میں تھکا ہارا شام کوآفس سے گھر لوٹا تو میری بیٹی ٹی وی پر کچھ دیکھ رہی تھی۔ میں نےحسب عادت گھر میں داخل ہوتے ہی بڑی گرمجوشی سےبیٹی کو مسکرا کر پکارا تو اس نے مجھے بغیر دیکھے ہی ہاتھ اٹھا کر جواب دے دیا ۔ میں صوفے پر نیم دراز ہو گیا اور بیٹی سے پانی مانگا ۔ بیٹی نے شاید سنا نہیں، یہ سوچ کر میں نے دوبارہ تقاضہ کیا۔ ٹی وی پر اشتہار آتے ہی بیٹی دوڑی دوڑی کچن سے میرے لیے پانی لے آئی اور دوبارہ ٹی وی کے سامنےبیٹھ گئ۔ پانی سادہ تھا ،میں نے ٹھنڈا پانی لانے کے لئے کہا تو وہ چڑ کر دوبارہ اٹھی اور ٹھنڈے پانی کی بوتل میرے ہاتھ میں تھما کر دوبارہ ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہو گئ۔
ٍٍمیں نے تھوڑی دیر رک کر اس سے سوال کیا کہ’’آج کالج کا دن کیسا گزرا ؟ ‘‘ تو اس نے کہا ’’ پاپا ! جیسا روز گزرتا ہے،آج کیا نئی بات ہوئی ہو گی۔‘‘
میں نے اندازہ لگا لیا کہ ٹی وی پر ضرور اس کی پسند کا کوئی پروگرام چل رہا ہے، لہٰذا میں نے مزید اسے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اپنے کمرے میں چلا آیا۔
موبائل فون پر بہت سارے میسجز تھے، جنہیں دن بھر کی مصروفیت کے سبب میں دیکھ نہیں پایا تھا۔ میں نے واٹس ایپ آن کیا تو میری بیٹی نےصبح میں ایک GIF بھیجا تھا جس میںHappy Father’s Day کا ایک خوبصورت کارڈ تھا اور اس کے WhatsApp Status پر میری اور اس کی پیاری سی تصویر لگی ہوئی تھی،جس کے نیچے لکھاتھا:

Your Presence is a gift to me
Love You Papa.

2 Comments

  1. ا

    اس واقع سے دو باتیں سامنے آتی ہیں ۔

    ١ یہ کہ صرف کفظ ” آٸ لو پاپا” کہ دینے ست محبت کا اظہار نہءں ہوتا
    بلکہ والدین فرماںبرداریہی اصل محبت ہے

    Reply
  2. khursheed iquebsl

    رشتہ داری صرف کاغذی بن کررہ گیاہے
    اس دور میں تعلیم وتعلم کی ترقی ضرور ہوئی ہے مگرتربیت اور رشتہ ناطہ کی حقیقت سے یکسر کھوکھلی ہوچکی ہے

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢