تبصرہ وتجزیہ : ناہیدطاہرریاض ،سعودی عرب

یہ جس کسی کی بھی آپ بیتی ہے بہت ہی درد ناک اور تکلیف دہ ہے۔ رب العالمین اُس بندی کے حق میں آسانیاں پیدا فرمائے، آمین۔
قرآن مجید میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا ذکر کئی مرتبہ آیا ہے، یہ قوم بہت ہی سرکش اور بداخلاق تھی ۔اس قوم نے اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں سے تعلق رکھا۔ افسوس !اپنی اس بدکرداری کو وہ قطعی عیب نہیں سمجھتے تھے، بلکہ کھلم کھلا اس گناہ میں ملوث تھے۔
رب العالمین کا عذاب ایسا نازل ہوا کہ ان کی آبادی کو زمین کی طرف الٹ دیا گیا، اور پھر ان پر پتھروں کی بارش ہوئی اس طرح قوم لوط کا نام ونشان مٹادیا گیا۔
تم نے روداد بہترین انداز میں پیش کی ہے ۔اس بات کے لیے میں تمہیں تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ رب العالمین نے تمھیں سماجی مسائل اور ان کے حل کے لیے جس عہدے پر فائز کیا ہے،یہ بھی رب کی جانب سے ایک انعام ہی ہے ، تم اس انعام کے قابل تھیں، تبھی یہ مقام یہ کرسی تمہیںحاصل ہوئی ہے۔میری دعا ہے رب تمہیں اور زیادہ ترقی سے سرفراز فرمائے، آمین۔
تمہارے سوالات ایسے ہیں جنہیں میں نظر انداز کرکے اپنی بات یہیں ختم نہیں کرسکتی۔میں چاہتی ہوں ان کے جوابات لکھوں۔میرے جوابات پر کسی کی اتفاق رائے لازم نہیں۔

سوال:
(1)ہم جنس پرستی ایک فکری موضوع ہے ۔کیا اس موضوع کو’’موضوع ممنوعہ‘‘ مان کر یکسر نظر انداز کر دینا چاہیے، یا اس پر کھل کر گفتگو کرنی چاہیے؟

جواب : نظر انداز کسی صورت نہیں کرنی چاہیے۔ اس پر کھل کر گفتگو کرنی تو چاہیے،لیکن جب بات ڈھکے چھپے انداز میں سمجھائی جارہی ہے اور سامنے والا ہمارا اشارہ سمجھنے میں کامیاب ہے تو پھر کھل کر کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہاں میں اپنا خیال ظاہر کررہی ہوں ۔ہوسکتا تمہیں یا کسی اور کو اس بات پر اتفاق نہیں ہو۔اب دیکھو اگر ہم کھل کر بات کررہے ہیں ،کچھ معصوم ذہن ایسے بھی ہیں جنہیں تجسس اور کھوج پیدا ہوگی کہ یہ لیسبیَن کیا چیز ہے ؟ تجسس کی تسکین کی خاطر کھوج جاری ہوگی ،جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوسکتاہے اور یہ کھوج کس موڑ پر لیے جائے گی ،اللہ ہی بہتر جانے۔
تم نے تحریر میں ان ویب سائٹس کے نام بھی لکھے ہیں(انہوں نے ’گرینڈر‘ اور ’پلاٹینیئم رومیو‘ نامی ایپس جوائن کررکھاہے، جہاں ہم جنس پرستوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئرکیے جاتے ہیں۔ )جبکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔جو لوگ اس شیطانیت میں ملوث ہیں، انہیں ایک طرح سے تم نے ویب سائٹس کا پتہ ،ایڈریس فراہم کیا ہے کہ فلاں ویب سائٹس پر تم جاکر اپنی گندگی کی تسکین پاسکتے ہو۔مصلحت اور حکمت کے ذریعے اشاروں کنایوں میں بات سمجھائی جائے ۔

(2)گلبدن کے شوہر کی بد اعمالی کو شیطان کا بہکاوا مان کر بہت ہی آسانی سے سنبھلنے کا موقع دیا گیا۔کیا خواتین سے ہونے والی غلطیوں کو بھی اتنی ہی آسانی سے شیطان کا بہکاوا مان کر قبول کیا جاتا ہے؟کیا انہیں بھی خود سے سنبھلنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے ؟ اگر نہیں تو پھر یہ امتیاز کیوں ؟

جواب:بھئی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہم جنس پرستی پر لعنت بھیجی ہے۔حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا کیا انجام ہوا؟ یہاں تمہارا سوال بالکل غلط ہے کہ اگر نہیں تو پھر یہ امتیاز کیوں ؟کسی حق کی بات نہیں چل رہی جو مصنفہ نے سوال کھڑا کیا۔یہ عمل چاہے مرد یا عورت، کسی سےبھی سرزد ہو،دونوں کو یکساں گناہ کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔بس اس کے آگے کچھ نہیں۔

(3)ہم جنس پرستی جرم ہے ۔ہمارے نوجوانوں کو اس جرم سے محفوظ رکھنے کے لئے ہماری مساجد اور مذہبی رہنماؤں ،اداروں کے پاس کیا کوئی حکمت عملی ہے؟

س سوال میں تم نے جرم لکھاہے۔بہتر ہوتا لکھتیں گناہِ عظیم۔یہ گناہ عظیم ہی ہے، رب العالمین اس گناہ سے تمام معاشرے کو محفوظ رکھے، آمین!
والدین کو چاہیے بچوں پر سخت نظر رکھیں۔ دس سال کی عمر میں بچوں کے بستر جدا کردیں۔چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ،بچوں کی حرکات و سکنات اور ان کےدوستوں کا دائرہ کس قسم کا ہے؟ اس پر نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔لڑکپن ایک ایسی عمر ہے جہاں بچوں کے بگڑنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔اگر اس راہ کو بچوں نے نیک اخلاقی کے ساتھ عبور کرلیا تو پھر تاعمر ، کہیں کسی موڑ پر انسان کے بھٹکنے کے امکانات صفر تو نہیں، ہاں بہت کم ضرور ہوتے ہیں۔
’’ اگر یہی عمل آپ کرتیں تو…؟ ‘‘
یہاں آخری کا سوال بھی غیر ضروری ہے۔

پچیس لفظوں کی کہانی

مستقبل
شہر کے جس مصروف ترین چوک پر چھوٹے بچے بھیک مانگ رہے تھے،اس کے ٹھیک سامنے ایک بڑے سے ہورڈنگ پر لکھا تھا: ” بچے ہمارا مستقبل ہیں۔“

   احمد بن نذر

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢