ہر سال عید قرباں کے موقع پرسیدنا ابراہیم علیہ السلام کی یاد ہر مسلمان کے لیے تجدید ہے۔حج و قربانی شعائر اسلام اور سنت ابراہیمی ہے ۔ عصر حاضر میں ان کی زندگی کے چند گوشے جو دعوتِ فکر وعمل دیتے ہیں ،یہاں مذکور ہے ۔

سیدنا ابراہیم ؑاورتربیتِ ذات :

روحانیت کے اس معراج کا بھلا کون تصور کرسکتا ہے۔ کوئی ہے جو کائنات کے نظام کو چلا رہا ہے۔ اس کی تلاش جب تکمیل کو پہنچتی ہے تو’’لا ‘‘کی کلہاڑی تمام معبودان ِباطل کو مسمار کردیتی ہے ۔دل کا بت مسمار ہوتے ہی سبھی طبع زاد بتوں پر بھی کاری ضرب پڑتی ہے ۔ہم اپنے دل میں بیٹھے ان بتوں کا جائزہ لیں کہ اپنےاندرون میں کتنے بت بٹھا رکھے ہیں ۔ ظالم کےخوف کا بت، مستقبل کے اندیشوں کابت، زر و دولت کا بت،شہرت کا بت، غلبہ پانے کا بت، یہ کب ہمارے دلوں کو آزاد کرے گا؟
آپ ؑسخت ترین آزمائش میں مبتلا ہوئے ،آپؑ نےاعلیٰ درجے کا صبر بھی پایا۔ اس پائے کا صبر برگزیدہ نبی سیدنا ابراہیمؑ ہی کا ہوسکتاہے۔ان کو اللہ رب العزت کے لیے اپنی عبودیت اور وفاداری کا ثبوت غیر معمولی طورپر سخت امتحانوں سے گزرکر پیش کرنا پڑا۔ آگ کی آزمائش کو کوئی تاریخ سے سمجھے تو روح کانپ اٹھے، ان حالات میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ ،توکل اورخود سپردگی؛یقینِ کامل ہی سے ممکن ہے ۔
شرح صدر اور اطمینان قلب عقیدے کی مضبوطی کا سبب ہے، جو ان کے اس جملے سے مترشح ہے:
’’ میں نے تویکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا، جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے، اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ یکسوئی کی بڑی معنویت ہے۔ یکسوئی نہ ہوتو عقیدے کو معلق کردے، زندگی سے اطمینان ختم کردے۔ تذبذب اورپس وپیش کی کیفیت کبھی آپ کی گفتگو میں وزن ورعب نہیں پیدا ہونے دیتی۔
حکام ِ خداوندی کو من وعن تسلیم کرلینا کہ دل میں کسی قسم کی کش مکش کا شائبہ تک باقی نہ رہے۔یکسوئی ذہن کے خلجان کو دور کرتی ہے، لہجے میں مضبوطی،خیال میں بالیدگی اور مشن میں سنجیدگی پیدا کرتی ہے ۔بتوں کو توڑ کر بڑے بت کے گلے میں کلہاڑی لٹکادینا ،اس میں جرأت ہے۔جرات، جوش اور فوراََ طیش میں آنے کا نا م نہیں ہے۔ اسکیم دماغ میں عرصے سے تھی، روبہ عمل لانے کے لیے انتظار کی گھڑیوں سے گزرنا پڑا۔ ایک داعی کے لیے لطیف نکتہ یہ بھی تو ہے ،جب سوچ میں توازن ہو،دلائل کے ساتھ تسلیم و رضا ہو، انصاف غالب ہوتو ذہن کے دریچے بھی اسی بنیاد پر کھلتے ہیں۔رویہ میں توازن، انصاف،استدلال اور حکمت و دانائی کا عنصر شامل ہوجاتا ہے۔یہ چیز موجودہ حالات میں ایک مومن کے لیے بڑا اثاثہ ہے۔ مستقل دعوت کی حکمت پر غور فکر ہو ،بہترین موقع کا انتظار اور اس سے بڑی اجتماعیت کو اپیل کرنے والا مضبوط عمل سرزد ہوتا ہے ۔

سیدنا ابراہیمؑ کا رویہ و عمل :

استدلالی بنیادوں پر گفتگواور عمل کی تحریک ،یہ سیدنا ابرہیم علیہ السلام کا خاصہ ہے۔ یہ صفات شخصیت کو پُر اعتماد،بارعب اوراثرپذیر بنادیتی ہیں۔سیدنا ابراہیمؑ کی زندگی میں ستارے،چانداور سورج کو خدا سمجھتے ہوئے خود کلامی میں عقل کے تسلیم نہ کرنے کا اشارہ ملتا ہے ’’جو غروب ہوجائے وہ خدا نہیں ہوسکتا ۔‘‘،’’انہیں کس نے توڑا یہ بڑے بت سے پوچھیے !‘‘یہ دونوں جملے ایک ہی شخص کے ہیں، اول الذکر میں اپنی ذات سے معقولیت اور استدلالی بنیاد پر خود کلامی ہے ، مؤخرالذکر میں اجتماعیت کو معقولیت و استدلال کی بنیاد پر دعوت ہے ۔ پس ثابت ہے کہ اپنی ذات و باطن کے خیالات کا اثر آپ کی دعوت پر بھی صاف نظر آتا ہے ۔ اس خود کلامی میں کش مکش ہے ، تلاش و جستجو ہے ۔اس تلاش کے بعد مکمل شرک کے ماحول میں عقل کا کسی ناپائیدار چیز کو تسلیم نہ کرنا سب سے اہم نکتہ ہے۔بظاہر انسان قوت طاقت،اقتدار اور ظالم کو صاحبِ اختیار دیکھ کر مرعوب ہوسکتا ہے۔ سیدنا ابراہیمؑ نےبت ساز کے گھر میں تربیت پائی ،ناپائدار خداؤں سے بیزاری رہی، حق ذہن پر چھایا رہا، حق کی تلاش ،انسان پر غالب ہوتو اس کا عمل دوام پاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم نے اپنی دعوت قوم کے سامنے رکھی، اور استدلال کا اچھوتا اسلوب اختیار کیا، جس نے قوم کو لا جواب کر دیا۔ انہوں نے بادشاہِ وقت کو بھی اپنی دعوت سے روشناس کرایا۔

خاندان ابراہیمؑ:

سیدنا ابراہیمؑ کے پاس ابتدا ءہی سے مضبوط سہارا گھر ہی کے افراد لوط علیہ السلام اور بی بی سارہ رہی ہیں۔ خونی رشتوں سے مایوس نہ ہونے کا پیغام بھی ہے، خاندان کی تربیت کا نہج متوجہ کرتا ہے اور بے شمار سوالات ذہن کے قرطاس پر ابھرتے ہیں ۔کیوں ؟کیسے ؟ کب اور کن حالات میں ایک شخص کی آزمائش مکمل ہوجاتی ہے؟آزمائش کی تکمیل کیا ہے ؟ کس درجہ رب سے محبت کا تقاضہ ہے؟کون سے درجے پر محبت عشق میں بدل کر دنیا کی ہر طمع سے بے نیاز کردیتی ہے ؟کس پائے کی سعی رہتی دنیا تک کے لیے دوام کا سبب بنی تھی ؟کیا یہ دعا تھی جوپورےاحساس کے ساتھ کی گئی تھی:

وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا

’’اے میرے رب!اس شہر کو امن کا شہر بنا دے۔ ‘‘کون سا نشہ تھا جو والدین نے کیاتو اس کے اثرات اولاد کی تربیت میں بھی نظر آتے ہیں ؟کیا تڑپ تھی جس میں اپنے رب سے پوچھا گیا تھا کہ’’ کیا یہ وعدہ میری اولاد کے ساتھ بھی ہے؟‘‘ اور جواب میں فرمایا گیا کہ’’ میرا وعدہ سرکشوں کے ساتھ نہیں ہے ۔‘‘کون سی دعا ہے جو مستجاب ہوکر ایک سنسان وادی کو پر امن شہر میں بدل دیتی ہے ؟کون سی بے قراری، سعی و جہد دنیا کے مثال بن جاتی ہے ؟ان باتوں پر غور کریں تو ممکن ہے کہ اس کے عشرِ عشیر کو ہی سہی ،ہم پہنچ سکیں ۔
ابراہیم علیہ سلام نے ہاجرہ کو وہی ربِ کریم سے عشق، وہی جذبۂ ایمانی، توکل کے ساتھ ساتھ وہی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت، راضی بہ رضا رہنے کی قوت، خوشنودئ رب کے لیے فنا ہوجانے کا احساس ،احساسِ ذمہ داری ؛ایک استاذکی طرح سکھادی ۔پھر ذمہ دار ہاتھوں میں جب وہ اس قابل ہوئیں کہ تربیت کا بوجھ سہار سکیں تب رب نے اولاد جیسی نعمت سے سرفراز کیا ۔اللہ اپنی حکمت کے ساتھ بندے کی دعا کو ثمر آور بنا دیتا ہے،ہم سیدنا ابراہیمؑ کو والد کے طور پر انتہائی ذمہ دار پاتے ہیں۔ اللہ کی قربت اسی درجے حضرت اسماعیلؑ میں بھی نظر آتی ہے، اس جواب کو دیکھیے !

قَالَ يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ‌ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ ۞

کہا ’’ ابا جان !جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے ، آپ اِنْ شاءَ اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔ ‘‘
بچے کے دل کوحب ا للہ سے بھر دینا ،فرائض پدری کی اعلیٰ ترین مثال ہے ۔ یاد رہے وفا شعاری،اخلاقیات، امن پسندی، مثبت سوچ، جذبۂ قربانی، یہ خدا خوفی خاندانی استحکام کی بنیاد ہے اور یہ نسلوں میں والدین سے منتقل ہوتی ہے ۔کعبۃ اللہ کی تعمیر میں پدر و فرزند ساتھ نظر آتے ہیں ،دعا کا ورد جاری ہے ۔

دعا :

وہی کامیاب ہوا جس نے اللہ پر پورے شعور کے ساتھ ایمان رکھا،جب ہر بت پاش پاش ہو تو پھر کو ن سی خدائی کا خوف غالب آسکتا ہے ۔۔نمرود کی جھلسادینے والی آگ بھی ایمان کی کسوٹی پر ایک خراش کی بھی حیثیت نہیں رکھتی ۔ملک و وطن کو چھوڑنے پر اگر کوئی چیز مجبور کرتی ہے تو وہ دنیا کی مال و متاع، شہرت اور عظمت نہیں بلکہ رب کائنات کا عشق ہے۔ ’’میرے رب !مجھے پاک اولاد عطا فرما۔‘‘ (آل عمران)اور خلیل اللہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی آنے والی نسلوں کو نیک بنانے کی یوں دعا مانگی، مفہوم: ’’ اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور میری اولاد کو۔‘‘ (سورۂ ابراہیم)
اس قبولیت میں بڑھاپے تک صبر کرنا پڑا ۔ہم اپنی دعاؤں کی عجلت کا جائزہ لیں، اور اس ایمان کا جس میں آزمائش سے گھبرا کر ہم ہاتھ اٹھاتے ہیں کہ اے رب ! باطل کو آج اور ابھی نیست و نابود کر ،ظلم کی اس انتہا سے ہمیں نکال دے ۔کیا کبھی ان مقدس دعاؤں کی قبولیت کے دورانیہ کا جائزہ لیا یا دعا کے مستجاب ہونے کی حکمت کا جائزہ لیا ؟آزمایش کے دورانیہ کے طویل ہونے میں بھی اللہ کی حکمت ہے ،اس پر بھی مومن کا یقین پختہ ہونا لازم ہے ۔
توکل :

ایمان کی دولت سے توکل کی کیفیت انسان میں پیدا ہوتی ہے ۔ آزمائش کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا بھی انتہاء درجے کی روحانی بالیدگی پر موقوف ہے۔ابراہیم علیہ السلام کی زندگی آزمائش میں پورا اترنے کے بعد دوام کا اشارہ دیتی ہے ۔
حضرت ابراہیم ؑبیٹے کی قربانی کے امتحان میں کامیاب ہوئے تو اللہ تعالی نے ان کو بی بی سارہ کے بطن سے ایک فرزند اسحاق ؑعطا کیا،اور اسحاقؑ کی نسل میں ان کے لیے یعقوبؑ کے تولد ہونے کی بشارت ہوئی ۔ یہ بشارت سن کر ابراہیم ؑکی زبان سے بے ساختہ یہ جملہ نکلاکہ’’ کاش اسماعیل تیرے حضور جیتارہے۔‘‘ اس پر اللہ تعالی نے وعدہ فرمایا کہ’’اسماعیل کےحق میں میں نے تیری دعاسنی ۔ دیکھ، میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا، اور اسے بہت چڑھاؤں گا، اور اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے، اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا ۔‘‘
( پیدائش 17:20…18)
آج ہم اس وعدے کو سچا ہوتا دیکھ سکتے ہیں جو ہمارے لیے بھی عمل کی تحریک اور دوام کا پیغام ہے ۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢