السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اُمید کرتا ہوں کہ’’ ھادیہ ای میگزین‘‘ سے وابستہ سارے لوگ سلامت ہوں گے ،ان شاء اللہ ۔گذشتہ ماہ یہ دلکش اور منفرد رسالہ باصرہ نواز ہوا ،جس کو پڑھ کےمجھے اس میں کچھ مختلف اور نیا پن محسوس ہوا ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں آج کا دور انٹرنیٹ کا دور ہے، لوگ اب ہرچیز چاہےخبر ہو یا رسالہ ،اخبار ہو یا ٹیلی ویژن، یعنی ہر کوئی چاہتا ہے مجھے اپنے اسمارٹ فون سے ہر چیز حاصل ہو ۔میرے خیال میں اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے اُمت کی خیر خواہ خواتین نے ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے لئے ایک آن لائن رسالے کی شروعات کی ہے ۔ جس کا نام’’ ھادیہ ای میگزین ‘‘رکھا گیا ہے ۔اس کو پڑھ کے مجھے بے حد خوشی بھی محسوس ہوئی، بلکہ رشک ہوااور اپنی بہنوں کے جذبے پر فخر بھی ۔مذکورہ رسالے میں جس طرح خواتین کی تربیت کا سامان مہیا کیا جاتا ہے، وہ قابل تعریف ہے ۔اس میں مجھے ایک چیز زیادہ خاص اور اہم لگی کہ جہاں خواتین کے لئے مختلف طرح کے دلچسپ مضامین شامل کیےجاتے ہیں، وہیں جو بہنیں اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی ہیں ،وہ اپنے سوالات جو کہ انتہائی اہم اور نازک بھی ہوتے ہیں، ھادیہ سے پوچھتی ہیں اور اگلے ماہ اُسی سوال کا جواب بڑے ہی مشفقانہ اور ہمدردانہ انداز میں دیا جاتا ہے ۔
اسی طرح ای لرننگ کا جو اصل مقصد ہے کہ قاری کو پڑھنے میں آسانی ہو بلکہ اگر کوئی دیکھ کے سُننا چاہےتو وہ بھی اس میگزین میں دستیاب ہے ۔اکثر مضامین کے ساتھ یوٹیوب کی لنک بھی دی گئی ہے ،تاکہ اُس مضمون کو بآ سانی یوٹیوب کی مدد سے سُنا بھی جا سکے ۔اسی سلسلے کے دوران میں نے مذکورہ میگزین کی مدیر محترمہ ’’مبشرہ فردوس خان‘‘ سے ’’نوکِ قلم ‘‘ کے لئے ایک تفصیلی انٹریو بھی کیا،جس میں میری یہ کوشش رہی کہ کسی طرح سے کشمیر کی خواتین بھی اس عظیم مشن کے ساتھ جُڑ جائیں ۔ ہماری کشمیر میں یہی کوشش رہے گی کہ یہاں کی خواتین کو بھی ھادیہ کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ وہ بھی اس اہم اور منفرد رسالے سے فیض حاصل کریں ۔ اس میگزین کی ڈیزاینگ بڑی ہی پروفیشنل ہوتی ہے ۔وہیں مضامین کی ترتیب بھی انتہائی خوبصورت ہے۔
تاہم چند گزارشات ہیں جن پہ اگر غور کیا جاتا تو میرے خیال میں وہ نفع بخش بن سکتا ہے ۔پہلا یہ کہ اس کے ساتھ ملک کی ہر یاست اور ضلع کی خواتیں کو ھادیہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ انگیج کیا جائے،وہیں اس میگزین میں زیادہ سے زیادہ خواتین کا ہی رول رہنا چاہئے ،اس میں لکھنے والی زیادہ تر خواتین ہی ہونی چاہئیں بلکہ ہادیہ کو خواتین کی تربیت کے لئے ایک پلیٹ فارم کی صورت میں پیش کیا جانا چاہئے ۔اسکولی سطح پر بھی طالبات میں اس کو متعارف کروانے کی بہت زیادی ضرورت ہے۔تاکہ ہماری بچیاں اور بہنیں اپنی جوانی کی عمر سے ہی اپنی تربیت کا سامان حاصل کر سکیں ۔اور میری ایک گزارش یہ بھی رہیے گی کہ اگر ہو سکے اس کو پرنٹ کر کے بھی شائع کیا جانا چاہئے ،کیوں کہ ابھی بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو کتاب کے لمس کو زیادہ پسند کر کے مطالعہ کرتے ہیں اور جو خواتین انٹرنیٹ کے ساتھ جُڑی ہوئی نہیں ہیں وہ بھی اس میگزین سے فیضیاب ہو سکتی ہیں ۔خواتین کے مسائل کو ایڈریس کیا جائے ،اسی طرح سے دنیا میںخواتین نے جو بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں ،یا ملکی سطح پر جن خواتین نے اچھا کام کیا ہے اُن کی کہانیوں کو یا اُن کے انٹرویوز لے کر اس میگزین میں اولیت کے ساتھ شامل کیے جائیں ۔ وہیں فکشن جس میں افسانچے وغیرہ بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
مضامین کو مختصر رکھنے کی کوشش کی جائے تاکہ قاری کو اُکتاہٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔الفاظ سادہ اور عام فہم استعمال کیے جائیں تاکہ اسکولی سطح کی طالبات کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو ۔اسی طرح سے ٹیکسٹ کا فانٹ سائز بھی بڑا رکھا جائے تاکہ پڑھنے کے دوران آنکھوں پر زیادہ دبائو نہ پڑے ۔باقی میں’’ ھادیہ ای میگزین‘‘ کی ساری ٹیم کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے انتہائی حساس اور اہم کام کی شروعات کی ہے ،اور بڑی ہی محنت اور شوق سے اس رسالے کو عوام کے لیے مفید بنا کے پیش کرتی ہیں ۔ میں اللہ تعالی سے دست بدعا ہوں کہ ’’ھادیہ ای میگزین‘‘ ترقی کی بلندیوں کو چھو کے ملک و قوم کا نام ساری دنیا میں روشن کریں،آمین !
والسلام

وعلیکم السلام
آپ کے مراسلے سے علم ہوا کہ آپ توجہ سے ھادیہ کے زمرہ جات کو پڑھتے ہیں ۔آپ کی رائے گراں قدر ہے ۔
ہم دل سے ممنون ہیں ۔آپ کے دیگر مشوروں پر ان شاءاللہ عمل آوری کی کوشش کی جائے گی۔
امید ہے آپ کا تعاون ھادیہ کے ساتھ بنارہے گا ۔
شکرا ًجزیلا ۔

ایڈیٹر ھادیہ ای- میگزین

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢