارکان ،اعمال،عبادات کےلیےصحیح عمر بلوغت کو قرار دیا گیا۔نکاح ،گواہی اور لین دین کے معاملات ہو ںیا جائیداد و ترکہ کے حقوق کی ادائیگی ہو، یہی عمر صحیح مانی گئی ہے۔
پیوبرٹی/بلوغت کے لیےطہارت کے کچھ شرعی و فقہی احکام بھی اسلام نے بیان کیے ہیں۔اسلام میں طہارت اور پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ بلوغت کے شروع ہونے پر بچیوں کو ان حدود و احکام سے اچھی طرح متعارف کروانا چاہیے۔لڑکیوں کی اخلاقی ،روحانی تربیت بھی اس عمر میں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بچے جذبات کے غلبے میں اپنے لیے کوئی بھی راہ چن لیتے ہیں۔بچوں کی صحیح کاؤنسلنگ اور مورل ویلیوز سے انھیں آگاہ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے،تاکہ پیوبرٹی بلوغت کی یہ عمر زندگی کو مثبت رخ پر گامزن کر سکیں،اور بچے گمراہ ہونے سے بچ جائیں۔
شروعاتی دنوں میں جب بچیوں میں حیض شروع ہوتا ہے تو ہارمونل ڈِس بیلینس /غیر متوازن لیول کی وجہ سے تقریباً ایک سال تک سائیکل ریگیولر نہیں ہو پاتی۔کبھی فلو زیادہ اور کبھی کم ہوتا رہتا ہے یا کبھی تین چار مہینے تک حیض آتا ہی نہیں ہے۔اکثر ایسی صورت حال میں مائیں پریشان ہوکر گائینیک نرسنگ ہوم کا رخ کرتی ہیں،اور لیڈی ڈاکٹرانھیں یہی سمجھاتی ہے کہ کچھ وقت انتظار کریں ،خود بہ خود سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔ایسی صورت میں کسی طرح دوا یا مصنوعی ہارمون کی گولیوں کا استعمال ہر گز نہ کریں۔ خودساختہ علاج بھی تجویز نہ کریں۔فارمیسی سے کوئی بھی ہربل یوٹرائن ٹانک شروع نہ کریں۔اگر بہت زیادہ بلیڈنگ ،پیٹ درد،مروڑ اور مینو ریجہیا Menorrhagia جلدی جلدی حیض آنا یا نارمل سائیکل/تاریخ سے پہلے ہی حیض آنا ۔جیسی تکالیف ہو تو ماہر لیڈی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اکثر بلوغت کی عمر میں آرام دہ زندگی،کھیل کود اور ایکسرسائز کی کمی،مرغن اور تیکھی غذائیں،ٹن فوڈ،جنک فوڈ ،کولڈ ڈرنک کا زیادہ استعمال ،چاکلیٹ ،آئس کریم ،میٹھا،مکھن اور پنیر وغیرہ کے زیادہ استعمال سے وزن بڑھتا ہے، تو بچیاں بہت سی بیماریوں کا شکار ہوجاتی ہیں، جن میں سب سے عام بیماری تھائیورائیڈ کی کمی یا زیادتی، ہائیپر اور ہائیپو تھائیرائڈزم،پولی سسٹک اویرین ڈیزیز ہے۔ اس میں حیض بہت کم یا بند ہو جاتاہے ،وزن بڑھنے لگتا ہے، ڈاڑھی اور مونچھ والے حصےپر زائد بال کی افزائش ہوتی ہے۔ سینے پر بھی بال نکل آتے ہیں۔ پرسنل ہائیجن ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ویجائینل انفیکشن اور لیوکوریا /سفید،زرد اور بدبودار رطوبت کے خارج ہونے کی کی شکایت بھی عام ہوتی ہے، ماہر ڈاکٹر کے علاج سے یہ تکلیفیں دور ہو جاتی ہیں۔ایک عام شکایت اینیمیا (خون کی کمی)کی ہے۔جس کی وجہ سے بچیاں چڑچڑاہٹ میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔آئرن کی کمی علاج کے ذریعے دور ہوجاتی ہے۔

1 Comment

  1. Doctor Ghazala Anjum

    Alhamdulillah bahot
    behtreen article hai Allah aapko mazeed kamyabi ata Kare aameen summa ameen

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری