۲۰۲۳ جنوری
’’سنو !وہ دور شکاری دیکھ رہی ہو؟‘‘
’’ہاںبالکل ،میری نظریں بھی اسی کے تعاقب میں ہیں۔
کتنی دیر سے جال بن رہا تھا ۔
پھر دانہ ڈالا اور اب جال بچھا کر گھات لگا کر بیٹھ گیا ۔
دیکھو تو دوپہر سے ہم بھی نظارہ کررہے ہیں، اب شام ڈھلے تک کتنے پرندے بیچارے دھوکہ کھاچکے ہیں۔
ایک بات نوٹ کی تم نے ؟‘‘
’’کون سی؟‘‘
’’ہر پرندے کے پھنستے ہی صیاد کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔‘‘
’’نہیں ابھی تک تو نوٹس نہیں کیا۔‘‘
کچھ دیر بعد واقعی پھر پرندہ جال میں پھنسا ،خوشی سے صیاد کی بانچھیں کھل اٹھیں،خوشی چہرے سے ظاہر تھی۔
’’ہاں یار! واقعی ۔‘‘
کچھ دیر بعد جب پرندہ جال میں بڑھنے لگےتب اس نے کہا :
’’اب دیکھو کس شانِ بے نیازی سے سایہ میں بیٹھا لکڑی چھیل کر برچھی بنارہا ہے ۔اب ذرا سکون اور بے نیازی نوٹ کرنا ۔
بیچارے پنچھی معصوم سے ۔‘‘
’’سنو! اوپر آکاش میں دیکھنا ذرا!
آہا، کتنا بڑا غول ہے جو آسمان کی بلندی پر آزاد اڑ رہا ہے ۔‘‘
ہاں ،بڑے منظم انداز میں متحد ہوکر وہ سفید بادلوں کے درمیان سفید اورسیاہ شیڈ میں اڑتے ہوئے بڑے خوبصورت لگ رہے تھے ۔
کتنے پر سکون وسیع و عریض آسمان میں پرندے اڑ رہے ہیں ۔
اب ہم نے موازنہ کرتے ہوئے ایک نظر اوپر اڑتے پرندوں پرکی۔ ایک نظر جال میں پھنس کر پر پھڑاتے پنچھیوں پر ڈالتے جاتے اور تقابل کرتے جارہے تھے ۔جال میں پھنسے پنچھی پر پھڑ پھڑانے سے اپنے پروں کی خوبصورتی کھو چکے ہیں۔
ان کے خوبصورت پر جھڑ کر بکھر رہے ہیں، آنکھوں کی چمک آزادی کے انتظار میں ماند پڑچکی ہے ۔ان پرندوں کاتوحش قابل دید ہے ۔
پھنس جانے کے خوف سے کچھ کھا بھی نہیں رہے تھے۔
حسرت ان پر برس رہی تھی۔
’’کتنا رحم آرہا یار! دل چاہتا ہے ان پھڑپھڑاتی روحوں کو آزاد کردیں ۔‘‘
اور شکاری حسرت سے سوچ رہا تھا یہ نئے آزاد پنچھی کے لیے نئی چال چلنی پڑے گی ،کیونکہ وہ بھی وقفے وقفے سے آکاش میں اڑتے پرندے دیکھ رہا تھا۔
’’کتنی بے بسی کی زندگی ہے ناںقیدی پرندوں کی ؟‘‘دل دکھ سے بھر گیا تھا۔زینب نے بڑے درد سے مجھے مخاطب کیا ۔
’’ہاں واقعی زینب !
یہ بھلا کب سوچ سمجھ کر پھنسے ہوں گے ۔
دھوکہ سے ہی یہ سب ہوا ہے۔‘‘
’’ہاں یار !خطرے کا احساس بھی نہیں ہوا ہوگا، دانہ دیکھا اور پھنس گئے، لیکن تم نے نوٹ کیا کہ سب پرندے نہیں پھنسے ۔پتہ ہے کیوں ؟
کیونکہ
آزاد پرندے اس بات کا غماز ہیں کہ ان کے بھی زندگی گزارنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں ،جوں ہی ان میں سے کوئی اصول سے غافل ہوا، بس پھر کیا ہے؟ بیچاروں کی زندگی برباد۔‘‘
’’ ہاں زینب !ان کی ہی نہیں، کائنات کی ہر چیز کے لیے جینے کے کچھ اصول ہیں ،جوں ہی اصول سے غفلت برتی گئی ،پھر انسان پر پھڑ پھڑاتا ہی رہے، بس طویل انتظار اس کا مقدر ہوتا ہے ۔بس فرق یہ ہے کہ پر پھڑاپھڑاتے ہوئے پنچھی نظر آتے ہیں، دل کی پھڑپھڑہٹ بس بندہ خود ہی جانتا ہے ۔‘‘
’’زینب! کیا ہم لڑکیاں بھی وقت سے پہلے اپنے اصول توڑ کر پریشان رہتی ہیں ؟‘‘
’’ہاں بالکل، زندگی کے کچھ اصول ہونے چاہئیں، ورنہ ہاتھ صرف مایوسی آتی ہے، ان پرندوں کی طرح ۔‘‘
شام گہری ہوچکی تھی، پرندے اپنے گھونسلوں میں لوٹ چکے تھے۔
شکاری مقید پنچھیوں کا جال کاندھے پر رکھے مشرق کی طرف غائب ہوگیا۔ لمحے بھر کی غفلت کے نتیجے میںپرندوں کے نام آزادی کا طویل انتظار لکھ دیا گیا۔ہم دونوں غفلت کے فلسفے کو سمجھتے ہوئے سر جھکائے چلے آئے تھے۔
’’ ہاں زینب !ان کی ہی نہیں، کائنات کی ہر چیز کے لیے جینے کے کچھ اصول ہیں ،جوں ہی اصول سے غفلت برتی گئی ،پھر انسان پر پھڑ پھڑاتا ہی رہے، بس طویل انتظار اس کا مقدر ہوتا ہے ۔بس فرق یہ ہے کہ پر پھڑاپھڑاتے ہوئے پنچھی نظر آتے ہیں، دل کی پھڑپھڑہٹ بس بندہ خود ہی جانتا ہے ۔‘‘
’’زینب! کیا ہم لڑکیاں بھی وقت سے پہلے اپنے اصول توڑ کر پریشان رہتی ہیں ؟‘‘
’’ہاں بالکل، زندگی کے کچھ اصول ہونے چاہئیں، ورنہ ہاتھ صرف مایوسی آتی ہے، ان پرندوں کی طرح ۔‘‘

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۳ جنوری