یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم آپﷺکے امتی ہیں، اور آپﷺاللہ کے وہ نبی ہیں جو سارے جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائےکہ آپ ﷺ کے سایۂ عاطفت میں ایک ایسا ابدی اور آفاقی پیغام دنیا والوں کو ملا جو جو ہر عصر اور ہر دور کیلے راہ نما ہے، جس کےاندر ہر زمانے کی راہنمائی کے لیے مکمل اور جامع اصول موجود ہیں ۔ان اصول وضوابط کی تشریح و تفسیر کے لیے اور ان پر مبنی پیغام جاودانی کے تعارف کے لیےایک دو دن نہیں ،صدیاں درکار ہیں۔ پھر بھی رسول اللہ ؐ کی تعلیمات کا بیان مکمل نہ ہوسکے گا۔
تاہم آج جو موضوع مختص کیا جا رہا ہے، اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم عصر حاضر کے تناظر میں نبی پاکؐ کی تعلیمات میں سے ان زاویوں کی خوشہ چینی کریں جو دور جدید کے انسانوں کے لیے عمل کا پیغام بن کر ابھریں، کہ جن کی بنیاد پر ہم دنیا والوں پر اجاگر کر سکیں کہ ہمارے زندہ و جاوداں نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے متحرک اور زندہ جاوید اصول و ضوابط آج بھی دکھی انسانیت کے لیے ان کے مصائب وآلام کا مکمل اور آخری مداوا ہیں۔ دور جدید کا انسان ان کو اختیار کرکے یقیناً سکھ اور چین کی زندگی بسر کر سکتا ہے۔
نبی کریمﷺ کے پیغام کی آفاقیت اور جامعیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمارے واسطے عصر حاضر کے تناظر میں سیرت طیبہ کے پیغامِ عظیم کی نشاندہی سے پہلے یہ لازم ہے کہ موضوع کے عنوان میں ’’عصر حاضر‘‘ کی اصطلاح کا معنوی تعین کیا جائے۔ میرے نزدیک عصر حاضر سے مراد آج کا معاشی و سیاسی ترقی یافتہ دور ہے کہ جس میں معاشی و سائنسی عوامل نے پوری دنیا کو انسانوں کی ایک بستی کی صورت میں پلٹ دینے کی سعی کی ہے۔
آج کے دور کے ذرائع ابلاغ اور مواصلاتی نظام نےجس طریقے سے مختلف ذہنوں اور ملکوں کو یکجا کر دیا ہے، اس کا تقاضہ یہ ہے کہ کسی بھی پیغام کی ترتیب سے پہلے دور جدید کے ان مخاطبین کو سامنے رکھا جائے جو آج کے آفاقی شہر کے مشترکہ شہری ہیں ،جن میں ذہنی اور عملی بیشتر سرحدوں کو پاٹ کررکھ دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں موضوع کے عنوان میں عصر حاضر کی اصطلاح مخاطبین کو دو بڑے حصوں میں جدا کرتی ہے کہ جن کے سامنے سیرت طیبہ کے عظیم پیغام کو پیش کیا جائے ۔خاص طورپر اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ۖ کے قرآنی تصور کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انفس و آفاق اور کل زمان و مکان پر پھیلی ہوئی وسیع و ہمہ گیر امت ،جس کی جانب آپ بھیجے گئے ،دو بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔
ایک امت اجابت ،جسے یا ایھا الذین اٰمنوا کہہ کر مخاطب فرمایا، اور دوسری امت دعوت، جسے یاایھاالناس کے خطاب سے نوازا۔ پورا عالم اسلام امت اجابت کا درجہ رکھتا ہے جس نے آپ کے پیغام کو عقیدہ و ایمان کا جز بنا رکھا ہے، اور وہ مسلمان ہونے اور آپ ﷺ کے پیروکار ہونے کے دعوے دار ہیں ۔اس کے برخلاف مسلمانوں کے علاوہ ہر خطے،ہر دور اور ہر زمانے کے تمام پر بقیہ انسان جو آپﷺ پر ایمان لانے سے قاصر ہیں، آپ ﷺ کی امت کا حصہ اور جزو لا ینفک ہوتے ہوئے امت دعوت کا درجہ رکھتے ہیں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام کائناتی اور آفاقی ہونے کے اعتبار سے امت اجابت اور امت دعوت، ہر دور پر حاوی ہے۔ اور ہر دور میں آغاز سے لےکر زمانۂ حال تک آپﷺ کے پیغام کا تعین کریں ،اور دور جدید میں ہر دور کے حالات کا جائزہ لیکر سیرت طیبہ کا پیغام انہیں سنائیں۔
چنانچہ اس لحاظ سے جو پیغام فی الوقت امت اجابت اور اہل اسلام کے لئے مختص کیا جاسکتا ہے، اس میں سب سے اولین شے امت کا اتحاد اور اتفاق ہے، جو کہ عالم اسلام کی سب سے بڑی اور فوری ضرورت ہے، اور جس کے بغیر امت مسلمہ کی کامیابی کسی طور پر ممکن نہیں، چنانچہ فرمایا ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ ڈالو ‘ اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب تم (آپس میں) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کے کرم سے آپس میں بھائی بھائی ہوگئے اور تم دوزخ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تم کو اس سے نجات دی ‘ اللہ اسی طرح تمہارے لیے اپنی آیتوں کو بیان فرماتا ہے۔ تاکہ تم ہدایت پاؤ‘‘(سورۃ آل عمران، آیت:۱۰۳)
ویسے تو اس آیت کی روشنی میں ہر دور اور ہر زمانے میں ایمان والوں کے لیے اتفاق و اتحاد کی اہمیت کی وضاحت کی گئی ہے، لیکن عالم اسلام کے حالات حاضرہ کے پیش نظر اس آیت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایمان والوں نے عمل کے ان زاویوں کو کو بالائے طاق رکھ دیا ہے، جو سنت مطہرہ کا اہم تقاضا ہیں، تب سے عالم اسلام بھیانک قسم کے بحران کا شکار ہے ۔بھائی بھائی کے خلاف برسرپیکار ہے، اور غیر ملکی و اجنبی نظریات و افکار کی عالم اسلام پر یلغار ہے، نتیجہ یہ ہے کہ ہم اسلام کے سنہرےاصولوں کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ کروڑوں پر مشتمل’’بنیان مرصوص‘‘بن کر ابھرنے اور پنپنے کے بجائے ہم منتشر انسانوں کی بھیڑ اور جم غفیر بن کر رہ جانے پر مجبور ہیں۔مادی اور معاشی ذرائع پر مشتمل بے شمار قوتوں کے مالک ہوتے ہوئے بھی ہم دوسروں کی نظروں میں بالکل ضعیف اور کمزور ہیں، اور وہ وقت آن پہنچا ہے کہ نبیٔ کریمﷺ کے فرمان کے مطابق کثرت باوجود ہماری مثال سیلاب کے پانی پر اٹھنے والے جھاگ کی سی ہے، اور نتیجہ یہ ہوتا ہےکہ ہمارے اوپر بعض اوقات ایسی بلائیں بھی ٹوٹتی ہیں کہ ہم بے عملی کا شکار ہونا تو درکنار، اجنبی نظریات کے بہاؤ میں آکر اپنی فکر، اپنے تصور، نظریہ اور ایمان سے بھی ہاتھ دھونے کو مجبور ہوتے ہیں۔ اس سنگین صورتحال میں عالمِ اسلام کیلے وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللٰهِ کے قول جمیل کی صورت میں ہمارے لیے ایک زریں پیغام عمل موجود ہے ،جو آپﷺ کی سیرت طیبہ سے ایمان والوں کو جھنجھوڑ کر اور خبردار کرکے آج کے وقت میں دیا جارہا ہے۔
یقین مانیں! کہ توحید و رسالت کی بے مثال اکائی کی بنیاد پر قائم ہونے والی امت واحدہ جس وقت انتشار اور ابتری میں منہمک دکھائی دیتی ہے تو چرخِ نیلگوں بھی خون کے آنسو روتا ہے، کلیجہ منہ کو آتا ہے ،یہی وہ کیفیت ہے جسکے مداوا کیلے علامہ اقبال کہہ گئے:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
اتحاد اور اتفاق کے اس اہم ترین سبق باوجود ہماری صورت حال یہ ہے کہ وہ نبیﷺ جو پورے عالم انسانیت کے نبی ہیں ، جن کا پیغام ازلی اور ابدی ہے ،ان کے ماننے والوں نے اپنوں کے درمیان اختلاف و انتشار کی بنیاد پر ایسی سرحدیں قائم کر لی ہیں کہ ہر کوئی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد پر سر بکف ہے ،اور ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہونے کو نجات آخرت کی دلیل سمجھ رہا ہے۔انہوں نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا اور نبی ﷺ کے فرمان کو نظر انداز کرکے تعارف و تفاخر کے ایسے معیار قائم کر رکھے ہیں جن کا سیرت طیبہ سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔
اسی بنا پر سیرت کے عملی پہلو کو اس دور میں اجاگر کرنا اس قدر ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے انحطاط اور سقوط کی آج کے دور میں سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ اسلام تو آیا ہی اس لیے ہےکہ لوگوں کو عمل کرنا سکھائےاور عملی زندگی کے ہر زاویے میں انسانوں کی رہنمائی کرے۔
اس پیغام عمل کو کو مفصل اور مختصر طور پر نافذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مسلمان اس عمل بالمعروف اور اس اجتناب عن المنکر کے اصول کو اپنائے ،جس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے سارے زاویوں کی ایسی بنیادوں پر تعمیر نو کی جائے جن سے اسلامی معاشرتی زندگی میں طہارت و پاکیزگی، توسط و اعتدال، حسن معاملہ اور حسن سلوک کی اقدار اجاگر ہو جائیں۔
لیکن یہ بات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اعمال میں، اخلاق میں، اطوار اور احوال میں خدا خوفی اور تقوی کی روح کو جاری و ساری کرنے کی سعی پیہم نہ کی جائے، کہ ہر دم، ہر قدم پر ایمان والا چلنے سے پہلے پھونک پھونک کر قدم رکھے۔ مبادا کہ میرے اس کام سے میرا رب ناراض تو نہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے کہ جسے قرآن انسانوں میں پیدا کرکے انسانیت کو شرافت اور عظمت سے ہم کنار کرنا چاہتا ہے، کیونکہ اللہ پاک کے یہاں شرافت و عظمت کا معیار ہی یہی ہے۔

اقبال کہہ گئے:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
اتحاد اور اتفاق کے اس اہم ترین سبق باوجود ہماری صورت حال یہ ہے کہ وہ نبیﷺ جو پورے عالم انسانیت کے نبی ہیں ، جن کا پیغام ازلی اور ابدی ہے ،ان کے ماننے والوں نے اپنوں کے درمیان اختلاف و انتشار کی بنیاد پر ایسی سرحدیں قائم کر لی ہیں کہ ہر کوئی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد پر سر بکف ہے ،اور ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہونے کو نجات آخرت کی دلیل سمجھ رہا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ٢٠٢٢